ایدھی آنکھیں رکھ لیتے تم
کوئی ان سے کیا دیکھے گا
جو اوروں کو نہ دکھتا ہو
بھوک، گھٹن، غربت کے مارے
گھر سے بھاگی عورتیں، بچے
لاشیں، زخمی ،
کوڑے پر، گندی نالی میں
ادھ کھائے ، ادھ کچرے بچے
شاپنگ بیگ میں پڑے گنہ
وہ تو ہم سب دیکھتے ہیں
سب کچھ اب بھی دیکھتے ہیں
توبہ توبہ کرتا کوئی
کوئی نفرت سے تھوکے، اور
جننے والی کوکھ کو گالی دے
اور بس۔۔۔۔۔
سکھ کا جھولا کون ہلائے
کون کسی کا درد سمیٹے
دکھ کے ننگے جسم پہ سکھ کی
شال اڑھانے والا کون؟
آنکھیں تو سب رکھتے ہیں
سب دیکھتے ہیں
ایدھی تم آنکھیں رکھ لیتے
کسی کو اپنا دل دے جاتے
13590394_1732558493664853_7264143490247471356_n

حصہ