مینارہ نور ——میانوالی
ڈاکٹر نور محمد خان نیازی
(تحریر :. ظفر خان نیازی
1974 میں نوکری پر کوئٹہ جانے میں دشواری یہ پیش آئی کہ فاصلہ بہت دور ہونے پر میں سال میں صرف ایک مرتبہ میانوالی آ سکتا تھا – اس ایک برس میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہوتا تھا اور ہر سال میرا یہ حال ہوتا تھا :—
میں لوٹا تو میرے آگے وہی منظر پرانا تھا
کئی لوگوں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا
ستر کی دہائی میں ایسی ہی افرا تفری می ایک ایسا انسان میانوالی کے منظر سے آٹھ گیا جو صرف نام کا نور ہی نہیں ، عوام کی آنکھوں کا بھی نور تھا – میں تو ان کے جنازے کی شرکت سے محروم رہا لیکن یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ میانوالی کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا جو اپنے شہر کے سپوت کو خراج تحسین پیش کرنے اور اسے دائمی سفر جانے پر خدا حافظ کہنے کیلئے امڈ آیا تھا –
میں اسی برس میانوالی آیا تو ڈاکٹر مرحوم کی قبر پر دعا کیلئے حاضر ہوا – ان کی قبر عید گاہ کے عقب میں خنکی خیل قبیلے کے قبرستان میں ہے – دعا کیلئے ہاتھ اٹھانے سے پہلے ہئ میری نظر کتبے پر پڑی تو کتبے کی عبارت پڑھ کر میری نظر میں ڈاکٹر صاحب کی زندگی کی ساری کہانی فلم کی طرح گھوم گئی – اور جب میں نے اپنی پہلی کتاب چوکور پہیئے لکھی تو اس کتبے کی عبارت بے اختیاری میں میرا انتساب بن گئی – وہ انتساب ہے :—
وہ ساری عمر شفا بانٹتا رہا
اور مرنے کے بعد قبر کے کتبے پر لکھوا گیا
آپ سے پوچھتے ہیں ، ( اللہ کی راہ میں ) کیا خرچ کریں – کہہ دیجئے ، اپنی ضرورت سے زائد سب کچھ —
میانوالی کے ڈاکٹر نور محمد خان نیازی
کے نام —–
قل العفو کی یہ ایک قرآنی آیت ڈاکٹر صاحب کی پوری زندگی کا احاطہ کرتی نظر آتی ہے –
یہ خوشگوار اتفاق ہے کہ ادبی دنیا میں میری پہلی پہچان یہی کتاب چوکور پہیئے ہے – اس کتاب کے بارے میں پاکستان کے طول و عرض میں آرٹیکل چھپے اور چوکور پہیئے اسی کی دہائی میں مظفر علی سید مرحوم کی سفارش پر ایئر فورس اکیڈمی رسالپور کے کورس میں شامل رہی ہے –
ڈاکٹر صاحب میرے نانا جان فتح خان مرحوم کے ہمعصر تھے ، محلے دار تھے اور میانوالی کے ہر چھوٹے بڑے ، ہم سب کے اولین معالج – پاکستان بھر میں میانوالی کے بچوں کا کسٹر آئل یعنی عرق ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے جاتا تھا – ڈاکٹر صاحب کا کلینک ان کے گھر کے ساتھ ہی بلو خیل روڈ پر تھا ، صبح شام دو وقت کلینک کھلتا ، دن بھر مریضوں کا ہجوم رہتا – ڈاکٹر صاحب دن بھر مریضوں میں گھرے رہتے – رات کے وقت اگر ضرورت ہوئی تو کسی مریض کے گھر اسے دیکھنے جاتے یا پھر جمعے کے روز جمعہ ادا کرنے کیلئے باقاعدگی سے مسجد اکبر علی زادے خیل آتے – کوٹ اتارے بغیر ، آستینیں کھینچ کر وضو کرتے نظر آتے اور تقریبا” آخری وقت