آئینہ
عروہ نیازی
اولادِ مدینہ
“یا اللہ جتنے بھی بے اولاد ہیں انہیں اولادِ نرینہ صا لح عطا فرما
یا اللہ جتنے بھی بے اولاد ہیں انہیں اولادِ نرینہ صا لح عطا فرما” جب عالمہ باجی نے اپنے یہ الفا ظ دو با رہ دہرائے تو وہ محفل سے اٹھ کر ہال سے باہر آ گئی۔
تقریباََ پانچ منٹ بعد جب دعا اپنے اختتام کو پہنچی تو تب اس کی سہیلی نے آکے اس کا کندھا ہلایا۔
کتنی بار کہاہے کومل یوں محفل چھوڑ کے مت آیا کرو۔بے ادبی ہو تی ہے تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا؟۔”
“اور جو یہاں محفل میں بیٹھ کے بے ادبی ہو رہی ہے وہ؟ اس کے بارے میں تم کیا کہو گی”وہ جواب میں غصہ سے بولی۔
“یہ اس کے محبوب کی محفل ہے اور اس محفل سے اٹھ کے جانے سے بڑی کو ئی بے ادبی اور نہیں ہو سکتی”
“تمہیں کیا لگتا ہے میں جان بوجھ کہ اٹھ آ ئی ہوں،مجھے شوق ہے اٹھنے کا،کیوں کرتا ہے وہ ہم سے اتنی محبت؟؟ مجھ سے اس کی محبت کی تو ہین بر داشت نہیں ہو تی،اگر تم اس کے محبوب کی بات کر تی ہو تو کیا انہیں محبت نہیں تھی ہم سے؟؟تھی اور بہت تھی،حد سے زیادہ تھی،کیا ایسے ہی کہ دیا تھا انہوں نے،میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے،جس نے اس کو دکھ پہنچا یا اس نے مجھے دکھ پہنچایا،کیا ایسے ہی فرمائےتھے انہوں نے وہ لفظ ایک بیٹی کے لئے جو سارے صحابہ کرام ان کے لئے بولا کرتے تھے۔
کیا ایسے ہی فر مایا دیا تھا انہوں نے فداک ابی وامی یا فاطمہ۔۔نہیں ایسے نہیں فرمائے تھے بہت محبت تھی انہیں بھی بیٹیوں سے، تو پھر بتا ءو کیا قصور ہے ان بے اولا د لو گوں کا جو بیٹیوں کو بھی ترس جاتے ہیں لیکن یہ عالم لوگ ہر جگہ ہر دعا میں ان کے لئے صرف بیٹا ہی مانگتے ہیں۔ اگر بیٹا ان کی قسمت میں نہ ہوا اور بیٹی ایسی ہی کسی دعا کے بدلے ان کی قسمت میں لکھی ہوئی اور انہیں نہ ملی تو؟؟کون زمہ دار ہو گا ان کی بد نصیبی کا،انہیں کیا ڈر ہےیہی نا کہ یہ نر سے نرینہ تو بول دیتے ہیں مادہ سے مدینہ کیسے بولیں،اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں یہ لفظ بے ادبی نہ بن جائے،تو مت بولیں یہ لفظ بیٹی بول دیں”
“کومل کیوں ایسی باتیں سوچ کے خود کو ہلکان کرتی ہو،ایسی باتیں مت سوچا کرو”اسکی سہیلی بولی
“مجھے شوق نہیں ہے خود کو ہلکان کرنے کا شائستہ،کیا کروں مجھے اس کی محبت یاد آ جاتی ہے تو اس پہ بہت پیا ر آ جاتا ہے،پھر لوگوں کی زرا سی بات برداشت نہیں ہو تی،دیکھو نہ لوگ اس سے بیٹے مانگ مانگ کے نہیں تھکتے لیکن وہ پھر بھی بیٹیاں عطا کرتے نہیں تھکتا،لوگ بیٹوں کو اہمیٹ دیتے ہیں تو وہ بیٹیوں کو اہمیت دیتے نہیں تھکتا لوگ ایک بیٹی اور دویا تین بیٹے مانگتے ہیں تو وہ ہمیں پیغام بھجواتا ہے جس نے دو بیٹیوں کی پر ورش کی وہ جنت میں جائے گا، لوگ اپنی لائی ہو ئی چیز پہلے بیٹے کو دیتے ہیں تو اس کا پیغام آتا ہے جب بھی کو ئی چیز آئے پہلے بیٹی کو دو بعد میں بیٹے کو دینا،تم نے آج تک کو ئی محفل نہیں دیکھی ہو گی جس میں بے اولادوں کے لئے بیٹی مانگی گئی ہو لیکن اکثر لو گوں کے گھر میں دس دس سال بعد وہ بیٹیاں بھیج دیتا ہے۔