سوغات کے سامعین
جرمنی سے خاتون
ظفر خان نیازی

یہ میری خود قسمتی ہے کہ مجھے اپنی سروس کے دوران ریڈیو پاکستان اسلام آباد میں اوقات کے اعتبار سے ایک ایسا پروگرام ملا جو اس وقت ورلڈ سروس کے میٹرز پر آدھی دنیا میں پہنچتا تھا – دن دو سے چار بجے تک ورلڈ سروس اسلام آباد اسٹیشن کے پروگرام ریلے کرتی تھی اور اس وقت ان کا خاص طور پر ٹارگٹ ایریا یورپ ہوتا تھا ، سو ہم اپنے پروگراموں میں ان کو بھی ایڈریس ضرور کرتے تھے – میرا یہ پروگرام سوغات کوئی تیرہ چودہ برس تک پیش ہوتا رہا – درمیان میں چند ماہ کیلئے اسٹیشن ڈائریکٹر محترم اسلم جدون نے مجھے اس پروگرام کی بجائے کوئی اور ذمہ داری سونپی لیکن آڈینس ریسرچ سیل کے انچارج جناب لیاقت کھارا نے جب یہ رپورٹ پیش کی کہ یہ تبدیلی سامعین میں سخت ناپسند کی گئی ہے تو بلا تاخیر مجھے سوغات دوبارا شروع کرنے کے احکامات مل گئے – یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پروگرام کا نام سوغات بھی جدون صاحب نے ہی تجویز کیا تھا –
ہمارے ان دو گھنٹوں کے دونوں پروگرام یعنی احسن واگھا کا انتخاب اور پروگرام سوغات سامعین میں ہر اعتبار سے بہت اہمیت اختیار کر گئے تھے – اور سوغات میں سامعین کے خطوں کی تعداد اسٹیشن کی کل ڈاک کا ایک تہائی ہوتی تھی – ان میں کچھ سمندر پار پاکستانی ہمیں بہت باقاعدگی سے بہت طویل خط لکھتے تھے – جب آپ دور بیٹھے ہوں تو وطن سے آتی ہوئی ہوائیں اور آوازیں کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگتی ہیں – ان میں سے کئی سمندر پار پاکستانی ، گھر آنے پر ہمیں ملنے ریڈیو اسٹیشن بھی آتے تھے – اس موقع پر ہم ان کا انٹرویو بھی ریکارڈ کر کے نشر کر دیتے تھے – جرمنی میں ایک ایسے سامع علی حسنین رہتے تھے ، وہ بھی اسی طرح جب ہمارے پاس آئے تو میں نے ان کا انٹرویو نشر کیا – اس انٹرویو کے آغاز میں میں نے ایک ایسا فقرا کہا کہ اس سے اگلے سال علی حسنین صاحب جب پاکستان آئے تو ان کی جرمن بیگم بھی خصوصی طور پر پاکستان آئیں اور مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا – اور پھر میرے ساتھ میاں سے الگ ایک پک کی خواہش کی – علی حسنین نے یہ پک بنائی اور جرمنی سے مجھے پک ارسال کی – دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ جرمن خاتون اردو یا انگلش بالکل نہیں جانتی تھی – اس ملاقات کے دوران بس کبھی کبھی اپنے میاں سے پوچھ لیتی کہ کیا بات ہو رہی ہے اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر رہتی – علی حسنین نے مجھے بتایا کہ یہ اس پروگرام کے آغازیئے کو سن کر خاص طور تمہیں دیکھنے آئی ہے – میاں نے جب اسے بتایا کہ میں نے یہ بات کی ہے تو اس نے سر ہاں میں ہلا دیا اور مسکرا دی – تھوڑا بہت اس کا احوال میاں کے ذریعے پوچھا تو پتہ چلا کہ ماضی میں وہ سخت بیمار ہو گئی تھی اور اس کو آنتوں کا آپریشن کرا کے آنتیں کٹوانا پڑی تھیں – بچے غالبا” ان کے نہیں تھے اور وہ دونوں ہر سال دو رین مہینے اپنی تعطیلات یورپ کے مختلف جزیروں پر گزارتے تھے – اس دفعہ وہ پاکستان اگئے تھے – آپ سوچ رہے ہوں گے ، میں نے پچھلے سال اس کے میاں کے انٹرویو میں کیا بات کہی تھی جسے میاں کی زبانی سن کر وہ پاکستان مجھے دیکھنے آگئی تھی –
میں نے کہا تھا –
سننے والے دوستو ، زندگی میں میری ایک خواہش تھی – میں نے سن رکھا تھا کہ جرمن خواتین بہت وفا دار ہوتی ہیں سو میں کسی جرمن لڑکی سے شادی کروں گا –
میری یہ خواہش تو پوری نہ ہو سکی لیکن میرے مہمان علی حسنین بہت خوش قسمت ہیں ، ان کی شادی ایک جرمن خاتون سے ہوئی ہے ، آئیے ان سے ان کی باتیں سنتے ہیں –

حصہ