پر نماز جمعہ میں شامل ہوتے – نماز جمعہ کے علاوہ وہ غریب امیر کے جنازے پر بھی ضرور پہنچتے – یہی ان کی کل سوشل لائف تھی – سر پر کلاہ ہوتا – گورا رنگ اور خشخشی داڑھی ، بہت جاذب نظر تھے لیکن ظاہری حسن سے زیادہ ان کے باطن کا حسن ان کے چہرے کی زینت تھا – نظر کی آدھے فریم والی عینک ان کی ناک پر جمی ہوتی ، کلینک میں بہت زیادہ رش ہوتا ، ڈاکٹر صاحب باری باری اس عینک کے اوپر سے مریضوں کو دیکھتے بلکہ جھانکتے ، ان کی آنکھیں بہت چمکدار اور نظر بہت گہری تھی – ساتھ ہی بے ساختہ ایسا پھڑکتا ہوا فقرا کہتے کہ ہنسی آجاتی لیکن ان کے کلینک میں ان کے رعب سے کوئی ہنستا نہیں تھا – ایک آدھ گھنٹے کے بعد خواتین کے کمرے میں خواتین مریضوں کو دیکھتے – یہ کمرہ ان کی پشت پر تھا – وہ مشوروں کے ساتھ کبھی کبھی سب کو ڈانٹ بھی دیتے یا کوئی پھڑکتا ہوا فقرا جڑ دیتے – سگریٹ سے انتہائی نفرت کرتے تھے – ان کے ہسپتال کے احاطے میں کسی کو سگریٹ کا کش لگانے کی اجازت نہیں تھی – وہ تقریبا” پچاس سال کلینک پر رہے اور شہر و ضلع کی اکثر فیمیلز کے مخصوص مسائل کو سمجھتے تھے – بلکہ وہ ایک طرح سے سارے ضلع کے فیملی ڈاکٹر تھے – تشخیص کے بعد صرف ایک دن کی خوراک دیتے جو ان کے اپنے کلینک کے سادہ مکسچر ہوتے تھے – دوا میں ان کے تین ریٹ تھے – دو آنے ، چھ آنے اور بارہ آنے – اس معمولی فیس سے بھی بہت سے لوگ مستثنے تھے –
ایوب خان کے دور میں سولہ آنے ، سو ٹیڈی پیسوں میں بدلے – چار آنے تو پچیس پیسے بن گئے – دو آنے پر کمپونڈر فیض نے کہا اس کے تیرہ پیسے ہونے چاہیئں – کہنے لگے – نہیں – اسے بارہ پیسے رکھو – یاد رہے ، ڈاکٹر صاحب 1927 کے ایم بی بی ایس تھے اور انٹر وغیرہ گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا تھا – ان کے صاحبزادے ڈاکٹر اسلم خان نیازی ، انگلینڈ سے ایف آر سی ایس کر کے واپس آئے تو اصرار کیا کہ فیس بڑھائی جائے – ڈآکٹر صاحب نے کہا یہ دکان نہیں ، ہسپتال ہے – میں نے اسی دو آنے میں تمہیں انگلینڈ تک تعکیم دلوائی ہے –
اس سلسلے میں جو اہم بات مجھ تک پہچی بتائی ہے وہ یہ ہے کہ نوجوانی میں ہی کہیں انہیں پھیپھڑوں کی کوئی خطرناک بیماری لاحق ہوئی تھی – ڈاکٹر صاحب نے خالق حقیقی سے دعا کے ساتھ عہد کیا تھا کہ اگر انہیں زندگی ملی تو وہ اسے اس کی مخلوق کی خدمت میں گزاریں گے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے اس عہد کو نبھایا – میں نے اسی کی دہائی میں کمپونڈر فیض ، جناب نصراللہ خان نیازی وکیل تاج بھٹی اور کئی دیگر حضرات کے انٹرویو کئے تھے اور وہ آرٹیکل آج لکھ رہا ہوں – مجھے افسوس ہے ، کئی اہم باتیں میں بھول گیا ہوں اور اب ان کو جاننے والے بھی بہت کم رہ گئے ہیں – نئی نسل تو حیران ہوکر ڈاکٹر نور محمد خان نیازی اور پروفیسر سید محمد عالم کے بارے میں پوچھتی ہے کہ یہ لوگ کون تھے – ہمارے