لوگ دعا کرتے اور منگواتے ہیں کہ اللہ ہمیں پہلا بیٹا عطا کرے تو وہ پیغام بھجواتا ہے جس عورت کی پہلی بیٹی ہو اس سے بڑھ کر خوشنصیب کو ئی نہیں،اب تم خود بتا ئو میرا کیا قصور ؟؟ جب وہ خود اتنی محبت کر تا ہے تو مجھے بھی اس سے محبت ہو گئی ۔اور اس کی محبت میں یہ بر داشت نہیں ہو تا کہ ہم ایک سائیڈ پہ رہیں،ایک کو مانگیں،اور میں نے اس کے محبوب کی محفل کہاں چھوڑی ہے ،پو ری تو اٹینڈ کی ہے”
“تم ٹھیک ہو کومل ،چلو خیر چھوڑو ان باتوں کو چلو میرے ساتھ اب کھانالگ چکا ہے وہ کھاتے ہیں واپس گھر بھی جانا ہے”اس کی دوست نے کہا تو وہ چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑی کیونکہ اسے معلو م تھا اب اسکی یہاں کو ئی نہیں سنے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بس بھی کر دو شائستہ اور کتنا انتظار کروں تمہارا،میں نے گھر بھی واپس جانا ہے”اسے اپنی سہیلی کے گھر آ ئے پانچ منٹ ہو چکے تھے وہ کپڑے سلا ئی کر رہی تھی قمیض کا صرف گلا رہ گیا تھا اس لئے ا س نے کہا کہ میں مکمل کر لوں پھر بیٹھ کے باتیں کرتے ہیں لیکن کومل سے انتظا ر نہیں ہو رہا تھا۔
“بس تھو ڑی سی تر پا ئی رہ گئی ہے”
“مجھے بولنے تو دو کم از کم”کومل اکتا کر بولی کیونکہ اس نے کہا تھا کام مکمل ہو جائے تب بات کرنا۔
“تم یہ کیوں بھول رہی ہو کہ تم صرف بولتی نہیں بلواتی بھی ہو،تمہا ری بات صرف سننی نہیں پڑتی بلکہ اس پر بحث پر بندہ مجبو ر ہو جاتا ہے اور اس وقت تمہارا اترا ہوا چہرہ بتا رہا ہے کہ پھر کو ئی نئی بات لے کہ آ ئی ہو جس پر بحث ہو گی سو مجھے کا م پو را کرنے دو”
“چلو اب بولو” مزید پانچ منٹ گزرنے پر وہ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد بولی۔
“مجھ سے نہیں بر داشت ہو تا یہ سب”وہ رونی صورت بنا تے ہوئے بولی۔
“تم سے کچھ برداشت بھی ہوتا ہے”جواب میں شائستہ نے ازلی سرد مہری کا مظا ہرہ کیا تو اسے غصہ آنا ایک قدرتی بات تھی۔
“تم نے کبھی میری بات کو سیریس لیا ہے؟ ہر وقت مزاق اڑاتی رہتی ہو میرا”
“تم بھی تو ڈھیٹ ہو پھر بھی میرے ہی پاس چلی آتی ہو اپنا مزاق بنوانے”اس نے ایک بار پھر سے جلا نے والی بات کی تو کومل نے اس کو کھا جا نے والی نظروں سے دیکھا تبھی وہ ہنس پڑی۔
“چلو اب بتا ئو کیا ہوا ہے سن رہی ہوں میں”
“یا ر جو کوئی عورت اب گھر آتی ہے امی یوں رو نا شروع کر دیتی ہیں جیسے ان کی بیٹی پیدا نہیں ہو ئی بلکہ بیٹا مر گیا ہے”
