تمھارے بعد
تمھارے بعد کیا رکھتے کسی سے واسطہ
تمھاری بے رخی نے ہمیں برف کر ڈالا
دیکھو ہم نہ کہتے تھے وقت ظالم ہے
بھلا دیا تمہیں بھی،وقت نے یہ اثر ڈالا
واسطوں سے بھلا کب تعلق بنتے ہیں
یہ احساس بھی دل میں عمر بھر ڈالا
یہ چہرہ اب کبھی نہ دکھائی دے گا تجھے
جدائی کی آگ نے خاکستر کر ڈالا
محبت پلان تھوڑی ہے کہ سوچو اور کرو
یہ وہ خیال ہے ،جو من میں آیا اور کر ڈالا
عالیہ جمشیدخاکوانی

حصہ