تحریر»دانش رحمان دانش

سڑکیں انسانی ذندگی کے لئےاولین سہولت کاکرداراداکرتی ہیں.. لیکن ساتھ ہی درخت اورسبزاانسانی ذندگی کی سب سےبڑی ضرورت ہے, شعبہِ ماحولیات کاطالب علم ہونےکی حیثیت سےدرختوں کی اہمیت کومیں بخوبی سمجھتاہوں اوریہی وجہ ہےکہ آج اپنی جُنبشِ قلم سےاہلِ منسب حضرات کوجگاناچاہتاہوں…

میراتعلق میانوالی کےعلاقہ “وانڈھی آرائیاں والی”قدیم”وانڈھاذوالفقارخان والا”سےہے.سکول,کالجز,یونیورسٹی,جیل اوردیگرکئی سرکاری دفاترکےنزدیک ہونےکیوجہ سےایک مصروف ترین سڑک کاگُزراس علاقہ سےہوتاہے,,سڑک کےساتھ ساتھ ماحول کوصاف رکھنےکےلئےسڑک کی دونوجانب “گرین بیلٹ” بھی بنائی گئی لیکن بعدازاں ایک جانب “شرقی گرین بیلٹ” کوتجاوزات کی صورت میں اہل علاقہ نےاپنےگھروں کاحصہ بنالیااورسڑک کومزیدتنگ کرنےمیں اپنا اپنابھرپورکرداراداکیا,ایسےمیں سڑک انتہائی تنگ اورانتہائی مصروف ہونےکی وجہ سےانسانی جانوں کےلئےخطرہ رہی, خداخداکرکےانتظامیہ نےسڑک کی تعمیرِنوکافیصلہ کیالیکن کام کے شروع ہوتےہی ناجائزطورپرگرین بیلٹ پرقابض لوگ اپنےناجائزتجاوزات کوگِرتادیکھ میدان میں آناشروع ہوگئےاورسڑک کی تعمیرمیں روڑےاٹکانےکاکام کرنےلگے,,,
جس پرعلاقہ کےاےسی نےعلاقہ کاجائزہ لیااورعلاقہ مکینوں کےاحتجاج کومدِنظررکھتےہوئےسڑک کومغربی جانب بڑھانےپرغورکیا,,,, جی ہاں مغربی یعنی”غربی گرین بیلٹ” کومسمارکرناجس پرکئی دہائیوں پُرانےبرگدکےدرخت کےساتھ ساتھ کئی مزیددرخت اورسبزہ ہےجن کوختم کرکےسڑک بنانا غیرمستحکم ترقی “Unsustainable development “کےزمرہ میں آتاہے جوکہ کسی بھی باشعورانسان کےلئےناقابلِ قبول ہے,, آپ قطع ہی ناجائز تجاوزات کوبچانے کےلئےایسی سڑک یاکوئی عمارت نہیں بناسکتےجس کی قیمت ہمیں مستقبل میں اداکرنی پڑے..
میری اہل منسب حضرات سےاپیل ہےکہ اس بات کانوٹس لیں اور”گرین بیلٹس” کوفوری بحال کرایاجائے…

حصہ