بدلتے موسم۔۔۔


مبشرمہدی

جب سے ہوش سنبھالا نصابی کتابوں میں پڑھتے چلے آئے ہیں کہ موسم چار ہیں :گرما ، سرما ، خزاں اور بہار۔لیکن اردو شاعروں اس پر قناعت نہیں کی اور انہوں نے برسات، ساون اور برکھا رُت ایسے خوبصورت موسموں کاا ضافہ کیا اور وہ بھی ایسے کہ انہیں اپنے شعری جذبات کے بھرپور اظہار کا بہترین موضوع بنا ڈالا۔کبھی تو یہ جذبات برسات کی بارش کی بوندوں سے بھی زیادہ سرعت اختیار کر لیتے ہیں ۔ جسے اس بات میں شک ہے وہ کلیاتِ نظیر میں صرف نظیر اکبر آبادی کی نظم ”برسات کی بہاریں” اور الطاف حسین حالی کی ”برکھا رُت” پڑھ کے دیکھ لے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ اور پھر موسموں کا بدلنا تو اردو شاعری کا ایک خاص موضوع رہا ہے۔اور تو اور نوجوان ایک لے میں گنگناتے ہوئے اپنے محبوب سے مخاطب ہوتے ہیں ”موسم کی طرح تم بھی بدل تو نہ جاؤ گے”اسی طرح شاعروں کے ہاں ” برسات کے موسم میں ، تنہائی کے عالم میں،، برسات کے ساتھ ساتھ تنہائی اور مے کشی کا ذکر بھی لازم و ملزوم ٹھہرا ہے۔
اور احمد فرازنے تو موسم کی ادائیں بدلنے میں بھی انسان کو مشقِ ستم بناتے ہوئے کہا کہ :
یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں
ساون کی گھٹاؤں نے شاعروں کے من کو مچلنے پر مجبور کیا اور دبی ہوئی خواہشوں کو جولانی دی ہے ، شاعرِ رومان اختر شیرانی نے اپنی نظم برسات اور اسی موضوع پر کئی دوسری نظموں میں ان خوب صورت جذبات کی عکاسی کی ہے۔کہتے ہیں :
ساون کی گھٹائیں چھا گئی ہیں
برسات کی پریاں آگئی ہیں
دل دینے کی رت آئی ہے
سینوں میں امنگ سمائی ہے
ناصر کاظمی تو درختوں کے پتوں ،ساون اور ساجن کی یاد کے امتزاج سے ایک نیا رنگ تخلیق کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
پھر ساون رُت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
خزاں کی آمد تو درختوں کے بھیس بدلنے کا موسم ہوتا ہے ،سارا سال سبز رنگ کے لباس میں ملبوس ہو کے ایک ہی لباس سے اکتا سے جاتے ہیں نا ۔پیلے پیلے زرد رنگ کے پتے اور ٹھنڈی ٹھنڈی سرد ہوائیں ، وہ تو چلتی ہی اسی لیے ہیں کہ زرد پتوں کو درختوں کی بلندی سے اترنے میں مدد کریں ۔انہیں اپنے کاندھوں پر سوار کر کے نازوانداز سے لہراتے ہوئے زمین تک لے آئیں ۔خزاں بہار کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس کی پیام بر بھی۔
جیسے ہی موسم نے مئی میں قدم رکھا ، گرم لوُ کے تھپیڑوں نے استقبال کیا ۔سورج نے زمین کے سامنے خود کو ایکسپوز کرنے کی خواہش کرتے ہوئے مکمل توجہ زمین کی طرف کر لی۔درجہ حرارت بڑھتا دیکھ کر ہر طرف گرمی گرمی کا شور مچا۔ واپڈا نے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کر کےشہریوں کی قوتِ برداشت کا امتحان لینے کی ٹھانی۔اب عوام بے چارے جائیں تو کہاں جائیں ۔۔۔؟؟
مرزا غالب ؔ کے بقول میر صاحب نے کیا خوب کہا تھا ۔
تندرستی ہزار نعمت ہے
اسی پر مستزاد قربان علی سالک ؔ بیگ نے کہا کہ
تنگ دستی اگر نہ ہو سالک ؔ
تندرستی ہزار نعمت ہے
ان کی روح سے معذرت کے ساتھ ان کے شعر میں تحریف کرتے ہوئے عرض کروں گا ۔
لوڈشیڈنگ اگر نہ ہو اشہرؔ
موسم گرما ہزار نعمت ہے
لیکن ساتھ ہی مرزا غالب ؔ مرحوم کے مرغوب پھل اور پھلوں کے بادشاہ آم نے بازار میں دھواں دھار انٹری دی، ملک شیک اور لسی کا دور چلا ۔ ٹھنڈا ٹھنڈا تربوز ، میٹھا خربوزہ اور آلو بخارا کسے پسند نہیں، یہ بھی گرمیوں کی سوغات ٹھہری۔گرمیوں کی دوپہر میں ادھر من چلوں نے گروہ در گروہ ،گرمی کا زور توڑنے کے لئے رخ کیا نہروں کا ۔لیکن نہروں پہ نہانے کے لئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے۔
اور صنفِ نازک کے لئے بھی موسمِ گرما اس لحاظ سے باعثِ تسکین ہوتا ہے کہ لباس کے معاملے میں کاٹن ، لان وغیرہ کے دیدہ زیب اور سٹائلش ملبوسات انہیں پہننے کو ملتے ہیں۔اور سونے پہ سہاگہ اساتذہ اور بچوں کے لئے کہ ان کو سکول سے چھٹیاں مل جاتی ہیں۔
ہمیں بھی مل گئی ہیں جی چھٹیاں ۔۔۔۔ ہم تو چلے انہیں انجوائے کرنے ۔۔چلو پھر ملیں گے۔اگر خدا لایا۔

حصہ