’’ ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سے کہیں جیسے ‘‘ تحریر : خالد سعید ایڈو کیٹ
لبنان کے عظیم فلسفی خلیل جبران نے کہا ہے کہ جو لوگ حرف اور قلم کی عصمت کیلئے اپنی زندگی وقف کر کے دنیا سے کوچ کر جائیں ان کی قبر پرلکھ دیا جائے ’’ یہ لوگ مرے نہیں ہیں ‘‘
سید نصیر شاہ کا شمار بھی دنیائے علم و ادب و تحقیق کے ان اکابر میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی زبان و ادب اورحق و صداقت کا پرچم بلند رکھنے کیلئے وقف کر رکھی تھی ۔سید نصیر شاہ اپنی ذات میں خود ’’ ادنی دنیا ‘‘ تھے ، انہوں نے اپنی تحریر کے ذریعے نہ صرف اردو، عربی، پنجابی، سرائیکی زبان و ادب کے بہت سے گوشے منور کئے بلکہ اپنی ادبی زندگی میں انہوں نے تنقید جو بہت کم لکھی اس میں بھی اپنا ایک ذاتی اسلوب وضع کیا ۔
سید نصیر شاہ نے اپنی تحریروں میں صداقت ، خلوص ، انفرادیت ، ایثار کی روایت کو فروغ دیا اور یوں نہ صرف اپنے ہم عصو ادیبوں بلکہ کسی حد تک اپنے عہد کے ادب کو بھی متاثر کیا ۔مستقبل میں بھی شاہ صاحب کی تہذیبی اور ادبی شخصیت کے نقوش سے بہت سے لوگ سے بالواسطہ طور پر رہنمائی حاصل کرائیں گے ۔
نصیر شاہ کی جس خوبی نے مجھے زیادہ متاثر کیا وہ ذاتی شخصیت کو اجاگر کرنے کی بجائے ادب کو اہمیت دیتے تھے ۔شاہ صاحب کی زندگی کا اسلوب اور بطور شاعر و ادیب ان کی تخلیق کا اسلوب دونوں ہی منفرد تھے ۔
گلاب کا نام خوشبو سے ہر دن پر سفر کرتا ہے۔گلاب ذات ہے اور خوشبو صفت ذات اپنی صفات کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے جس طرح پھول کی پہچان اس کی خوشبو سے ہے اسی طرح تخلیق کار کی پہچان اس کا اسلوب ہے جس میں اس کی ساری ذات سمائی ہوتی ہے ۔
سید نصیر شاہ نے شاعری ، انشا نگاری ، تنقید اور تحقیق اور دیگر اضاف نظم و نثر پرقلم اٹھایا ۔آپ کی تحریر میں ہمارے اردو اور علاقائی ادب کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہیں ۔
ڈاکٹر خورشید الحسن رضوی کا یہ شعر نصیر شاہ کے فن کی کسی حد تک عکاسی کرتا ہے ۔
’’ فن ہے وہ آہوئے وحشی کہ لیے پھرتا ہے
سر صحرائے فنا خلد کے باغوں کی مہک ‘‘
نصیر شاہ کی تحریر ہمیشہ کلمہ حق کہنے پر قادر تھی جس طرح زمین کے بطن میں مستور اس کی بے پناہ قوت آتش فشاں پہاڑوں کے ذریعے اپنا لاوا اگلتی ہے بالکل اسی طرح ہر معاشرہ اپنی تخلیقی اظہار کیلئے بعض شخصیتوں کو بروئے کار لاتا ہے ۔سید نصیر شاہ ایک ایسی شخصیت تھے انہوں نے نہ صرف اپنے معاشرے کے خوابوں اور محرومیوں کو زبان عطاء کی بلکہ عملی اور ادبی معاملات میں انہوں نے اس بے مثال دانائی کا بر ملا اظہار کیا جو ہر معاشرے کے اعماق میں ، جذبات کی ساری تندی کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے ۔سید نصیر شاہ نے بطور سیاسی کارکن ،سماجی سطح پر ہر شخصی آزادی کے تقدس کا بار بار احساس دلایا اور ادبی سطح پر نظریے کی افادیت اور اثرپزیری کے قائل تو نظر آئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی بر ملا کہتے نظر آئے کہ ’’ نظریہ جزو بدن بن کر از خود ادب میں منعکس ہو تو بات بنے گی ورنہ وہ ادب کی خود روانی اور بے ساختگی کو بری طرح مجروع کر دے گا ۔