سفینہ چا ہیے اس بحرِ بیکراں کیلئے
تنو یر خا لد ۔
تعلیم کسی بھی عہد کی صداقتوں کے حقیقی شعور سے آشنائی ،معا شرتی اصلا ح ، حقوق سے آگہی ، سیاسی ،سما جی اور معا شی تر قی ، صحت مند معا شرہ کی تشکیل ، خوشحا لی و آسو دگی ، تعمیر وتر قی اور مہذب معا شرہ کی تشکیل کی واحد کلید ہے ۔کیو نکہ اس شا ہراہ پر چل کر ہی ہم اتحاد و یکجہتی ،تحمل و بر دباری ، رواداری و بر داشت ، احساس و ادراک اور عُروج و کما ل کی لذتوں سے آشنا ہو سکتے ہیں ۔تکمیلِ ذات و تسخیرِ کا ئنات حصول علم ہی سے ممکن ہے اوریہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ریاست کے افراد کو علم و ہنر کی لذتوں اور ذائقوں سے آشنا کر ے اور انہیں ہر لحا ظ سے بینا بنا نے کیلئے راست اقدا م کر ے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں دیگر شعبہ ہا ئے زیست کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی ارتقاء ،عروج اور زوال کے مرا حل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادی وجہ وہ تجر بات ہیں جو اس شعبہ کی تر قی کیلئے سائنسی طریقہ کا ر مکمل کر نے کی بجا ئے اولین طور پر قائم کر دہ مفروضوں پر اکتفا کر کے کئے جا تے رہے ہیں ۔جب تک تعلیم کے شعبہ کو زمینی حقائق کو ملحوظ رکھتے ہو ئے پا ئیدار حکمت عملی اور ٹھوس بنیادوں پر استوار نہیں کیاجا تا تعلیمی پستی آکاس کی ما نند پھیلی رہتی ہے ۔اک عرصہ سے ضرورت تھی کہ تر قی کی اس شا ہراہ کی مر مت و بحا لی پر تو جہ دی جا ئے مگر اسے مستقل بنیا دوں پر استوار کر نے کی بجا ئے عارضی ، وقتی اور ڈنگ ٹپا ؤاقدا مات کو اپنایا جا تا رہا ۔پنجا ب میں گزشتہ آٹھ سال سے موجو د حکو مت نے اس شعبہ کو اپنی تر جیحات کا نہ صرف حصہ بنا یا ہے بلکہ تعلیمی تر قی کو سرفہرست گردانا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے تر قی کے اس مشن کو ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘ کا نا م دیا ہے جس سے اس شعبہ میں بتدریج بہتری کے آثار انگڑائی لیتے نظر آتے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ کے مشن ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘ کے تحت پنجاب کے تما م اضلاع میں تعلیمی شعبہ کی تر قی کیلئے قابل عمل اورُ دوررس نتا ئج کے حا مل اقدامات بر وئے کار لا ئے جا رہے ہیں ۔معیار تعلیم میں بہتری ، سکولوں میں عالمی معیار کے مطا بق تدریسی ماحو ل ، معیاری کتب کی فراہمی ، سو فیصد بچوں کا سکولوں میں داخلہ یقینی بنا نا ، سکولوں میں آئی ٹی لیب کے قیام ، ذہین طلبا ء کیلئے میرٹ سکالر شپ ، پنجاب ایجو کیشن فا ؤنڈیشن کے ذریعہ والدین کو اپنے بچوں کو مرضی کے نجی سکولوں میں حکو متی خر چہ پر تعلیم کی فراہمی ، کثیر و خطیر رقم سے پنجاب انڈوومنٹ فنڈ کا قیا م،دانش سکولوں کا قیا م ، نئے سکول، کا لجز ، یو نیورسٹیزاور فنی تعلیم کے اداروں کا قیام ، سپیشل بچے اور بچیوں کیلئے مفت تعلیم وتر بیت کی سہو لیات ، انفراسٹرکچر کی بہتری اور سکولوں میں اسا تذہ کی کمی کو پورا کر نے کیلئے ہزاروں کی تعدا د میں مر د وخواتین ایجو کیٹرز کی بھر تی حکو مت پنجاب کے وہ انقلا بی اقدامات ہیں جن کے مستقبل قریب میں مثبت اور دورس نتا ئج مر تب ہوں گے ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہبا ز شریف کی ہدا یت پر پنجاب کے تما م اضلاع میں با لعمو م اورُ دورافتادہ و پسما ندہ اضلاع میں با لخصوص سکول ایجو کیشن سیکٹر کی بہتری کیلئے بے پنا ہ وسائل خر چ کئے جا رہے ہیں ۔ضلع میانوالی کا شمار بھی پنجا ب کے دُورافتا دہ اور پسما ندہ اضلاع میں ہو تا ہے اس ضلع میں تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے تر جیحی بنیادوں پر عملی اقدامات برؤئے کار لا ئے جا رہے ہیں ۔ضلع میانوالی میں گزشتہ سال تعلیمی شعبہ کی مختلف تر قیا تی سکیموں اور پرو گراموں پر 38کر وڑ روپے کی خطیر رقم صرف کی گئی ۔مو جو دہ ما لی سا ل میں ضلع میانوالی میں تعلیمی شعبہ کی بہتری ، سکو لوں میں تعلیمی ضروریات کی تکمیل اور تعلیمی معیا رکو بہتر بنا نے کیلئے 46کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔جو گزشتہ سا ل خر چ کر دہ وسائل سے 18فیصد زائد ہے ۔حکو مت پنجاب نے اس سال سکولوں کی روز مر ہ ضروریات اور فوری ضرورت کے کا موں کی بروقت تکمیل کیلئے پنجاب بھر کے سکو لوں کے ہیڈ ماسٹر ز/پر نسپلز کو بر اہ راست نا ن سیلری بجٹ فراہم کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔نا ن سیلری بجٹ سکو ل میں بچوں کی تعداد کی مناسبت سے (ایک ہزار روپے فی سٹو ڈنٹ ) فراہم کیا جا ئیگا ۔ضلع میانوالی کے جملہ سکولوں کے ہیڈ ماسٹر ز /پر نسپلز کو اس سال نا ن سیلر ی بجٹ کے تحت مجموعی طور پر 28کروڑ روپے کی خطیر رقم بر اہ راست فراہم کی جا ئیگی ۔حکو مت کے اس انقلا بی اقدام سے سکولوں میں بچوں کو روز مر ہ تعلیمی سہو لیات کے حصول کی آڑ میں حا ئل تما م رکا وٹوں کا خا تمہ کر دیا گیا ہے ۔اب طلبا ء و طالبات کی فوری نو عیت و ضرورت کے کا م ادارہ کے سربر اہ بلا تا خیر اپنی صوابدید کے مطا بق کسی قسم کی منظوری واجازت کے بغیر کرواسکیں گے ۔اور کو ئی عذر یا قد غن اس میں مانع نہ ہو گی ۔ضلع میانوالی میں زیر تعلیم بچوں کو کمپیوٹر و انفارمیشن ٹیکنا لو جی کی جدید تعلیم سے آراستہ کر نے کیلئے سا ل2015-16میں سو ادوکروڑ روپے کی لا گت سے 14ہا ئی سکولوں میں جدید ترین آئی ٹی لیب قائم کی گئیں جبکہ رواں سال میں ایک کروڑ60لا کھ روپے کی لا گت سے مزید دس سکولوں میں جد ید تر ین آئی ٹی لیب قائم کی جا رہی ہیں ۔