neelab mianwali

ہریش چند نکڑہ کا ( وچھڑا وطن ) میانوالی ………….. تیسری قسط
ترجمہ ……… انجینئر عمران اسلم خان نیازی
میانوالی ۔۔۔قصبہ
میانوالی برطانوی راج میں انتظامی تشکیل نو کے بعد1920ء اور 1930ء کی دہائیوں میں5400 مربع میل کے رقبے کے ساتھ غیر منقسم پنجاب کا سب سے بڑا ضلع تھا۔لیکن اس کی آبادی ساڑھے چار لاکھ سے بھی کم تھی۔جس کی وجہ سے یہ شملہ (جواب ہما چل پریش میں ہے)کے بعد پنجاب کا سب سے غیر گنجان آباد ضلع تھا۔تقریباً90 فیصد آبادی دیہات میں رہتی تھی جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔البتہ میانوالی قصبے میں ہندؤں کی کافی زیادہ آبادی تھی۔
میانوالی قصبہ مغرب کی طرف دریائے سندھ کے پہلومیں تھا جبکہ اس کے مشرق میں ریلوے لا گزرتی تھی جو کہ میانوالی120 میل شمال میں روالپنڈی اور220 میل جنوب میں ملتان سے ملاتی تھی۔لاہور جو پنجاب کا دارالحکومت ہے۔میانوالی سے250 میل جنوب مشرق میں ہے۔میانوالی قصبے کا رقبہ تقریباً6 مربع میل تھا۔تین میل شرقاً غرباً دو میل شمالاً جنوباً،جبکہ اس کی آبادی تقریباً 20 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