گویا عام زندگی کے علاوہ ادب کے معاملات میں بھی شاہ صاحب منافقت کی روش کو نا پسند کرتے تھے ۔ادبی صحافت میں بھی سید نصیر شاہ کو منفرد حیثیت حاصل تھی ۔سوزو ساز ، شعاع مہر اس کی روشن مثالیں ہیں ۔ادبی صحافت کیلئے ان کی یہ خدمات قابل قدر اور قابل ستائش ہیں انہوں نے جو ہر قابل کو نہ صرف تلاش کیا بلکہ ایسے پہچانا اور پھر اس کی مناسب و موزوں طریقے سے ترتیب کی ۔ فاروق روکھڑی ،سلیمان اختر ، منصور آفاق اس کی نمایاں مثالیں ہیں لیکن نصیر شاہ کا یہ فیض چند مخصوص افراد کیلئے نہ تھا بلکہ ان کی ذات گرامی تو ادب کا ایک ایسا چشم فیض تھی جس سے ادب کے طالب علم سیراب ہوتے رہتے تھے ۔شاہ صاحب کا فن ان کی بے پناہ علم اور زندگی کے تجربات کا نچوڑ تھا ان کی شاعری اور تحریریں سچائی ، خلوص اور تلاش کی ایک ایسی تکون پر براجمان نظر آتی ہیں جس کے تینوں زاویے برابر ہیں اور جب زندگی کا سچا روپ سامنے آ جاتا ہے تو پھر ناقدین ادب اسے سچائیوں کا شاعر کہنے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔شاہ صاحب کی زندگی میں پیش آنے والے چھوٹے بڑے ،اچھے برے واقعات ان کیلئے تجربات کی گزر گاہیں ثابت ہوئے اور شاہ صاحب اس نتیجے پر پہنچے کہ راہ حیات ایک ایسا ققل ہے جہاں لطیف جذبوں ، معصوم تمناؤں ، بے نصرت عقیدتوں ، محبتوں اور قربتوں کا قتل عام ہوتا رہتا ہے وہ تلخی حیات کو اپنی تحریروں ایسے انداز میں پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ قاری کہتا نظر آتا ہے کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا ‘‘
نصیر شاہ انسان سے محبت کرتے تھے وہ کسی ایک مکتبہ سکول کے نہیں بلکہ انسانیت کے شاعر تھے وہ زندگی کے رومانوی اورحقیقی راہوں کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں جب وہ پرخلوص جذبوں ، زندگی کے لطیف تقاضوں ، معصوم رشتوں سے نا انصافی ، عدم تعاون اور معاشرتی نا ہمواریوں کو دیکھنا تھے تو شاہ صاحب ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھنے لگے جہاں انسان نفرت، خواہشوں ، مادی اغراض سے بلند ہو کر زندگی گزارتے ہیں ۔
31اکتوبر 2009 ؁ء کو ضلعی حکومت کی جانب سے سید نصیر شاہ کے ساتھ جو شام منائی گئی تھی اس کا اختتام بھی میں نے اس بات پر کیا تھا کہ شاہ صاحب کو غالب کی طرح اپنے زمانے نے وہ عزت اور توقیر نہ دی جس کے وہ حقدار تھے لیکن غالب کی طرح وہ اپنے بعد کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں ۔
ہم ایک قوم اور معاشرے کے طور پر مستحکم بالذات ادارے قائم نہیں کر پا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر رخصت ہونے والا با کمال فرداپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ جاتا ہے اور اس کی جگہ لینے کیلئے ہمارے پاس اس جیسے نہ سہی مگر اس سے ملتے جلتے لوگ تیار نہیں ہوتے ۔سید نصیر شاہ کی رحلت کے بعد بھی کم و بیش یہی صورت حال پھر درپیش ہے اور ہم ایک بار مل کر یہی کہنے پر مجبور ہیں ۔ کہ
’ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جیسے‘
(روشنی کے زیر اہتمام نصیر شاہ صاحب کے تعزیتی ریفرنس 17جنوری 2013کو پڑھایا گیا )

حصہ