شخصیات

آہ معراج محمد خان …. ” کیا دولتَ نایاب لُٹی ہے موت کے ہاتھوں "؟

معراج محمد خان: غریب کا ساتھی رخصت ہوا .. تحریر :.عثمان غازی
جمہوریت کو مذاق سمجھنے والے کیا جانیں کہ معراج محمد خان کس معراج پہ تھے۔ صحافی رہنما منہاج برنا کے چھوٹے بھائی کے بڑے کارناموں کا احاطہ کرنا بھی محال ہے۔ ایوب آمریت کا جنازہ نکالنے والوں کے سرخیل معراج محمد خان تھے۔
معراج محمد خان پاکستان کے ایسے قابل فخر اسٹوڈنٹ لیڈر کا نام ہے جس سے ایوان کانپتے تھے۔ انہیں جیل میں ڈالا گیا، شہربدر کیا گیا، ایوب خان ان سے ڈرتا تھا۔
معراج محمد خان وہی ہیں جنہوں نے بھٹو کی پولو گراؤنڈ کے جلسے میں گھس کر پٹائی کی اور پھر انہیں بعد میں عوامی سیاست کے ڈھنگ بھی سکھائے، یہ پیپلز پارٹی کے اساسی کارکنوں میں سے تھے۔ بھٹو انہیں اپنا جانشین کہتا تھا، انہیں وزیر بھی بنایا مگر جب بلوچستان میں بھٹو نے فوجی آپریشن کیا، معراج محمد خان نے پیپلز پارٹی چھوڑدی، بھٹو کے خلاف احتجاج کیا اور جیل چلے گئے۔
بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیاء نے انہیں پیش کش کی کہ وہ پیپلزپارٹی کے خلاف تحریک چلائیں تو انہوں نے کہا کہ معراج محمد خان کرائے پر دستیاب نہیں ہے۔ جنرل ضیاء الحق ملک میں لسانیت پھیلا کر لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتا تھا، نجانے کیوں نگاہ انتخاب معراج محمد خان پر پڑی۔
جنرل ضیاء نے معراج صاحب کو آفر کی کہ وہ اردو بولنے والوں کی جماعت بنائیں، انہوں نے اس سے بھی معذرت کرلی۔ تحریک انصاف کے قیام کے دوسال بعد یہ عمران خان سے آن ملے مگر 2003 میں تحریک انصاف کو اپنی زندگی کی بڑی غلطی قرار دے کر چھوڑدیا۔ وہ عمران خان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ عوام سے دور شخص کبھی بھی عوام کے مفاد میں نہیں ہوسکتا، عمران خان اپنی ذات کے خول میں بند ہیں۔
پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کا ایک تابندہ ستارہ بجھ گیا ہے۔ انہوں نے بھٹو کی پھانسی پر کہا تھا کہ بھٹو رائٹ ونگ میں پھنس کر اکیلا رہ گیا تھا اور بھٹو نے بھی اپنی آخری کتاب میں دوطبقوں کو باہم ملانے کو پھانسی کی صورت میں اپنی موت کی وجہ کہا تھا۔
معراج محمد خان کی زندگی اس بات کا عملی پیغام ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے پروردہ دائیں بازو سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کرو ورنہ بھٹو کی طرح مارے جاؤ گے۔

Back to top button