“ہاں تو یہی تو ہوا ہے”
“تم پھر مزاق میں لے رہی ہو میری بات؟”
نہیں یار جب پا نچویں بیٹی آ ئی ہے تو بیچا ری آنٹی کی بیٹے کی آ خری امید بھی تو ختم ہو گئی ہے”
“تو اس کامطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ بندہ پاگلوں کی طرح ہر آنے جانے والے کو دیکھ کر رونا ہی نہیں بلکہ بین کر نا شروع کر دے”
“تو نکالنے دو ان کو ان کے دل کی بھڑاس جب دل کا بوجھ ہلکا ہو گا تو چپ کر جائیں گیں رب کی رضا سمجھ کے”
“تو وہ پہلے دن ہی رب کی رضا سمجھ کے چپ ہو جا ئیں کیا فا ئدہ ایسے صبر کا جو پو رے شہر کے سامنے رونے دھونے کے بعد بندہ اختیار کرے”
“کیا ہے تم کو کومل،رونے دو انہیں،دل کی بھڑاس نکالنے دو ان کو،دکھی ہیں وہ تمہیں کیا تکلیف ہے؟”
“تمہیں معلوم ہے نہ کہ میں تیری طرح بے حس نہیں ہوں،چھو ٹی سے چھو ٹی بات کو فیل کر تی ہوں اور یہ تو پھر میرے گھر کا معاملہ ہے اور مجھ سے بر داشت نہیں ہو تا رب ہما رے گھر میں اپنی رحمت بھیجے اور وہاں اس رحمت کی نا شکری جا ری رہے”
“کون کر رہا ہے نا شکری؟ او پاگل لڑکی آنٹی کو بیٹے کی جو آخری آس تھی وہ ٹو ٹی ہے وہ اس لئے رو تی ہیں۔اس لئے نہیں کہ بیٹی آئی ہے”
“جو کچھ مرضی ہے،مجھ سے نہیں بر داشت ہو رہا یہ ،اب بتا ئو میں کیا کروں”
آنٹی کو سمجھا ءو۔”
“نہیں سمجھتیں وہ”
“ہاں ایک بات یا دآ گئی”
“کونسی؟”
“سورہ مریم ترجمہ کے ساتھ پڑھہ ہے تم نے؟”
“ترجمے کے ساتھ نہیں تفسیر کے ساتھ پڑھی ہو ئی ہے”
“تمہیں وہاں کیا نظر آیا”
“مجھے وہ بھی نظر آیا جو تم بتانا چاہ رہی ہو۔اور وہاں سے اپنے رب کی محبت کا ایک بہت ہی خوبصورت پوائنٹ بھی نظر آیا جو کہ تمہا رے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا”
“تمہارے خیال میں میں کیا بتا نا چاہ رہی ہوں”
“یہی کہ بیٹا مانگنا نبی کی سنت ہے ہےنا”
“ہاں۔۔تو پھر کیوں چھوڑ آ تی ہو محفلیں”
“مجھے بیٹا مانگنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف بیٹا مانگنے پر اعتراض ہے۔اور وجہ تمہیں اس دن بتا دی تھی کہ صرف بیٹا مانگنے پر کیوں اعتراض ہے۔”
“اورسورہ مریم میں کو نسا ایسا پوائنٹ تم نے دیکھ لیا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا”شا ئستہ کے سوال پہ وہ بس مسکرا دی۔ جب سے آئی تھی تب سے منہ بنا ہوا تھا اس کا لیکن شایستہ کے پو چھنے پر وہ مسکرائی اور پھر مسکراتی ہی چلی گئی۔
“بتا ئو بھی،کیا ایسے ہی ادھر ادھر دیکھ کے مسکراتے رہنا ہے تم نے؟؟”
“دل تو یہی کر تا ہے کہ اس پوائنٹ کو سوچتی رہوں اور مسکراتی رہوں پر وقت،ہر ٹا ئم ،اتنا خوبصورت ہے وہ پوائنٹ”
“اچھا پھر تو جلدی بتا ئو نا۔۔۔”
” کیسے بتا ئوں کس طرح بتا ئوں”اتنی سی بات کہ کر اس نے شا ئستہ کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
