موسمیاتی تبدیلیوں نے کرہ ارض پر انسان کے ساتھ ساتھ دیگر جانداروں کی بقاء کو بھی خطرات سے دو چار کر دیا ہے
زمین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے مستقبل پر اثرات آج کا سب سے اہم مسئلہ ہے
ماہرین آبی حیات اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا مل بیٹھ کر قابلِ عمل تجاویز مرتب کر نا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
فشریز بائیوڈائیورسٹی ہیچری چشمہ بیراج میں ” ماحولیاتی درجہ حرارت کے فش بائیوڈائیورسٹی پر اثرات” کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار
میانوالی 26 اپریل:۔۔۔ڈائریکٹر جنرل ماہی پروری پنجاب ڈاکٹر محمد ایوب نے کہا ہے کہ زمین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے مستقبل پر اثرات آج کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ نے جہاں تمام جاندار اشیاء کو متاثر کیا ہے وہاں آبی حیات خصوصامچھلی کی افزائش پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سنجیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے ملک بھرکے ماہرین آبی حیات اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا مل بیٹھ کر قابلِ عمل تجاویز مرتب کر نا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور آج کا یہ سیمینار اس مسئلے کے تدارک کے سلسلے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گا ۔
انہوں نے یہ بات آج یہاں فشریز بائیوڈائیورسٹی ہیچری چشمہ بیراج میں ” ماحولیاتی درجہ حرارت کے فش بائیوڈائیورسٹی پر اثرات” کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ڈین وائلڈلائف اینڈ فشریز ،یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور ڈاکٹر محمد اشرف، سابق ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف بیالوجی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر عبدالسلام ،آزاد جموں کشمیر سے ڈاکٹر نزہت شفیع اور جاوید ایوب،اسسٹنٹ پروفیسر زوالوجی پشاور یونیورسٹی ضیغم حسن اور اسسٹنٹ پروفیسر زوالوجی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر عاطف یعقوب کے علاوہ ملک بھر سے آئے ہوئے ماہی پروری کے ماہرین ، یونیورسٹی سکالرزاور لوگوں کی بڑی تعدادموجود تھی۔
ڈاکٹر محمد ایوب نے کہا کہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث انسانی زندگی اور دیگر جانداروں کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور محکمہ کے افسران کا اس انتہائی اہم مسئلے کا بروقت ادراک کرنے اور اس سیمینار کا انعقاد کرنے پر لائق تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اہم مسلے سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو ایک ذمہ دار شہری کاکردار ادا کرنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک خوبصورت کل کی نوید دی جا سکے۔

سیمینار میں شرکت کے لئے ملک بھر آنے والے ماہرین فشریزنے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی درجہ حرارت کے فش بائیوڈائیورسٹی پر اثرات پر غورو فکر کیا اور مستقبل میں مچھلی کی پیداوار میں اضافے اور مچھلی کی اقسام کے فروغ کے لئے قیمتی آراء دیں ۔ ڈین وائلڈلائف اینڈ فشریز ،یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور ڈاکٹر محمد اشرف ، آزاد جموں کشمیر سے ڈاکٹر نزہت شفیع اور جاوید ایوب ،اسسٹنٹ پروفیسر زوالوجی پشاور یونیورسٹی ضیغم حسن اور اسسٹنٹ پروفیسر زوالوجی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر عاطف یعقوب نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آبی حیات پر پڑنے والے اثرات کے موضوعات پر مقالے پڑھے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرت سے محفوظ رہنے بارے مفید تجاویز دیں۔ قبل ازیں ڈی جی فشریز اور دیگر اعلی افسران نے معدوم ہوتی نسلوں کی بچہ مچھلی کی چشمہ بیراج میں سٹاکنگ بھی کی۔

حصہ