ابنِ صفی ….. جاسوسی ناول نگار. ایک جائزہ (ڈاکٹر تہمینہ عباس)
جاسوسی ناول نگاروں میں ابن صفی کا نام نمایاں مقام رکھتا ہے. انھوں نے 1952 سے جاسوسی ناول لکھنا شروع کیے اور 1980 ء میں اپنے انتقال تک تقریبا 250جاسوسی ناول تصنیف کیے۔ مجنوں گورکھ پوری کا کہنا ہے کہ ابن صفی کے جاسوسی ناولوں میں ادبی چاشنی بھی مل جاتی ہے ۔ابن صفی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابو الخیر کشفی اورسرشار صدیقی جیسا علمی ذوق رکھنے والے بھی ابن صفی کے ناولوں کو ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ابن صفی نے اپنے جاسوسی ناولوں میں زندگی کے اہم ترین پہلوؤں پر قلم اٹھایا اور معاشرے کے رستے ہوئے ناسوروں کی نشاندہی کی۔
ابن صفی کا پہلا جاسوسی ناول 1953ء میں ’’دلیر مجرم‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس ناول میں پہلی دفعہ سارجنٹ حمید اور انسپکٹر فریدی کے کردار روشناس کروائے گئے۔ایک ناول ’’ پہاڑوں کی ملکہ ‘‘ رائیڈر میگرڈ ‘‘ کے ناول ’’کنگ سالون مانے ئر‘‘ سے مستعار لیا گیا ہے۔ابن صفی کے ناولوں کی فروخت اردو اور ہندی میں دیگر ناولوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔پروفیسر مجاور حسین رضوی کے مطابق ابن صفی کے ناولوں میں تجسس اور پر اسرار واقعات ،طنز کی شگفتگی اور مزاح کی چاشنی ایک سحر کارانہ کیفیت پیدا کر دیتی ہے کسی بھی زبان کے جاسوسی ناول پڑھیے یہ انداز تحریر نہیں ملے گا۔اس پر مستزاد یہ کہ ایک باوزن ،با وقار دلکش زبان ،واقعات میں نصیحت کا شائبہ تک نہیں ہے نہ جانے کتنے لوگوں نے ان کے ناولوں کے ذریعے اردو سیکھی ہے اور اردو پڑھنے کا ذوق حاصل کیا ہے۔ہندی میں ان کے ناولوں کا ترجمہ شائع ہوا کرتا تھا۔ابن صفی کے ناولوں کی مقبولیت ہندی زبان میں بھی اردو جیسی ہی تھی البتہ ہندی میں ان کے کرداروں کے نام تبدیل کردیے گئے۔فریدی کی جگہ ونود اور عمران کی جگہ راجیش ۔حمید اور قاسم اپنے ناموں کے ساتھ ہندی میں بھی ملتے ہیں ۔حمید ان کا ایسا کردار ہے جو’’ فسانہ آزاد‘‘کے خوجی اور ’’طلسم ہوشربا‘‘کے عمر و عیار کی طرح ہمیشہ زندہ رہے گا۔
ڈاکٹر اعجاز حسین نے ’’اردو ادب آزادی کے بعد‘‘اور ڈاکٹر علی حیدر نے ’’اردو ناول سمت و رفتار‘‘ میں ابن صفی کا ذکر کیا ہے۔ابن صفی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انھوں ے تھکے ہوئے ذہنوں کو صحت مند تفریح مہیا کرنے کی کوشش کی انھوں نے اپنے ناولوں کو دو سیریز میں پیش کیا فریدی سیریز اورعمران سیریز۔ابن صفی کا تخلیق کردہ پہلا اصلی کردار کرنل فریدی ہے جو انسان کم اور ربوٹ زیادہ نظر آتا ہے یہ کردار عقلی اور جسمانی حوالے سے فولادی محسوس ہوتا ہے جب کہ عمران ایک ایسا کردار ہے جو ڈگریوں کی فوج کے باوجود حماقتوں میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اپنی تمام تر حماقتوں کے باوجود اس کے ارد گرد رہنے والے اس کے گرویدہ نظر آتے ہیں ۔
ابن صفی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا ۔ اسرار ناروی کے نام سے مشہور تھے ۔نوح ناروی ابن صفی کے ماموں تھے اور وہ ان سے اصلاح لیا کرتے تھے بعد میں ہائی اسکول میں اپنے استاد مولانا محمد متین شمس سے رجوع کیا۔انھوں نے اپنی نظموں کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جن پر کسی اور نے قلم نہیں اٹھایا۔للہ نہ روکو جانے دو، مرگھٹ کا پیپل، بانسری کی آواز ، سنگتراش نے کہا، خوف کا میخانہ وغیرہ ان کی نظموں کے موضوعات ہیں۔
دکھائی دی تھی جہاں پر گناہ کی منزل
وہیں ہوئی تھی دل ناصبور کی تکمیل
1948ء میں عباس حسینی کی تجویز سے ایک ادبی رسالہ ’’نکہت ‘‘ جاری ہواجس میں ابن صفی ’’طغرل خان‘‘ ، ’’عقرب بہارستانی‘‘اور ’’سنکی سولجر‘‘ کے نام سے طنزیہ اور فکاہیہ کالم لکھا کرتے تھے۔شمس الرحمان فاروقی نے ابن صفی کے چار ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ جب یہ کام میرے سپرد ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ان ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ ممکن نہیں ۔کیوں کہ یہ ناول مکمل طور پر مقامی رنگ میں رنگے ہوئے تھے ان ناولوں میں اردو کے محاورے اور لطیفے ایسے ہیں جو انگریزی پڑھنے والوں کے شاید ہی سمجھ میں آئیں۔انھوں نے انگریزی ترجمے میں کوئی چیز تبدیل نہیں کی۔یہ چار ناول انگریزی میں ’’ڈیڈ سیریز ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئے۔
انگریزی کی مشہور ناول نگار اگاتھا کرسٹی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میں اردو تو نہیں جانتی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہاں صرف ایک اوریجنل مصنف ہیں ابن صفی۔۔ایک ناقد کا کہنا ہے کہ ابن صفی صرف مزاح نگار بھی ہوتے تب بھی اردو ادب میں ان کا ایک اعلی اور بلند مقام ہوتا۔ ان کے مزاحیہ کالموں کے علاوہ ان کے جاسوسی ناولوں میں بھی مزاح کی چاشنی موجود ہے۔خالد جاوید کے مطابق ابن صفی کی تحریریں در اصل ایک مہاکاویہ اور مہا بیانیہ ہیں جو لگاتار اٹھائیس برس قسط وار شایع ہوتی رہیں۔اوسلو یونیورسٹی ناروے کے پروفیسر فین تھیس کا کہنا ہے کہ ابن صفی کے ناولوں میں دو چیزیں بہت اہم ہیں جو اگاتھا کرسٹی کے ناولوں میں موجود نہیں ہیں ان کے ناولوں کی زبان رواں ہے اور انھوں نے مزاح اور سسپنس کو یکجا کر دیا ہے ۔ابن صفی کے تحریر کردہ ناولوں کی کئی جہتیں ہیں بحیثیت نثر نگار ،جاسوسی ناول نگار، شاعر ، مزاح نگاران پر کئی حوالوں سے تحقیقی کام کی گنجائش باقی ہے۔

حصہ