ریلوے پلیٹ فارم سے پھرایا ٹانگے والے تک
لاہورماڑی انڈس ٹرین لاہور سے تقریباً رات 9بجے چلتی تھی۔یہ شیخوپورہ،لائل پور اور سرگودھا سے گزرتی تھی اور میانوالی 8میل جنوب میں کندیاں جنکشن سے ہوتی ہوئی صبح آٹھ بجے کے قریب میانوالی پہنچتی تھی۔ریلوے لائن قصبے سے جنوباً شمالاً گزرتی تھی۔جیسے جیسے سٹیم انجن سے چلنے والی ٹرین میانوالی رکنے کیلئے آہستہ ہونا شروع ہوتی،بایں طرف دوسہرا کے میدان اور گؤشالہ کی بیرونی دیوارنظرآنا شروع ہوجاتی۔گؤشالہ ایک ادارہ تھا جس میں ہندو اپنی بوڑھی گائیں دیکھ بھال کیلئے چھوڑ جاتے تھے۔جب وہ ان کیلئے بیکار ہوجاتیں (ہندوانہیں قصائیوں کے ہتھے چڑھنے سے بچانا چاہتے تھے)گؤشالہ سخی لوگوں اور ان لوگوں کے چندوں پر چلتا تھا جو وہاں اپنی گائیں چھوڑ جاتے تھے۔
ریلوے سگنل کیبن سے گزرنے کے بعد جہاں سبزجھنڈی دکھائی جاتی ۔زیتونی سبز رنگ کی لوہے کی گرل نظر آتی جو میانوالی اسٹیشن کے واحدپلیٹ فارم کے نزدیک آنے کا اشارہ ہوتا جیسے ہی ٹرین چنگھاڑتی ہوئی رکتی۔ بائیں ہاتھ پر اینٹوں کے فرش والا پلیٹ فارم پرمنتظر مسافر جنہوں نے شمال کی طرف سفر کرنا ہوتا،سرخ لباس والے قلی ،کچھ چھابڑی والے اور چند ایک ریلوے حکام سب اچانک حرکت میں آجاتے چھابڑی والے صدا لگاتے’’ہندو پانی،ہندو روٹی کیونکہ ہندو کھانے پینے کی چیزوں کو دوسرے لوگوں کے چھونے کے معاملے میں حساس تھے۔
ٹرین سے اترنے کے بعد ایک ڈھلوان تھی جو نیچے ایک برآمدے تک جاتی تھی جس کے پیچھے سٹیشن ماسٹر اور سگنل والے دفاتر تھے۔ یہاں پردرجہ اوّل،درجہ دوئم اور درمیانے درجے والے مسافروں کیلئے الگ الگ انتظار گاہیں تھیں۔
پلیٹ فارم پر اترتے ہوئے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دائیں ہاتھ پر ایک اونچی پانی ٹینکی اور تارکول شیڈ نظر آتاجہاں سے بھاپی انجن میں ایندھن ڈالا جاتا مزیدآگے(مال گودام) تھے جہاں ٹرینوں پر مال لادا اور اتارا جاتا تھا۔
برآمدے کے درمیان واقع باہر جانے کیلئے گیٹ سے گزر کر ایک بڑا سا پورچ تھا۔جس کے دائیں طرف بکنگ آفس کی کھڑکیاں تھیں اور بائیں طرف پارسل کلرک کی میز تھی جبکہ ایک کونے میں بہت پرانا کنڈا رکھا ہوا تھا۔یہ پورچ درجہ سوئم کے مسافروں کیلئے انتظار گاہ کا کام بھی دیتا تھا۔
ریلوے لائن کی مشرقی طرف سول اور فوجداری عدالتیں ،میانوالی کے ڈپٹی کمشنر کا دفتر،ڈسٹرکٹ جیل ،میانوالی کے دو ہائی سکول (رام موہن رائے ہندوہائی سکول اور گورنمنٹ ہائی سکول)میانوالی کا اکلوتا سینما گھر اور کنجریاں دا محلہ،سرخ بتی والا علاقہ واقع تھا۔میانوالی کی ضلعی جیل پنجاب کی بڑی اور سب سے اہم جیلوں میں سے ایک تھی۔یہ ان چند جیلوں میں سے تھی جہاں سزائے موت دینے کا انتظام تھا۔مشرق ہی کی طرف ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جسے گھنڈوالے فقیر دی وانڈھی کہا جاتا تھا۔یہ گاؤں ایک صوفی گھنڈوالا فقیر کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔جن کے بارے میں عقیدہ رکھا جاتا تھا کہ ان کے پاس معجزاتی طاقت ہے۔تمام مذاہب اور ذاتوں کے لوگ جن میں بہت سے میانوالی کے باہر کے بھی شامل تھے ان کے پاس آتے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے ان سے مدد مانگتے۔اس میں بیٹے کی خواہش،مقدمے میں کامیابی،عرصہ سے رکی ترقی حاصل کرنے سے لیکر بیماریوں سے نجات تک کی خواہشات شامل ہوتیں۔
قصبے کا زیادہ حصہ جس میں بازار اور رہائشی علاقے،محلے شامل تھے۔ریلوے لائن کی مغرب میں واقع تھا۔سٹیشن سے نکل کر ہم ٹانگہ سٹینڈ میں آجاتے جہاں قصبے کی ٹیکسیاں،گھوڑا گاڑیاں،ٹرینوں کے آنے کے انتظار میں ہوتیں۔ٹانگے اپنے مالکوں کی قابل فخر ملکیت تھے۔
مجھے پھرایا ٹانگے والا یادہے جو صدا لگاتا تھا ’’پھرایا دی پھیری۔ناں تیری ناں میری‘‘ (کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ یہ لفظ صرف سریلا اثر پیدا کرنے کیلئے ادا کرتا تھا یا اس کے پیچھے کوئی پوشیدہ فلسفہ تھا جو وہ لوگوں تک پہنچاناچاہتا تھا) وہ خود اپنی ذات میں ایک ادارہ تھا۔دھیمے انداز میں بات کرنے والا اور انتہائی باخبر۔اس کا پرانا ٹانگہ مقامی طورپر بنایا گیا اور ڈھیلا ڈھالا تھا لیکن پھر بھی لوگ اس پر بیٹھنے کو پسندکرتے تھے کیونکہ وہ خود سب کے آرام کا خیال رکھتا تھا وہ سب کے معاملات کے بارے میں اتنا متجسس اور وابستہ ہوتا کہ اسے چلتے پھرتے اخبار کے طور پر جانا جاتا تھا۔جب بھی کوئی قصبے کے باہر سے واپس آتا تو وہ اس کے جانے کے مقصداور نتائج کے بارے میں جاننا چاہتا۔اس کے ٹانگے میں بیٹھنے کے بعد چند ہی منٹ کے اندر اندر وہ آپ کو تمام اہم واقعات سے با خبرکردیتا۔ایک دفعہ وہ یہ جان کر مجھ سے ناراض ہوگیا کہ میں لاہور میں فارمن کرسچین(ایف سی)کالج میں پڑھتا تھا۔اس نے مجھے عیسائیوں(کرانٹے) سے بچنے کی تلقین کی۔کیونکہ اس کے بقول وہ ہمیشہ ہندوستانیوں کے تبدیلی مذہب کی کوشش کرتے رہتے تھے اس نے مجھے ایک نصیحت اور بھی کی کہ میں فوراً سنتن دھرم کالج یا آریا سماج کالج میں داخلہ لے لوں۔جہاں میرا کزن کرشن گوپال آہوجا اور ہم جماعت شام لال پڑھ رہے تھے۔اس کے نزدیک سارے عیسائی غیر ملکی یعنی فرنگی تھے۔

حصہ