’’کچھ وقت تو لگے گا تجھے بھلانے میں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔( شمائلہ ناز )
کچھ وقت تو لگے گا تُجھے بھُلانے میں
ذہنوں کو تاب لانے میں
درد کو دوا دلانے میں
اپنے ہاتھوں کی مہندی سے ترا نام مٹانے میں
اپنے قدموں کی آہٹ کو تیری گلیوں سے جانے میں
کچھ وقت تو لگے گا تُجھے بھُلانے میں
مگر اب بھی یہ دل تڑپ کر کہتا ہے
ہم تُجھے بے اختیار یاد کرتے ہیں
بے پناہ پیار کرتے ہیں
اورمحبت کا اظہار کرتے ہیں
تُجھ بن نہ جی پاتے ہیں نہ مرتے ہیں
تمہاری یاد آنکھوں میں نظر بن کر رہتی ہے
تہماری بہت باتیں بہت یاد آتی ہیں ۔
تمہاری یادیں بہت ہی تڑپاتی ہیں
بس اُن سے اتنا کہ دے کوئی ۔۔۔۔
ابھی ابھی شاخ سے جُدا ہوا ہے پھول
کُچھ وقت تو لگے گا اُسے مرجھانے میں
اور بکھر جانے میں .
کچھ وقت تو لگے گا تُجھے بھلانے میں

حصہ