جانے کیوں

جانے کیوں اب مجھ سے مسکرایا نہیں جاتا
ہنستی ہوں جب تو چھلک جاتی ہیں آنکھیں
دل کا ملال مجھ سے چھپایا نہیں جاتا
اس ملک کی اندھی گلیوں میں جب ظلم کے پہرے لگتے ہیں
ان دکھی دلوں کو جھوٹا خواب دکھلایا نہیں جاتا
ظلم، نا انصافی دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہیں آنکھیں
اب اور ان زخمی آنکھوں کو رلایا نہیں جاتا
ہر روز امید کا دروازہ کھلتا ہے ،بند ہوتا ہے
آخر کیوں ان ظالم لوگوں کو لٹکایا نہیں جاتا……

حصہ