زمانے میں بھی ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے گرد بہت پر اسرار پردے پڑے تھے – لوگ محبت میں ان کے بارے میں کئی باتیں کہتے اور سنتے تھے – میری خوش قسمتی دیکھئے کہ ان سے ان کے ذاتی خیالات کو سننے کا موقع اللہ نے میرے لئے بچا رکھا تھا – میں اس کی تفصیل ذرا آگے چل کر آپ سے شیئر کروں گا – فے الحال ان کے بارے میں کچھ مزید لوگوں کے خیالات –
مرحوم صوفی و درویش وکیل نصراللہ خان نیازی موسے خیل ان کے داماد تھے – ان کا کہنا ہے – میں نے ایک دفعہ ان کو غصے میں دیکھ کر انہیں کہا – اقبال مسلمان کے چار عناصر بتاتے ہیں – غفاری و قہاری و قدوسی و جبروت –
بولے – دیکھو ، قہاری اور غفاری اور پاکیزگی تو اللہ نے دی ہے لیکن جبروت یعنی اقتدار کی قوت البتہ میرے پاس کیسے ہو سکتی ہے – ایک نصراللہ خان نیازی ان کے بھتیجے بھی ہیں ، وہ بھی ڈاکٹر صاحب کے داماد ہیں – اس وقت ان کی صرف وہی صاحبزادی حیات ہیں لیکن اپنے صاحبزادے ڈاکٹر صلاح الدین نیازی کی ایجنسیوں کے ہاتھوں پر اسرار گمشدگی کے باعث پچھلے کئی برس سے انتہائی اذیت کی زندگی گزار رہی ہیں –
ڈاکٹر صاحب سگریٹ کے علاوہ کتوں سے سخت نفرت کرتے تھے – ان کے ایک صاحبزادے اکرم خان مرحوم کتے رکھنے کے بے حد شوقین تھے – ڈاکٹر صاحب گھر میں آنے پر کھانا کھاتے ہوئے پہلا سوال کرتے ، کیا کتوں کو خوراک دی گئی ہے کہ نہیں –
ڈاکٹر صاحب کے کلینک کے ساتھ ایک بڑا سا احاطہ جس میں مریضوں کیلئے کمرے اور چار پائیاں رکھی تھیں ، مریضوں کو بلا معاوضہ مہیا کئے جاتے – ان کے ایک کمپونڈر تاج بھٹی مرحوم نے بتایا تھا کہ ایک بار راؤنڈ کرتے وقت دیکھا کہ ایک مریض کے پاس رضائی نہیں ہے – ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ، اس کیلئے رضائی کا بندوبست کرو – کچھ دیر کے بعد انہیں بتایا گیا کہ گھر میں کوئی فالتو رضائی نہیں ہے – ڈاکٹر صاحب نے کہا ، جاو ، میری رضائی اٹھا لاو – اب مجبورا” اڑوس پڑوس سے مانگ کے اس مریض کو بستر مہیا کیا گیا –
ایک بار ایک نوجوان نے درخواست کی کہ اسے ایک انجکشن لگایا جائے- انجکشن لگایا گیا – اس پر نوجوان نے فیس پوچھی تو ڈاکٹر صاحب نے دس آنے بتائے –
وہ نوجوان ہریشان ہوگیا – اس نے کہا ، یہ کون سا انجکشن تھا ، مجھے شیشی دکھائی جائے – شیشی دیکھ کر بولا ، انجکشن تو اصلی ہے –
ڈاکٹر صاحب نے کہا ، پریشانی کیا ہے –
وہ بولا ، میں میڈیکل ریپ ہوں – مارکیٹ میں یہ انجکشن بارہ آنے کا آتا ہے – آپ دس آنے مانگ رہے ہیں – سمجھ نہیں آئی-
ڈاکٹر صاحب نے کہا – جب ہم تھوک پر زیادہ مال منگواتے ہیں تو ہمیں یہ ٹیکہ ساڑھے نو آنے میں پڑتا ہے – اور اوپر کے دو پیسے میرے اس کمپونڈر کو ملیں گے جس نے انجکشن لگایا ہے – اس میں ہم نے کچھ چارج نہیں کیا –