“میں سو چتی ہوں فقہاءِ کرام کو زراترس نہیں آیا کہ جب کسی بیٹی کو یہ پوائنٹ معلوم ہو گا تو اس کا کیا حال ہو گا،کتنی آسانی سے بیا ن کر گئے وہ۔۔۔۔۔”
“تم آرہی ہو نہ پھر اپنی حرکتوں پہ کتنی بار کہا ہے ادب کو ملحو ظ خا طر رکھ کے بات کیا کرو”شائستہ نے غصہ میں آکر اپنے ہاتھ چھڑا لئے۔
“تمہیں معلوم ہے شایئتہ،محبت میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں پہ انسان خود سراپا ئے ادب بن جاتا ہے ،پھر واہاں پہ ادب کی ضرورت ہی نہیں رہتی،وہاں کی گئی بات ادب کی بات کرنے والوں کے لئے ماننے کے لا ئق نہیں ہو تی لیکن جو سراپا ئے ادب ہو تے ہیں وہ بہت کچھ لکھ جاتے ہیں ،کہ جاتے ہیں۔
انا الحق کا پو را تصور وہیں پہ وجود میں آتا ہے
شکوہ جیسی نظمیں اسی کیفیت میں لکھی جا تی ہیں۔
خدا بندے سے خود پو چھے کا بتا تیری رضا کیا ہے،جیسے شعر اسی کیفیت میں لکھے جا تے ہیں۔شائستہ جب میں اس پوائنٹ کو سوچتہ ہوں نہ تو میرا جی کر تا ہے میں اپنے رب سے اسی لیول پہ جا کے محبت کروں اتنی محبت کروں اتنی اتنی کہ پھر کچھ بھی نہ رھے سب کچھ پیچھے رہ جائے میری ماں کا رونا یہ محفل میں مانگی جانے والی دعائوں پر اعترا ضات سب کچھ ایک پل میں ختم ہو جائے۔صرف میرے رب کی محبت میرے دل میں رہ جائے میرے دل سے ہر ایک بات ہر ایک چیز نکل جائے۔”
اگر تمہارا فلسفہ ختم ہوا ہے تو پلیز بتا دو مجھے وہ پوائنٹ”
“جب اس کا نبی بیٹے کی دعا کر رہا تھا ناں۔۔۔تو اس نے اس وقت بھی بنٹیوں کو پیچھے نہیں چھوڑا”
“میں سمجھی نہیں؟”
“نبی کی دعا رد نہیں ہو تی ناں؟”
“ہاں جی”
“تو پھر سوچو وہ اپنے نبی کو اس حجرہ تک کیوں لے آیا، اس کے نبی نے اس حجرے میں آجانے والے بے مو سمے پھلوں کو دیکھا تو فرمانے لگے اے اللہ اگر تو بے موسمے پھل دے سکتا ہے تو پھر مجھے بھی اس عمر میں اولاد عطا کر،مجھے بھی ان کے وسیلے سے اولاد عطا فرما”
“تو اسمیں ایسا کونسا پوائنٹ ہے؟؟”
“وہ حجرہ معلوم ہے کس کا تھا؟”
“حٖضرت مریم کا”
“کیا وہ ایک بیٹی نہیں تھیں؟؟”
“تو پھر ”
“نہیں آئی سمجھ”
“اس نے بتا دیا کہ بیٹا بھی بیٹیوں کے وسیلے سے ملتا ہے”اس کے اس جملے کے بعد اس کی فرینڈ اسے حیرانگی سے دیکھے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائستہ کے گھر سے واپسی پر جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہو ئی،امی کے رونے کی آ واز پھر اس کی سماعتوں سے ٹکرائی اسے معلوم ہو گیا کہ کو ئی نہ کوئی آ نٹی آئی بیٹھی ہو گی۔اسی لئے وہ کمرے کی جانب چل پڑی جب کمرے میں پہنچی تو سامنے سامنے والی آنٹی بیٹھی تھیں اور امی ان کے سامنے زارو قطار رو رہیں تھیں۔اس لمحے نہ جانے اسے کیا ہوا کہ اس نے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہو ئے اس دو دن کی بچی کے گلے پر ہاتھ رکھ کہ دبانے کی کوشش کی,مار کیوں نہیں دیتی آپ اسے،تماشہ بنا لیا ہے آپ نے اس کے آنے کو،ساری دنیا کے سامنے رونے کی بجائے اسے ہی ختم کر دیں،،
