ادبی دنیا

’’بے رنگ ‘‘۔حکمرانوں کی علم بیزاری کے حوالے سے جناب عنایت عادل کی خوبصورت تحریر

بالحق ۔۔
عنایت عادل
بے رنگ
______________

ہر دلعزیزمیاں صاحبان!
بعد از سلام عرض ہے کہ میں (لاہور کی طرح نہ سہی) لیکن کافی حد تک (اب) خیریت سے ہوں۔
میری دھرتی سے تعلق رکھنے والے کچھ سپوت آپ کی تمام تر توجہ حاصل کرتی راجدھانی میں کچھ دن گزار کر آئے ۔ جس کے دوران انہوں نے قوم کے ماضی کے تجربات سے کشید کردہ نتائج کی بنیاد پر حال کے حالات کا جائزہ اور ان دونوں ہی حوالوں کی بنیاد پر مستقبل کی بنیاد رکھنے کی خاطر سجائی جانے والی ایک ’’پڑھی لکھی‘‘ کانفرنس میں حصہ لیا۔شنید تھی کہ تین روزہ اس ’’علمی‘‘ نشست کا فیتہ حاکم پنجاب کے متبرک ہاتھوں سے کاٹا جائے گا مگر ، اللہ قائم دائم رکھے ، ملک میں پھوٹتی امن کی کرنوں کو اپنے نام کرتی ، بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں شہروں کی گلی گلی اور چپے چپے کی خاک چھانتی آپ کی حکومت کے اہم ترین نمائندے اور آپ کے خاندان کے اہم ترین فرد کی جانب سے ارباب و علم و دانش کی امیدوں کو نشست کے شروع ہونے کے پہلے ہی قدم پر اوس کا مزہ اس دلیل کے ساتھ چکھا دیا کہ ’’رنگینیوں کے مرکز‘‘ میں وہ ’’بھیڑ‘‘ سے دور رہنے پر ’’مجبور‘‘ہیں ۔ مایوسیوں کو مات دینے کی کٹھن منزلوں کے راہی قلمکاروں نے سامنے آنے والی اس مایوسی کا گھونٹ اس امید کے ساتھ ہضم کیا کہ نشست کے آخری روز ملک کے وزیر اعظم کی سرپرستی تمام مایوسیوں کو امید کے خزانوں میں بدل دے گی مگر ۔۔۔شاید ریت بجری اور سرئیے سے محروم علم ہو یا کہ شیر کی شان میں قصیدوں سے آزاد منظوم کلام، میاں برادران کے ہاں ناپاک سمجھا جاتا ہے۔۔۔لہٰذا ملک اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے سربراہان ایسی محفلوں کی سرپرستی کے’’ گناہ ‘‘سے تائب ہی ملے۔ بتایا گیا کہ اختتامی تقریب میں محترم گورنر پنجاب جلوہ افروز ہونگے لیکن جالب کی چند سطروں اور چیک بکس کی اکلوتی کتاب سے شناسا کوئی بھی راہنما کتابوں کی ریل پیل کی چاشنی سے دور ہی رہا۔ لے دے کر وزیر اطلاعات نے قدم رنجہ فرمایا تو وہ صحافیوں کے مخصوص اکٹھ کو رام کرنے کے بعد چلتے بنے کہ روزمرہ کی مجبوری آڑے تھی۔جناب عالی۔۔ اس مکتوب کا مقصد آپ کی خدمت میں عرض کرنا ہے کہ ’’علم و ادب‘‘ او ر فن وثقافت‘‘ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو ظاہری طور پر فوائد نہیں پہنچا رہے ہوتے لیکن ان فنون سے وابستہ ہنر مندوں اور قلمکاروں کی محنت معاشرے کو اس قابل بنانے کی دلیل سمجھی جاتی ہے کہ معاشرے میں شامل افراد سیاسی و سماجی طور پر بالغ النظر ہوں اور اسی با لغ نظری کی بنیاد پر معاشرے مثبت روئیوں سے سرشار ہو سکیں جو کہ براہ راست حکمرانوں کوخلفشار سے پاک حکومت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔امید ہے آپ اور آپ کے حلقہ یاران فن و ادب کی محفلوں سے جان چھڑانے کے بجائے دل و جان سے انکی سرپرستی فرمائیں گے تا کہ ملک میں علم و فن اس اوج کمال کو پہنچ سکے کہ جو آپ اور آپ کے قرب سے مستفید ہوتے احباب گزشتہ تیس سالوں میں حاصل کر چکے ہیں۔
فقط۔۔
آپ کی زیر نگیں ریاست کا ادنی سا ٹکڑا۔۔۔ ڈیرہ اسماعیل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم کرتا دھرتاصاحبان جملہ ملکی و صوبائی ادبی تناظیم!
میری دھرتی کے کچھ ناہنجارثپوتوں نے غلطی کر ڈالی کہ وہ ایک آدھ بارزندہ دلان کے شہر لاہور میں سجائی جانے والی ادبی کانفرنسوں اور میلوں میں جا نکلے۔میرا افتخار سمجھیں یا کہ امتیاز، میرے سینے پر چلنے والے تین زبانوں یعنی سرائیکی، اردو اور پشتو بولنے والے مانے جاتے ہیں۔بات شعر و ادب کی ہے تو میری گود میں ان تینوں ہی زبانوں میں شعر ادب جنم لیتا ہے لیکن چند ایک مواقع کے علاوہ، اکثر اوقات میری ہی گود میں کڑھ کڑھ کر جان دے دیتا ہے۔