ڈاکٹر اسلم خان نے الگ سے ایک کمرے کو اپنا آفس بنایا اور ایف آر سی ایس ہونے کی رعایت سے 35 روپے فیس مقرر کی – ڈاکٹر اسلم خان کے کمرے سے کوئی نکلتا تو اسے پاس بلا لیتے – اگر دوا کے بغیر کسی سے فیس لی گئی ہے تو ڈاکٹر نور محمد خان صاحب اسے پیسے واپس کر رہے ہوتے – بعد میں ڈاکٹر اسلم خان اسلام آباد چلے آئے لیکن والد کے انتقال کے بعد زندگی کے ایک مرحلے پر آکر انہیں اندازہ ہوا کہ دو آنے والی فیس زیادہ برکت والی تھی اور پھر وہ ڈاکٹر نور محمد خان نیازی صاحب کی روایت کو نبھانے کیلئے نور محمد خان کلینک کو دیکھنے اور شہر کے لوگوں کی خدمت کیلئے بلا ناغہ برسوں ہر ہفتے تنہا کار پر میانوالی جا کر مریضوں کو دیکھتے رہے – اس وقت تک وہ نامور سپیشلسٹ ہو چکے تھے لیکن میانوالی کے کلینک پر انہوں نے اپنے والد کی جلائی ہوئی شمع بجھنے نہیں دی – پچھلے ایک دو برس سے ڈاکٹر محمد اسلم خان نیازی صاحب فراش ہیں اور کلینک ان سے چھٹ گیا ہے – ان کی صحتیابی کی درخواست ہے –
شروع میں کچھ لوگ کہتے تھے کہ ایک عرصہ ہوا ڈاکٹر صاحب میانوالی سے باہر نہیں گئے ، اس لئے انہیں اندازہ نہیں کہ ڈاکٹرز کی فیس کہاں جا پہنچی ہے لیکن جب مجھے ان کے خیالات خود انہی سے سننے کا موقع ملا تو مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی یہ نیکی بے خبری کی بنا پر نہیں ، شعوری کوشش تھی – ڈاکٹر صاحب کے خیالات جاننے کا موقع مجھے کس طرح ملا یہ بھی سن لیجئے –
ڈاکٹر صاحب اپنی زندگی میں علامہ مشرقی سے بہت متاثر تھے بلکہ اس وقت میانوالی کے سبھی مسلم زعما بیلچہ پارٹی سے کو ہی پسند کرتے تھے – حکیم عبدالرحمان خان مرحوم ، ڈاکٹر کریم خان اور کئی دیگر شرفا تو باقاعدہ خاکساروں کا بیلچہ اٹھا کر پیریڈ کرتے تھے – علام مشرقی کے علاوہ ڈاکٹر صاحب غلام احمد پرویز کے رسالے طلوع کے باقاعدہ قاری تھے – خود ان کا سارا دن تو کلینک میں گزر جاتا تھا لیکن اپنے ذوق کی تسکین کیلئے بھٹی ہاوس جسے ڈاکٹر صاحب نے خرید لیا تھا ، ایک کمرہ المشرقی ریڈنگ روم بنا رکھا تھا – میں ان دنوں ایم ایس سی کر کے بے روزگار تھا ، دن بھر دوستوں کے ساتھ گھومتا اور رات گئے اس ریڈنگ روم میں پڑے اخبارات کا مطالعہ کرتا – مجھے ریڈنگ روم میں دیکھ کر ایک بار میرے پاس تشریف لائے اور بے تکلف گفتگو کرنا شروع کی – میں نے سوال و جواب کیا تو بہت جوش میں آکر گفتگو کرنے لگے – یوں لگتا تھا وہ ان حالات حاضرہ اور قوم کی تعمیر کے موضوعات پر گفتگو کرنے کے پیاسے ہیں – وہ کافی دیر وہاں کھڑے ہو کر اپنے خیالات شیئر کرتے ان کا کمپونڈر تاج بھٹی جو میرا کلاس فیلو بھی رہا تھا اور دوست بھی ، ڈاکٹر صاحب سے نظر بچا کر مجھے گھورتا کہ کیوں ہماری دیر کر رہے ہو ، چھٹی کرنے دو – لیکن ڈاکٹر صاحب خوشی کے عالم میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے – ان سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ قوم کی مجموعی حالت کو بہتری میں بدلنے کا کتنا حسین خواب رکھتے ہیں – اس کے بعد وہ مجھے جب دیکھتے ، خوش ہو کر ریڈنگ روم میں آجاتے اور تبادلہءخیالات کرتے – میری ان ملاقاتوں کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے مجھے ہمیشہ خصوصی پیار اور عزت کے ساتھ پیش آتے رہے – ان سے ان چند ملاقاتوں میں میں نے جو باتیں خود ان کی زبانی سنی ان سے میں نے اخذ کیا کہ ان کا خیال تھا :-