،،دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا،،اس کی امی زور سے چیخی تھین اور اسے زور سے پیچھے دھکیل دیا۔دھکا لگنے کی وجہ سے وہ زمین پہ جا گری تھی۔وہ اور بھی کچھ کہتی لیکن ابو شور سن کے کمرے میں آگئے تھے اس لئے چپ ہو گئی۔
،،ہا ئے اللہ اس کو تو سانس ہی نہیں آرہا،، امی نے اسے گو د میں لیتے ہو ئے کہا،ابو نے جلدی سے آ گے بڑھ کے اس کو گود میں لیا اور وہ دیکھ نہیں سکی انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا کہ اگلے کچھ ہی لمحا ت میں نہ صرف اس کا سانس واپس آگیا بلکہ وہ چیخ چیخ کے روتی رہی۔تو بابا اسے گو د میں لئے با ہر لے گئے۔وہ اٹھ کہ چا ر پائی پہ خامو شی سے بیٹھ گئی،جب تک وہ اسے چپ کراتے رہے کمرے میں مکمل خا موشی رہی
بس امی ہلکی آواز میں اسے برا بھلا کہتی رہیں، اسے لگا جیسے بابا انہیں اشا رے سے کچھ کہنے سے منع کر گئے ہیں۔جب وہ چپ کر گئی تب وہ اسے کمرے میں لے آئے،اور امی کو دے دیا۔
،،میرے ساتھ چلو تم
وہ غصے سے اسے اپنے ساتھ آنے کا کہتے ہو ئےکمرے سے نکل گئے۔
تو وہ چپ چاپ اٹھ کے ان کے پیچھے ان کے کمرے میں آگئی،
،،بیٹھو،،اس کے پہنچتے ہی انہوں نے اسے اپنے ساتھ چا ر پائی پہ بیٹھنے کا کہا تو وہ چپ چاپ ان کے پاس بیٹھ گئی،
،،یہ سب کیا ہے کومل،میری بیٹی ایسی تو نہیں ہو سکتی،،
،،سوری بابا،، اتنی سی بات کہ کر وہ سسک پڑی۔
،،روو مت مجھے اس وقت آپ پہ شدید غصہ آرہا ہے،آپ جانتی ہیں آپ نے کیا کیا ہے،اگر گڑیا کو کچھ ہو جا تا تو؟،،
،،سو ری بابا،،وہ اپنے آنسو صا ف کرتے ہوئے ایک بار پھر سے بولی۔
،،آپ کو لگتا ہے یہ چھوٹا سا لفظ کا فی ہے میرے اس دکھ پر مرہم رکھنے کے لئے جو آپ کی اس حرکت نے مجھے دیا ہے،،
،،تو پھر کیا کروں بابا،،وہ بڑی مؑصومیت سے بولی تو وہ ہلکا سا مسکرا دیے
“کل سے کالج جانا بند کر دو؟”
“وہ کس لئے؟”وہ حیرانگی سے بولی۔
“کیونکہ میری اور بھی چار بیٹیاں ہیں،میں اپنے پیسے ضا ئع نہیں کرنا چاہتا،اگر آپ میری امیدوں پر پو را نہیں اتر سکتیں تو اوروں پر ڈبل لگا کہ انہیں کچھ نہ کچھ بنا دوں گا،لیکن آپ پر میں پیسے ضا ئع نہیں کر سکتا۔”
“بابا”وہ بس دکھ میں یہی بول سکی تھی اور پھر سر جھکا لیا۔
“ٹھیک ہے نہیں جا ءوں گی میں کالج”تھوڑی دیر یونہی سر جھکائے امڈتے آنسوئوں کو روکنے کی کوشش کرتی رہی اور پھر جواب دیتے ہوئے جلدی سے اٹھ کے جانے لگی تبھی بابا نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر دو بارہ اپنے پاس بٹھا لیا تو وہ بے آواز روتی رہی.