اس کی واحد وجہ جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ تنطیم سازی کے مراحل اور اسکے لئے لازم دستوری مجبوری کے اوقات میں میرے راج دلارے ادیبوں اور شاعروں کو تو آپ اچک اچک کر اپنا ہمنوا بنائے رکھتے ہیں جو کہ انکی شعری وادبی مہارت اور انکی فنی شخصیت کے اعتراف کی بذات خود ایک مضبوط دلیل ہے لیکن جب کہیں ملکی یا بین الاقوامی سطح کے ادبی میلے یا کانفرنس کا ذکر آئے تو آپ مجھے اور میرے ہونہار ادیبوں شاعروں کا ذکر تک کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔حالانکہ ایسی کانفرنسوں میں پشتو، اردو اور سرائیکی ، تینوں زبانوں کے عنوانات کے تحت شعر و ادب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں لیکن ان تینوں ہی زبانوں کی محفلوں میں میرے آنگن کے درخشاں ستارے، کہ جن کی لو کئی ایک مہتابوں کو خیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، آپ کی کوتاہ بینی کے نظر ہوئے جاتے ہیں۔ آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ اگر آپ کی آنکھوں پر کوتاہی، کاہلی ،کم علمی اور یا پھر تعصب کی کوئی عینک براجمان ہے توخدا را اسے اب اتار پھینکئے۔اگر ایسی کوئی عینک میرا وہم ہے تو پھر میرے اس وہم کا مداوا کیجئے۔ دوسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ان ادیبوں اور شاعروں کو اپنی تناظیم کے قابل نہ ہونے کا علی الاعلان اظہار کیجئے۔
نہایت ادب کے ساتھ ،
تین زبانوں کے شعر و ادب سے لبریز۔۔۔ ڈیرہ اسماعیل خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب قوم پرست سرائیکی دانشور و ادباء صاحبان
بعد از سلام، لاہور کے بین الاقوامی ادبی و ثقافتی میلے میں آپ کی سرائیکی بیٹھک کا ’’علم‘‘ ہوا۔ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آخر کار اس ملک کی درجنوں زبانوں میں سے اکثریت کی بولی سمجھی جانے والی سرائیکی کے نام بھی کوئی نشست اس طرح کے عالمی میلے میں شامل کی گئی۔میں اس مراسلے کے ذریعے آپ تمام قابل احترام شخصیات کے زرخیز اذہان کو اس حقیقت کی یادہانی کروانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے یہ زرخیز اذہان آپ کے قلوب کے غلام نہیں ہیں تو مجھے بھی کبھی سرائیکی خطے کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔میرے آنگن میں اس وقت بھی سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت ہے جو اپنی ماں بولی سے اسی قسم کی محبت کا دم بھرتے ہیں کہ جو آپ احباب اپنی نظم و نثر میں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن شاید آپ کو میرے ان بیٹوں کی کاوشوں کا ادراک نہیں اور یا پھر آپ کی سوچیں دریائے سندھ کے پاٹ کو عبور کرنے سے خائف رہتی ہیں۔ جناب من! گھبرائیے نہیں، دریا کے اِس پار بھی سرائیکی کا ایک ایسا خطہ موجود ہے جو اپنی محبت و اخوت اور رواداری کی اپنی مثال آپ ہے جو یہاں کے اردو اور پشتو بولنے والے احباب کو بھی بھائیوں کی سی محبت دئیے رکھتا ہے اور میں خود ان تینوں ہی زبانوں کے حامل افراد کو اپنے تین بیٹوں کی مانند پیار و محبت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ تو ایسی پیار بھری گود ، اور اس میں موجود محبت بھرے دلوں سے خود اس کے بچھڑے بھائی بیٹے کس بات سے خائف ہیں کہ جب کسی عالمی و ملکی سطح پر میری اولین بولی کی بیٹھک سجتی ہے تو صرف دریا کے اُس پار تک محدود رہتی ہے۔حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ میں نے یا میرے بیٹوں نے جب جب بھی سرائیکی کی محفل سجائی تو دریا پار ہی کے اپنے بیٹوں کو نمایاں مقام پر براجمان کروانے کی اپنی قابل فخر روائت برقرار رکھی۔میرے سینے پر پشتو کا کوئی اکٹھ ہوا تو میرے بیٹوں نے پاس پڑوس اور کوتل کے پار سے آنے والوں کی مہمان نوازی میں خود کو خاک نشین کر ڈالا اور اگر کبھی اردو کی کوئی محفل سجی تو میرے ملک کی قومی زبان ہونے کے ناطے میری گود کا ایک ایک گوشہ آنے والے مہمانوں کی آؤ بھگت میں جھومتا نظر آیا۔مخاطبین سے التماس ہے کہ میری گود میں پروان چڑھتے ادباء و شعراء کی علمی و ادبی تخلیقات اور فنکاروں اور ہنرمندوں کی ثقافتی و فنی مہارت سے اگر کوئی خائف نہیں ہے تو ان شہ پاروں کو وہی مقام دیجئے کہ جو ان کا حق ہے۔امید ہے آپ احباب میری گود کو اجڑنے سے بچاتے ہوئے ہر اس موقع و مقام پر میرے بیٹوں کو یاد رکھیں گے کہ جہاں ان جیسے قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال گوہر پاروں کی موجودگی صرف میرے لئے ہی نہیں، خود آپ کے لئے بھی سرمایہ افتخار کا موجب بن سکتی ہے۔
اپنے بیٹوں کے فن پر نازاں، اپنی محرومیوں پر نوحہ کناں
دیرہ(ایک سے بڑھ کر ایک) پھُلاں دا سہرا

Back to top button