میانوالی کا عام سفید پوش دیکھنے میں سفید پوش ہے اندر سے بہت تہی دست اور خوراک کی کمی کا شکار ہے –
لوگ اسلام کا نام تو لیتے ہیں لیکن اسلام کے زریں معاشرتی اصولوں کو ہماری بجائے دوسری اقوام خاص طور پر چین نے اپنا لیا ہے – اور ان سے چینی بے پناہ ترقی کر رہے ہیں –
لوگ دین کے معاملے میں عقل کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں – عقل کا دامن دین ہو یا دنیا ، کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے –
ظلم کا بدلہ ہر حال میں میں ملتا ہے – اس سلسلے میں مجھے ان کا بہت دلچسپ فقرا یاد ہے – کہنے لگے –
اللہ بہتر جانتا ہے اعمال کا حساب کتاب آگے بھی ہوگا کہ نہیں ، میں نے لوگوں کو اسی دنیا اپنے ظلم کا حساب چکاتے دیکھا ہے – میرا ایمان ہے ، اللہ پاک لوگوں سے ان کی زبدگی میں اسی دنیا میں ان کے اعمال کا حساب کتاب لے لیتا ہے – کہتے تھے عمل زندگی میں بہت ضروری ہے – مجھے ڈر ہے ہم زبانی جمع خرچ والے مسلمان اللہ کے آگے شرمندہ اور اچھے اعمال والی مشرک قومیں سرخرو نہ ہو جائیں –
یہ دلچسپ بلکہ عجیب باتیں میں ہر ایک کے ساتھ شیئر بھی نہیں کر سکتا تھا – یہاں تو لوگ پانچویں محرم کو بہشتی دروازے سے گزر کر یا دسویں محرم پر ذوالجناح کو پنکھا جھل کر یا رمضان میں توحید و اسلامی نظام کے نام پر اپنے معصوم شہریوں اور فوجیوں کی گردنیں کاٹ کر یا اپنے پیر کا ہاتھ پکڑ کر سیدھے جنت جانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں –
معروف صحافی محمد اعظم خان کلو بتاتے ہیں — ایک مرتبہ میں مرحوم مقبول احمد خان نیازی کے گھر ایف سکس ون گیا ان کے بتھیجے ضرار احمد خان ملے یہ میرے کالج فیلو تھے – میں نے ضرار خان سے مقبول خان کا پو چھا تو انھوں نے کہا کہ دروازہ بند ھے اور اندر سے ان کے رونے کی آواز آرھی ھے میں نے کوشش کر کے دروازہ کھلوا لیا مجھے دیکھ کہ کہنے لگے کہ اچھا ہوا تم آ گیے میں نے پوچھا کہ چچا جان خیریت تھی تو کہنے لگے کہ آج بھای ظفر خان نیازی نے اپنی کتاب بجھوای ھے اس ظالم نے ا نتساب مییں ایک ایسی چیز لکھ دی ھے کہ جس نے مجھے رونے پہ مجبور کر دیا ھے پھر ا نھوں نے وہ انتساب دوبارہ پڑھا اور پھر رو پڑے کہتے تھے کہ میں ایف سکس ون میں رہ رھا ھوں اگر چاھتا تو یہ رقم اللہ کی راہ میں خرچ کر کے زندگی کسی جھونپڑے میں بھی گزر سکتی تھی…… یہ واقعہ آپ کی کتاب کہ ذکر سے یاد أگیا سوچا آپ کی نظر کر دوں……..مگر نیازی صاحب اب نور محمد نیازی مقبول احمد خان نیازی جیسے صوفی منش انسان ڈھونڈے نہی ملتے اللہ پاک ھمیں آپ کے نقش قدم پہ چلنے کی ھمت اور توفیق عطا کرے –
