غزل …………. نیلم ملک

اﻧﺪﺍﺯِ ﺗﮑﻠﻢ ہے جُدا اس لئے سب سے
کہہ لیتا ہے ﺗُﻮ بات ﭘُﺮانی نئے ڈهب سے
..
اِس عِشق سے پہلے تو فقط عُمر گُزاری
جینے کا تو آغاز ہی میں نے کِیا ﺍَب سے
..
مانا ہے ترے ہجر کو جس دن سے مسیحا
ﻣُﺠﮫ وصل گزیدہ نے شفا پائی ہے تب سے
..
ﺍَنفاس تلک درد کے قبضے میں ہیں ایسے
آزاد نہ ہو پائے ہے اِک آہ بهی لب سے
..
زِچ کرنے پہ مائل ہے مُجهے ﺍُس کی کریمی
یہ لوگ ڈراتے ہی رہے جس کے غضب سے
..
وہ ﺭَﺏ ہے سو وہ بخش بهی دیتا ہے خطائیں
یہ میں ﮨُﻮں مرے سامنے رہئے گا ﺍَدب سے
..
دیکها نہ کوئی وقت سا صیّاد جہاں میں
تیر ﺍِس کے غضب کے ہیں اور ﺍَہداف عجب سے
..
جب سے ہے سُنی ڈُوبنے والی کی کہانی
دل کرب کے دریا میں بہا جائے ہے تب سے

حصہ