حکو مت پنجاب کی پا لیسی کے مطا بق مر حلہ وار ضلع میانوالی کے تما م گرلز و بوا ئز ہا ئی سکولوں میں یہ لیبارٹریاں قائم کی جا ئیں گی ۔سکولوں میں بچوں کی تعدا د اور ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہو ئے گزشتہ سال با رہ کروڑ روپے کی لا گت سے ضلع کے 336سکولوں میں نا مو جو د سہولتوں کی موجو دگی یقینی بنا ئی گئی ہے ۔128سکو لوں میں طلبا ء وطالبات کیلئے نئے ٹوائلٹ بلا ک اور چاردیواریوں کی تعمیر کے سا تھ سا تھ بجلی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنا یا گیا ۔جبکہ رواں ما لی سا ل میں435سکو لوں میں حکو مت پنجاب کی پا لیسی کے مطا بق وہ تما م سہو لتیں فراہم کی جائیں گی جو دیگر سکولوں میں فراہم کی جا رہی ہیں ۔گزشتہ سا ل دو کروڑ ستر لا کھ روپے کی لاگت سے 18سکو لوں میں ایڈیشنل کلا س رومز تعمیر کرو ائے گئے ۔پا نچ اپ گریڈ کئے گئے سکولوں میں تین کروڑ سا ٹھ لا کھ روپے کی لا گت سے نئے ایجو کیشن بلا ک تعمیر کروائے گئے جبکہ اس سا ل پا نچ کروڑ اڑتیس لا کھ روپے کی لا گت سے آٹھ سکو لوں کو نہ صرف اپ گر یڈ کیا جا ئے گا بلکہ نئی کلا سوں کیلئے نئے ایجو کیشن بلا ک تعمیر کرو ائے جا ئیں گے ۔
حکو مت پنجاب کا تعلیمی شعبہ کی ترقی و بہتری کیلئے مذکو رہ اقدامات کے علا وہ ایک اور انقلا بی اور بڑا اقدا م بر سہا بر س سے قائم سرکا ری سکو لوں کی مخدوش خطر نا ک عمارات کو گرا کر نئی عمارات کی تعمیر ہے ۔سچی با ت تو یہ ہے کہ اس قسم کی عمارات کو تو بہت پہلے گرا دینا چا ہیے تھا کیونکہ اس قسم کی مخدوش عما رات کے سا ئے میں تعلیم کا حصول زندگی دا ؤ پر لگا نے کے مترادف ہے اور نو نہالا ن قوم کی زندگیاں ہمہ وقت خطرہ سے دو چار رہتی ہیں حکو مت پنجاب کا یہ فیصلہ ان والدین کیلئے طما نیت کا با عث ہے جو اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد نہ آنے تک سولی پر لٹکے رہتے تھے ۔حکو مت کے اس فیصلہ کے تحت سال2015-16میں ضلع میانوالی کے 95ایسے سکولوں کی نشا ندہی کی گئی جن کی عمارتیں انتہا ئی خستہ حال ، مخدوش اور خطر ناک تھیں حکو مت پنجاب کی ہد ایت پر ان عمارتوں کو گرا کر 26کروڑ57لا کھ روپے کی لا گت سے نئی عمارات کی تعمیر کر وائی گئیں جبکہ اس سال98مز ید ایسے سکولوں میں مو جو د مخدوش عمارتوں کو گرا کر 25کروڑ روپے کی لا گت سے نئی عمارات تعمیر کی جا ئیں گی اور جہاں ضروری ہو گا مر مت و بحا لی کو یقینی بنا یا جا ئے گا ۔ضلع میانوالی کے سر کار ی سکولوں میں اسا تذہ کی کمی کو پورا کر نے کیلئے 2015-16میں361نئے ایجو کیٹر ز بھر تی کئے گئے ۔جبکہ ان سکولوں میں تعلیم کا معیار اور سہو لیات کی ما نیٹر نگ کیلئے24اے ای او ز بر اہ راست بھرتی کئے گئے ہیں اس سال مزید 384ایجو کیٹر زاور مزید اے ای اوز بھر تی کئے جا ئیں گے ۔اس کے علا وہ سر کار ی سکو لوں میں سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنا یا گیا ہے ۔