پچاس پچاس گز لمبی قبریں ۔صحابہ کرام کے مزارات کہلاتی ہیں
رپورٹ ۔ انوار حسین حقی
میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے علاقے مٹھا خٹک میں پہاڑ کے پہلو میں پچاس پچاس گز طویل قبریں موجود ہیں ۔ ان مزارات کی تاریخ کے حوالے سے کوئی مستند معلومات موجود نہیں ہیں ۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مزارات صدیوں پرانے ہیں ۔ علاقے کے زیادہ تر لوگ اس پر متفق ہیں کہ یہ صحابہ کرام کے مزارات ہیں ۔۔۔۔ان قبروں تک جانے والے راستے پر ’’ مزارات صحابہ کرام ‘‘ کا بورڈ بھی لگا ہوا ہے ۔۔۔ان مزارات کے حوالے سے تحقیقی کام کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ تاہم علاقے کی تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ کرام اس علاقے میں اسلامی لشکر کے ہمراہ تشریف لائے تھے ۔۔۔ ان قبروں کی غیر معمولی طوالت کے حوالے سے علاقے میں مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہاں کے لوگ برگذیدہ لوگوں کی قبریں لمبی بنایا کرتے تھے ۔ پہلے یہ قبریں کچی تھیں اب پختہ کر دی گئی ہیں ۔ یہاں پر موجود ان قبروں کی تعداد تین ہے جن میں سے دو کی لمبائی پچاس گز ہے جبکہ ایک قبر 25 گز لمبی ہے جو بچے کی بتائی جاتی ہے ۔۔۔۔۔
سلطان خیل کے گرد ونواح کا یہ پہاڑی علاقہ تاریخی حوالوں سے بھرا پڑاہے اس خطے میں سرہنگوں ، نیازیوں اور مروتوں کی لڑائیاں بھی تاریخ کاحصہ ہیں ۔ یہ وہی علاقہ ہے جس کے بارے میں مورخین دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’یہ علاقہ بلوچستان اور سندھ سے بھی پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا ‘‘ ۔پروفیسر سلیم احسن جنہوں نے میانوالی کی تاریخ پر خاصا کام کیا ہے وہ بھی اس علاقے میں اسلامی لشکر کی آمد کا ذکر کرتے ہیں ۔ علاقے کے اسی تاریخی پس منظر میں محمد منصور آفاق بھی اس علاقے کو ’’باب الاسلا م ‘‘ کہتے ہیں ۔۔۔
پروفیسر ملک محمد اسلم گھنجیرہ ( مرحوم ) کی تحقیق کے مطابق بلوچستان کا علاقہ سندھ سے بھی پہلے فتح ہو کر مسلمانوں کی سلطنت میں شامل ہوچُکا تھا ۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف نے راجہ داہر کے خلاف محمد بن قاسم کو یلغار کرنے کے لیئے بھیجنے سے پہلے بلوچستان کے نائب گورنر علافی کو سندھ پر حملہ کرنے کے لیئے بھیجا تھا ۔ مگر اس کے باوجود بلوچستان کو ہند کا باب الاسلام اس لیئے نہیں کہ سکتے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے باقی ہندوستان سے الگ تھلگ تھا ۔ اس علاقے کا ایران کی ساسان سلطنت کا جزو ہونے کی وجہ سے اس کا ہند سے سیاسی اور ثقافتی رابطہ برائے نام تھا نیز یہ کہ بلوچستان نے باقی ہندوستان کی عسکری یا فکری تسخیر میں کوئی قابلِ ذکر کردار ادا نہیں کیا ۔۔۔ سندھ 711-712 عیسویں ( 90-90 ہجری ) میں فتح ہو کر اسلامی سلطنت کا حصہ بنا اور صدیوں تک اسلامی سلطنت کا حصہ رہنے والے اس علاقے سے ہندوستان کے دوسرے حصوں کو فتح کرنے کی کوشش کی گئی اس علاقے نے فوجی اور سیاسی کامرانیوں سے زیادہ نظریاتی اور تہذیبی فتح کے در وا کیئے ۔ اسی لیئے سندھ کو باب الاسلام کہا جاتا ہے ۔ یہ لافانی اعزاز خطہ مہران سے کسی طرح بھی چھینا نہیں جا سکتا ۔
