سماجیات

تربیت کی بجائے تشدد کا رواج

تربیت کی بجائے تشدد کا رواج ………… فرح لودھی خان
میری والدہ آج سے کئی سال پہلے اسکول ٹیچر تھیں۔ مگر یہ درس و تدریس وہ عادت ہے کہ آپ ادارہ چھوڑ بھی دیں تو ساری زندگی بھی لب و لہجے سے استانی اپنی جھلک دکھلاتی رہتی ہے۔ انہی کا دیا ایک سبق ہے کہ سزا سدھار کے لئے ہوتی ہے بگاڑ کے لئے نہیں۔ سزا کا مقصد بری عادت کو زبردستی روکنا نہیں بلکہ بری عادت کے ارادے کو مرضی سے ‘نہ’ کہنا ہے۔
مگر ہمارے معاشرے کی بد قسمتی ہے کہ سزا کو تشدد سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب چاہے یہ ‘سزا’ مدرسے کے قاری صاحب چھٹی کرنے پر ہاتھ توڑ کر دیں، اسکول کے سر یا میڈم ہوم ورک نہ کرنے پر ہاتھ لال کر کے دیں یا گھر پر ابو ماموں یا چاچا حکم بجا نہ لانے کے نتیجے میں کمر پر نشان ڈال کر دیں؛ سزا تو ملے گی ہی۔ ارے ہاں! ان سب سے بڑے بابو ایک نئے آئے ہیں خبروں میں جنہوں نے ایک قدم اور بڑھا کر ایک کیڈٹ طالبعلم کی ریڑھ کی ہڈی ہی توڑ ڈالی۔ یہ ہے ہمارے معاشرے میں بچوں کی تربیت کا طریقہ۔ ڈنڈے، چمڑے، بید اور چپل کے سائے میں بڑے ہونے والے خود سے آگے والی نسل کو بھی اسی لاٹھی سے نہیں ہانکیں گے تو کیا کریں گے؟ تلقین، تنبیہ اور تربیت کے مقابلے ‘تشدد’ نسبتاً کم وقت اور کم محنت لیتا ہے۔ ہر دوسرے روز ہم پڑھتے اور سنتے رہیں گے کہ فلاں جگہ استاد نے بازو توڑ دیا یا نیل ڈال دئیے مگر ان تھانیدار اساتذہ کے کلچر میں کوئی فرق اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک والدین اپنے بچوں کے لئے خود محافظ نہ بن جائیں۔
تربیت اور ولدیت کے نام پر زور اور زبردستی رواج ہی تو بن چکا ہے اور بچوں اور بچپن کا تو یہ معاشرہ ازلی دشمن ہے۔ جب ‘ہم سب’ میں میرا بلاگ ‘ایک منافق بچہ خور قوم کا قصہ’ شائع ہوا تو بہت سے لوگوں نے عنوان کا برا منایا۔ میری اس وقت بھی گزارش تھی اور آج بھی ہے کہ حضرت ذرا نظر گھمائیں، آس پاس ایک ایسا بچہ ضرور ملے گا جو معاشرتی ظلم کا شکار ہے پھر چاہے اس کا مجرم اسکول یا مدرسے میں ہو یا گھر میں بیٹھاکوئی منافق یا بھیڑیا۔ مگر کڑوی حقیقت یہ ہے کہ بچوں سے بات کرنا، ان کی خاموشی، خوف یا چڑچڑے پن کی وجہ جاننے کا وقت کسی کے پاس نہیں۔ کس قدر بدقسمت معاشرہ اور بے حس لوگ ہیں کہ خود اساتذہ کو وحشی اور درسگاہ کو قصاب خانہ بننے کی تلقین کرتے ہیں۔ جب میں یونیودسٹی سے واپسی پر ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی تو والدین یہ جملہ ادا کرتے تھے: ” بس ہڈیاں ہماری کھال آپ کی مگر نمبر اچھے آنے چاہئیں”۔ جہاں بچوں کی قدر کا یہ عالم ہو تو میری دعا ہے کہ ایسے والدین کے ہاں بچوں کے بجائے رپورٹ کارڈ یا میڈل ہی پیدا ہو جایا کریں جنہیں وہ ماتھے پہ سجا کر گھومیں۔ معلوم نہیں تدریسی مقامات پر دی جانے والی سزاؤں کے بارے ہمارے ملک میں کوئی قانون ہے بھی کہ نہیں۔
جہاں تک رہی بات خواجہ سرا، بچوں اور خواتین پر ظلم کی تو اس معاشرے سے وحشت تب تک ختم نہ ہو گی جس دن تک ہم یہ جملہ کہتے اور سنتے رہیں گے کہ “مرد بن مرد”۔ ‘جبر’ کو ‘مردانگی’ کی چادر ڈال کر آپ اور ہم صدیوں بعد بھی جہالت کا مکروہ چہرہ چھپا نہیں سکتے مگر مرد نام کی ٹرافی صرف اسے دی جائے گی جو خود کو زورآور ثابت کرے گا۔
ہم بحیثیت قوم کب ہوش کریں گے؟ کیا فنا ہو کر ہوش آئے گا؟ لیکن بعد از مرگ ہوش نہیں حساب ہونا ہے اور جب تک حساب کی گھڑی نہ آجائے تب تک ہم سب ظالموں کے غلام بن کر معاشرے کی منافقت کو عظمت بخشتے رہیں گے کیونکہ ہم سب بھی تو معاشرہ کا حصہ ہی ہیں بغاوت نہیں۔

Back to top button