شاعری

غزالہ مشعل کی غزل …………

غزل
کچھ ایسے لمحہ لمحہ گزرا ہے زندگی کا
ہم نے یہی ہے جانا کوئی نہیں کسی کا
____________________
کوئی جنونی انساں زنداں میں بھی نہ چھوڑو
اس سے جنوں بڑھے گا مضبوط دشمنی کا
____________________
رہتا وہی ہے حق پر دل جس کا ہو قلندر
منصور ہی میں پایا احساس بندگی کا
____________________
فاضل کی نکتہ چینی ، جاہل کی دعوے داری
جنت کسی کا ارماں ، جنت گماں کسی کا
____________________
امت بنانے والے اخلاق اب کہاں ہیں
کیوں آج آدمی ہی دشمن ہے آدمی کا
___________________
شہر ہنود میں کیوں وہ کٹ کے گر گیا ہے
ہم نے ہے جو بڑھایا اک ہاتھ دوستی کا
____________________
ان کو ہی پوجتے تھے از خود جنھیں تراشا
پھر راستہ دکھایا قرآں نے روشنی کا
_____________________
ہم کو یقیں ہے اک دن ہوگی سحر میسر
بدلے گا دیکھنا جب موسم یہ تیرگی کا
_____________________
شہر غبار چھپ جا پیچھے فصیل غم کے
لگتا ہے حملہ ہوگا اب پھر سے بے بسی کا
____________________
اپنی انا کو مشعل! یوں ڈھال ہے بنایا
عزت کی قدر پائی ، سیکھا ہنر خودی کا
غزالہ مَشعل کراچی ( پاکستان)

Back to top button