مورخین کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے علاوہ عربوں کا پاک وہند میں داخل ہونے کا ایک اور راستہ بنوں اور میانوالی کا علاقہ ہے یہ علاقہ سندھ اور بلوچستان کی فتح سے بہت پہلے مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ پروفیسر محمد اسلم ملک گھنجیرہ( جو اس علاقے کی تاریخ کے حوالے سے اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں) لکھتے ہیں ’’ یہ علاقہ دیر تک اسلامی سلطنت کے ماتحت نہیں رہا ۔ کیوں کہ جب زابلستان ( کابل اور اس کے ملحق علاقوں ) میں بغاوت ہوئی تو یہ علاقہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ اور پھر دوبارہ فتح نہیں کیا جا سکا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس علاقے کی تسخیر سے ہندوستان کی مزید تسخیر کا باب وا نہیں ہوا ۔ لیکن اس علاقے کا اسلامی فتوحات کے آغاز میں ہی فتح ہوجانا کئی لحاظ سے اہم تھا خاص کر اس لیئے کہ
بلوچستان کے برعکس یہ علاقہ ایرانی سلطنت میں شامل نہ تھا ۔ اس لیئے یہ ہند اصل ( India Proper ) میں شمار ہوتا تھا ۔ یہ علاقہ ابتدائی اسلامی فتوحات یعنی 44 ہجری ، یا 665-666 عیسیوں میں فتح ہوا اس لیئے کئی صحابہ کرام نے بھی اس میں شرکت فرمائی اس علاقے کی مسلمانوں کے ہاتھوں کا احوال بلاذری نے فتوح البدان میں لکھا ہے کہ 44 ہجری بمطابق 665-66 ہجری میں مہلب بن صفرہ نے بتہ اور الاھواز پر حملہ کرکے کفار کے ساتھ جنگ کی ۔ طبری اور ابن الاثر نے اس کی کچھ مزید تفصیل اس طرح دی ہے کہ ’’ اس وقت خراسان کے جنرل آفیسر کمانڈٹ عبد الرحمان ابنِ سمرہ تھے اور مہلب ابن، ابی صفرہ ان کے زیر کمان آفیسر تھے اور تسخیر کابل کے بعد ہندوستان کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے صلیبی لشکر نے بتہ اور الاھواز پر حملہ کیا ۔۔۔
قلعہ کافر کوٹ کو کنگھم نے آرکیالوجیکل سروے کی جلدXIV میں شامل کیا اسے ( Kafir kot of Till Raja ) کہا ۔ اس قلعے پر عرب حملہ آوروں کے نشانات چند قبور اور ایک بے ترتیب سی مسجد کی صورت میں موجود ہیں ۔ اس سے مورخین کے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ مہلب نے بنوں کا علاقہ فتح کرنے کے بعد اس قلعے پر حملہ کرکے اسے فتح کیا ہوگا ۔ اس قلعے میں جو قبریں بنائی گئی ہیں وہ قلعے کے بھاری بھرکم پتھروں سے بنائی گئی ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک مسجد بھی ہے جس کی چوڑائی زیادہ نہیں ہے ۔ قبلہ کی سمت مصلیٰ بنا ہوا ہے ۔ اس مسجد کی اُونچائی قلعے کی زمین سے تین سے چار فٹ اُونچی ہے یہ بھی قلعے کے اُکھڑے ہوئے پتھروں سے بنائی گئی ہے ۔ یہاں مسجد کی موجودگی اس خیال کو تقویت پہنچا تی ہے کہ حملہ آور مسلمان تھے ۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم ملک کی قلعے کی حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’ یہاں عرب حملہ آوروں کی ہی قبریں ہیں اور یہ مہلب کے لشکر کے ہی مجاہدین تھے ۔ چونکہ مہلب کا حملہ 44 ہجری میں ہوا تھا ۔اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں صحابہ بقیدِ حیات تھے ۔ اس لیئے بعید نہیں کہ مذکورہ قبروں میں واقعی صحابیانِ رسول ﷺ محو استراحت ہوں اور اس طرح میانوالی کی سرزمین کو یہ فخر و امتیاز حاصل ہے کہ اُس نے ہندوستان میں سب سے پہلے صحابیانِ رسول کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا ۔ اور لشکرِ اسلام کو خوش آمدید کہا ۔۔

حصہ