اے کیٹیگری سکولوں میں سیکورٹی گارڈز کی تعیناتی کے سا تھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمر ے نصب کروائے گئے ہیں جبکہ سکو لوں کے اساتذہ اور سٹاف کو اس حوالہ سے خصوصی ٹر یننگ بھی دلو ائی گئی ہے ۔محکمہ تعلیم کے حوالہ سے ایک اور اہم کا م ضلع میانوالی میں پا نچ کروڑ روپے کی لا گت سے ایجو کیشن کمپلیکس کی تعمیر کی منظوری دی ہے ۔محکمہ تعلیم کے ضلعی دفاتر اپنی محکما نہ عمارات نہ ہو نے کی بنا ء پر عرصہ دراز سے دربدر تھے حکو مت پنجاب کے اس فیصلہ سے محکمہ تعلیم کے تما م دفاتر ایک ہی چھت کے تلے سر کار ی امور سر انجا م دے سکیں گے اور محکمہ تعلیم کے ملا زمین کے سا تھ ساتھ شہریوں کیلئے بھی آسا نی ہو گی ۔ مذکورہ اقدامات اس امر کے غماز ہیں کہ حکو مت پنجاب سنجیدگی سے تعلیمی شعبہ کی بہتری اور تر قی کیلئے دستیا ب وسائل کو استعما ل میں لا تے ہو ئے بہترین اقدامات بر ؤئے کار لا رہی ہے تاہم اس شعبہ میں طلبا ء و طالبات اساتذہ اور جملہ سٹاف کو سہولیات کی فراہمی کے سا تھ ساتھ ان کی کارکردگی کو بھی بلاتفریق و امتیاز ما نیٹر کر نے کی ضرورت ہے تا کہ سکولوں میں معیار تعلیم کو محض دعووں سے نہیں بلکہ عملی طور پر پابند کیا جا سکے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بنیادی انسا نی ضرورت کی تکمیل کیلئے مستقل اور دیر پا بنیادوں پر جامع اور ٹھوس حکمت عملی وضع کی جا ئے اور تعلیم کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کر نے کیلئے زیا دہ سے زیا دہ وسائل کی فراہمی کو ممکن بنا یا جا ئے ۔سکولز ایجو کیشن وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے طلبا ء و طالبات تعلیمی پگڈنڈی اور کچے پکے راستوں پر سفر کر تے ہو ئے اعلیٰ تعلیم کی شا ہراہ پر رواں دواں ہو تے ہیں ۔سکول ایجو کیشن اس کی بنیاد ہے اور بنیاد جس قدر مضبوط اور معیاری ہو گی مستقبل میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں کارکر دگی بھی اسی قدر مو ئثر ہو گی اور تحقیق و سا ئنسی شعبہ جات میں طلبا ء و طالبا ت بالخصوص ملک و قوم کی بہتری اور مفاد کیلئے تر قی کی نئی راہیں دریا فت کر سکیں گے ۔اس سلسلہ میں حکو متی اقدامات کے سا تھ ساتھ محکمہ تعلیم کے افسران ، اساتذہ اور والدین پر بھی بھا ری ذمے داری عائد ہو تی ہے با لخصوص اسا تذہ کو چا ہیے کہ وہ جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہو کر محض تنخوا ہ/روز گار کیلئے نہیں بلکہ ملک و قوم کے بہتر مستقبل کیلئے اس کارخیر کو سرانجا م دیں تا کہ ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو نے والی مو جو دہ اور آئندہ نسلیں وطن عزیز کو سا ئنسی ،معاشی ، دفاعی اور ٹیکنا لو جی کے لحا ظ سے تر قی یا فتہ ممالک کے ہم پلہ لا سکیں

حصہ