“دیکھو بیٹا اگر کو ئی غلط کام کرتا ہے اور آپ جواب میں اسے سمجھانے کی بجائےخود بھی ایک ایسی راہ پے چل پڑتے ہیں جو کہ غلط ہے تو آپ کے اچھے ہونے یا پڑھے لکھے ہو نے کا فا ئدہ کیا ہے؟؟۔۔جو حرکت آپ نے کی اس کے بعد آپ کے پا زیٹو سوچ رکھنے کیا فائدہ بیٹا،آپ اپنی مثبت سوچ میں بھی اتنی شدت پسندی میں چلے جائو کہ اپ کی مثبت سوچ آپ سے منفی کام کروا لے تو ایسی مثبت سوچ کو آگ لگا دینی چا ہئے،میرا بیٹا ہر چیز اعتدال میں اچھی ہو تی ہے اعتدال کی راہ چھوڑو گے تو آپ سہی بھی ہوں تب بھی غلط قدم اٹھا لیں گے”
“پھر امی کیوں ایسا کرتی ہیں”
“امی کو چھوڑ دو آپ اپنا سوچو ہر کو ئی اپنے عمل کا خود زمہ دار ہے،آپ کی امی نے کتنی کو جما عتیں پڑھی ہیں؟ لیکن آپ تو پڑھی لکھی با شعور بیٹی ہیں میری،آپ کو چاہئے آپ انہیں سمجھائیں نہ کے خود بھی الٹے کا م شروع کر دیں،آپ ایسا کریں گی تو نہ امی کو سمجھا پائیں گی اور نہ ہی آپ کی مثبت سوچ کا کوئی فا ئدہ ہے اور نہ ہی آپ کے پڑھے لکھے ہو نے کا،آپ جوش سے کام لیں گی تو یہی سب ہو گا جو آج ہوا ہے ورنہ میں جانتا ہوں آپ امی کو سمجھاتیں زیادہ سے زیادہ چار یا پانچ دن لگتے تو وہ سمجھ جاتیں،لیکن نہیں،آپ نے سوچا ہے وہ آنٹی جو آئی بیٹھی تھیں وہ آپ کا کیا امپریشن لے کے گئی ہوں گی،آپ تو اپنی اسی شدت پسندی کی وجہ سے محفل چھوڑ کے آ جاتی ہیں۔اور معلوم ہے آپ کو یہ کتنا بڑی بے ادبی ہے ، کہ آپ اپنے غصہ کی وجہ سے محفل چھوڑ دیں”
“آپ کو کس نے بتایا؟اور وہاں وہ غلط بول رہیں تھیں”
“شائستہ بیٹی سے بات ہو ئی تھی میری وہ بتا رہی تھی،میرا بیٹا وہاں کچھ بھی غلط نہیں ہو رہا تھا بس آپ کی شد پسندی کی وجہ سے آپ نے ایسا سوچا، جو آپ کے خیال میں وہاں ہونا چاہئے تھا وہ آپ دعا مانگنے والی کو بول دیتیں کیا وہ آپ کی بات نہ مانتی؟؟اس کی شان میں تو کمی نہیں آنی تھی ناں وہ آرام سے مان لیتی بس ایک دعا کا اضا فہ ہی کرنا تھا نہ۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا،اب آپ بتا ئیں کس کا قصور ہے”
“سوری بابا”وہ دکھ سے صرف اتنا ہی بول پائی۔
“سوری مجھ سے مت کریں بلکہ اللہ سے کریں آپ کو معلوم ہے اللہ نے آپ کو کیوں بچا لیا ہے،ورنہ گڑیا کا سانس بند ہو چکا تھا میں نے کس طرح اس کا سانس بحال کیا ہے مجھے معلوم ہے،اگر اسے کچھ ہو جاتا کیا آپ ساری عمر خود کو معاف کر پاتیں؟ بس اللہ کا کرم ہوا کہ اس کا سانس واپس آگیا،اور معلوم ہے اللہ نے یہ کرم کیوں کیا ہے؟”
