انحراف فورم پر منعقد طرحی مشاعرے میں کہے گئے فی البدیہہ اشعار ….

زمانے کی فصیلوں کو گرا کر
کبھی دیکھیں گے خود کو آزما کر

تمھارے عکس کو بھی لے نہ جائے
مرے اشکوں کا یہ ریلا بہا کر

ملیں گے ہم ہمیشہ مسکرا کر !.
زمانے تجھ سے اپنے غم چھپا کر

اک ابن الوقت وعدوں کو بھلا کر
” نکل جائے گا پھر دامن بچا کر ”

مرے دل پر بھی نازل ہو سکینہ
مرے مرشد مرے حق میں دعا کر

تمھاری راہ کو روشن کیا ہے
چراغ جان کو اپنی جلا کر

کسی دن ہم تمھارے خاکداں کو
چلے جائیں گے اک ٹھوکر لگا کر

تمھارا راستہ ہموار کردوں ؟
میں اپنی ذات کا پتھر ہٹا کر

فلک کے پار مجھ کو دیکھنا ہے
ستاروں سے بھری چادر ہٹا کر

کھلی آنکھوں میں سپنے دیکھتی ہوں
خود اپنی نیند کا پنچھی اڑا کر

( شاھدہ مجید )

حصہ