بہت شکریہ کلو صاحب –
مجھے مقبول احمد خان نیازی صاحب نے یہ بات بتائی تھی کہ جب کتاب چوکور پہیئے ان کے سامنے آئی تو انتساب پڑھ کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے – اور جب وہ میرے ساتھ بات کر رہے تھے تو پھر اسی کیفیت سے گزر رہے تھے – اللہ پاک مقبول احمد خان نیازی پر اپنا کرم خاص فرمائے اور جنت الفردوس میں ان کو جگہ دے –
ڈاکٹر صاحب کے گھر کے سامنے نکڑ پر بلوخیل روڈ پر ہی درجنوں کنال پر محیط ایک وسیع قطعہ اراضی تھا غالبا” 35 کنال رقبہ تھا جس کے گرد چار دیواری تھی اور اس کا گیٹ گلی عالم خیل میں کھلتا تھا – یہ قطعہ اراضی ہندو متروکہ پراپرٹی تھی یا کوئی اور سرکاری زمین ، یہ مجھے یہ معلوم نہیں، لیکن اس کا قبضہ ڈاکٹر صاحب کے پاس تھا – ہم بہت چھوٹے تھے ان دنون کی بات ہے ، ایک دن ہم محلے کے کھیلنڈرے لڑکے اس کے اندر کبڈی یا باڈی کھیل رہے تھے – ڈاکٹر صاحب نے چھاپہ مارا ، ہم سب اس گیٹ کے نیچے سے رینگ کر نکلتے گئے – باہر ڈاکٹر صاحب چھڑی لے کر کھڑے تھے – جو لڑکا باہر نکلتا اس کی پیٹھ پر ایک چھڑی پڑ جاتی اور آئندہ اس گراونڈ میں نہ آنے کا کہا جاتا – میں باہر نکلا تو ڈاکٹر صاحب نے میرے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر کہا ، یہ تو کوئی شریف لڑکا لگتا ہے ، بہت ہی ڈرا ہوا ہے – یوں مجھے چھوڑ دیا اور میں چھڑی کھانے سے بچ گیا –
وہ قطعہ اراضی جس کی قیمت اس وقت اربوں میں ہے ، ڈاکٹر صاحب نے اجتماعی فلاحی کام کیلئے میونسپل کمیٹی کے سپرد کر دیا – اس وقت اس پر گرلز ہائی سکول کا ہاسٹل اور بچیوں کا پلے گراونڈ ہے – ڈاکٹر صاحب چاہتے تو اپنے اڑوس پڑوس کے دیگر لوگوں کی طرح اس پر اپنا قبضہ جماکر اسے ذاتی ملکیت بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے دیانت اور امانت کے اصولوں کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا – انہی اصولوں کی پابندی کی بنا پر آج ہم انہیں اس محبت سے یاد کر رہے ہیں –
خود ڈاکٹر صاحب باطنی طور پر کیا تھے ، اس ضمن میں دو باتیں عرض کرنا ہیں –
بلوخیل روڈ کے قبرستان کے پاس سے پہلی بار گزرنے والے کشف القبور کے شوقین لوگ ٹھٹک کر پوچھتے ہیں کہ اس قبرستان میں یہ کس کی قبر ہے جس پر نور کا ہالہ محسوس ہوتا ہے تو انہیں جواب ملتا ہے – یہ ڈاکٹر نور محمد خان نیازی کا مزار ہے –
دوسری بات جس کے راوی چاچا دوسہ سوانسی ہیں – چاچا دوسہ سوانسی مرحوم پیروں فقیروں کی خدمت میں رہتے تھے – ایک مرتبہ چکی شریف کے کوئی بزرگ صوفی ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر آئے – بعد میں وہ چاچا دوسہ سے کہنے لگے – کمال ہے – اتنے بڑے درجے کا ولی جس کو خود بھی پتہ بھی نہیں کہ وہ کتنے بلند مقام پر کھڑا ہے — اللہ اکبر ، یہ نور محمد خان نیازی تھے جن کے وجود سے سارا میانوالی مہکتا تھا – اور جب ان کا انتقال ہوا تو لوگ دھاڑیں مار مار کر لوگ رو رہے تھے جیسے سر سے سایہ چھن گیا ہو –