“کیوں بابا؟”اس نے سوال کیا
“کیونکہ اسے معلوم ہے کہ تم اس سے بہت محبت کرتی ہو،اور وہ خود سے محبت کرنے والوں کو کبھی بھی گرنے نہیں دیتا”
“خا ص طور پہ بیٹیوں کو “اس کا جواب سن کے اس کے بابا مسکرا دئے تھے،انہیں معلوم تھا کہ وہ غلط ہے رب ہر اس بندے کو نہیں گرنے دیتا جو اس سے محبت کرتا ہے لیکن اس کا اپنے رب سے یہ لگا ءو اور یہ یقین انہیں بہت پسند تھا اس لئے کچھ بو لے نہیں ۔
“اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کومل اسے بے ادب لو گ کبھی بھی پسند نہیں رہے بے ادب فرشتوں کا سردار بھی ہو تو شیطان مردود بن جاتا ہے اور اگر شرابی بھی ادب کر لیں تو وہ انہیں راتوں رات بشر حافی بنا دیتا ہے،وہ ادب والوں کو اکھاڑوں سے نکال کر ایک رات میں پہلوان سے حضرت جنید بغدادی بنا دیتا ہے۔میری چندہ آپ کے پاس محبت ہے، بس خود کو شدت پسندی سے بچا ئیں،اور رب سے ہمیشہ ایک ہی دعا کیا کریں کہ وہ آپ کو ادب والا بنائے،کیونکہ محبت بھی تب سلامت رہ سکتی ہے جب ادب ہو بغیر ادب کے محبت کی کو ئی اہمیت نہیں رہتی،بیٹا اگر ادب والوں سے بھول ہو جائے تو وہ انہیں پیچھے سے آواز دے کے کہتا ہے یہ دعا مانگو گے تو معا ف کر دوں گا،بھلا جو نا راض ہو کر بھی یہ کہے کہ اس طرح راضی ہوں گا وہ کہاں نا راض ہو تا ہے بیٹا،بس احساس دلا تا ہے،میری بات سمجھ رہی ہو نا آپ کومل”
“جی آخری بات آپ نے حضرت آدم کی کی ہے ناں”
“جی ہاں”
“اوکے بابا تھینکس آپ نے میری آنکھیں کھول دیں ہیں میں سب سے پہلے امی سے سوری کروں گی پھر اللہ سے اور پھر اللہ سے ہمیشہ یہی دعا کیا کروں گی کیوںکہ
ہما رے آقا نے بھی تو فرما یا ہے ناں
“ادین کلہ ادب”
ترجمہ
دین سارا کا سارا ادب ہے”
“شاباش مجے آپ سے یہی امید تھی۔میں اسی لیے کہتا ہوں آپ میری بہت پیا ری بیٹی ہو،”
“تھینکس بابا”
“وعلکم اچھا اب جاءو امی آپ سے بہت نا راض ہیں ان سے سوری کرو”
“اوکے بابا”اتنی سی بات کہ کر وہ وہاں سے اٹھ گئ،اس عزم کے ساتھ کے اب وہ میدان چھوڑ کے بھا گے گی نہیں بلکے ہر کسی کو اپنا نقطہ نظر بتا کے سمجھائے گی اور یہی اس کے حق میں اس کے لئے بہتر بھی تھا۔

حصہ