شاعری

میں آپ اپنا اوتار ………………. طارق خان نیازی

میں آپ اپنا اوتار
طارق خآن نیازی
سمندر پار پاکستانیوں کا دکھ
میں عشق الست پرست ہوں کھولوں روحوں کے بھید
میرا نام سنہرا سانورا اک سندرتا کا وید
میری آنکھ قلندر قادری میرا سینہ ہے بغداد
میرا ماتھا دن اجمیر کا دل پاک پتن آباد
میں کھرچوں ناخن شوق سے ایک شبدھ بھری دیوار
وہ شبدھ بھری دیوار ہے یہ رنگ سجا سنسار
میں خآص صحیفہ عشق کا میرے سپنے ہیں گلزار
میں دیپک گراستھان کا میری “کو“میٹھی اور تیز
میں پریم بھری اک آتما جو خود میں دھیان کرے
یہ پیڑ پرندے تتلیاں میری روح کے سائے میں
یہ جتنے گھائل لوگ ہیں میرے ماں جائے سارے
میں دور حسد کی آگ سے میں صرف بھلے کا روپ
میں جیوتی جیون روپ کی جو برسے گیان کرے
میرا ظاہر باطن خیر ہے میں گیان کی اجلی دھوپ
میں مکت ھوا ہر بوجھ سے اب کیا چنتا کیا دکھ
رھے ھردم یار نگاہ میں میرے نین سکھ ہی سکھ
ہیں ایک سو چودہ سورتیں بس اک صورت کا نور
وہ صورت سوھنے یار کی جو احسن اور بھرپور
میں آپ اپنا اوتارھوں میں آپ اپنی پہچان
میں دین دھرم سے ماورامیں ہوں حضرت انسان
(عمرخیام کی رباعی اگرپتھر پر لکھ دی جائے تو اس کے معنی بدل نہیں جاتے)
(عمر خیام کا ہی قول ہے کہ قدرت کتنی شاطر اور انسان کتنا سادہ لوح اور بھولا ہے اسی لیے قدرت اپنا دام فریب بچھا تی ہے،اور انسان موہ مایا کا اسیر ھو جاتا ہے،قدرت نے ھی پھول میں خوشبو،ھرن میں کستوری اور عورت میں رعنائی رکھی ،جب قدرت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ اپنا دام فریب سمیٹ لیتی ہے۔۔۔۔اسی لیے پھول مرجھا جاتے ہیں،عورتیں بوڑھی ہو جاتئ ہیں اور ہرن شکار ھو جاتا ھے)

Back to top button