ان کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ ہر شام یتیم خانے میں پھل اور ہر مہینے بیواوں اور ضرورت مندوں کے گھر پیسے بہت ہی خاموشی سے پہنچا دیئے جاتے تھے – کئی ضرورت مند بچوں کو تعلیم دلانے میں ان کی امداد کی – ان کے بعد ان کے کلینک کو ان کے وفا شعار کمپونڈر فیض اور دیگر حضرات نے کامیابی سے چلائے رکھا اور کوشش کی کہ جو صدقہ ڈاکٹر صاحب نے جاری کیا تھا وہ سلسلہ جاری رہے – ڈاکٹر صاحب کے کتبے کا انتخاب بھی ان کے مزاج شناس کمپونڈر جناب فیض نے کیا تھا – فیض بہت ہی نفیس مزاج کا انسان اور ایک طرح سے ڈاکٹر صاحب کا خلیفہ تھا – ساری عمر ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر خدمت خلق میں گزار دی –
اس سلسلے کی ان کے صاحبزادگان ڈاکٹر اسلم خان نیازی شوگر سپیشلسٹ اور ڈاکٹر افضل خان نیازی آئی سپیشلسٹ نے بھی بخوبی نگرانی کی – ڈاکٹر افضل خان نیازی کی شکل و صورت اور مزاج میں اپنے والد کی ایک بھرپور جھلک ملتی ہے – میں راولپنڈی میں ساری زندگی دو تین ماہ میں ایک بار ضرور ڈاکٹر افضل نیازی کو ملنے ان کے کلینک پر چند منٹ کیلئے جاتا رہا ہوں – اب پچھلے چند برس سے گوشہ نشین ہو گیا ہوں تو ملنے سے رہ گیا ہوں – ڈاکٹر افضل نیازی ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی سے ریٹائرمنٹ کے بعد واہ میڈیکل کالج میں پروفیسر کے طور پر وزٹ کرتے ہیں لیکن ان کی سرگرمیاں صحت اور عمر کی بنا پر نسبتا” محدود ہوگئی ہیں اور اب ان کے آئی کلینک کو پوری ذمے داری اور محبت کے ساتھ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر فواد خان نیازی راولپنڈی میں بہت کامیابی سے چلا رہے ہیں –
ادھر میانوالی کا نور کلینک پھر سے نئے مسیحا کا منتظر ہے ، دیکھیں یہ اعزاز و امتیاز اب ان کے بچوں میں سے کس کے نصیب میں آتا ہے — ان کے وارثوں میں سے ایک سیاست کے میدان میں تو عمران خان کے روپ میں آچکے ہیں – ڈاکٹر نور محمد خان نیازی عمران خان نیازی کے پھوپھا تھے –
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اپنے کرم خاص سے ڈاکٹر نور محمد خان نیازی کی مغفرت فرمائے ، اور ان کے درجات بلند فرمائے – اور اپنے ان نیک اور بےلوث خادمان انسانیت کے صدقے پاکستان کی مشکلات دور فرمائے ، وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی نیکی کا واسطہ دے کر اللہ میاں سے اپنی مغفرت کی دعا کی جاسکتی ہے —
( یہ پینٹنگ ڈاکٹر صاحب کی پوتی کے فن کا شاہکار ہے ، اس کیلئے میں عزیزم شیرخان نیازی جو کہ ڈاکٹر محمد اسلم خان نیازی کے صاحبزادے ہیں ، شکر گزار ہوں )

حصہ