عورت روایت اور رخصتی کے گیت ………. تحریر . ثناء بتول
کسی معاشرے کا لوک ادب اس معاشرے کی روایات دانش اور رہن سہن کے انداز کا بہترین عکاس ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ اپنے گیتوں اور داستانوں، صدیوں پرانی روایات کو زندہ رکھے ہوتا ہے ساتھ ہی یہ لوک دانائی کا بھی محافظ ہوتا ہے۔ یہ وہ دانائی ہے جو کتابی صورت میں یا کسی اور شکل میں محفوظ نہیں ہوتی بلکہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہے۔ اسے نسل در نسل منتقل کرنے میں کلیدی کردار خواتین ادا کرتی ہیں۔ کیونکہ نئی نسل ان ہی کے ہاتھوں پروان چڑھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ کام خاندان کی بڑی بوڑھی خواتین سر انجام دیتی ہیں۔ کہنے کو تو یہ لوک دانائی ہے لیکن اپنے اندر یہ معاشرے کی تاریخ اور ان روایتوں کا تسلسل بر قرار رکھے ہوئے ہے جنہیں صدیوں سے بدلا گیا ہے نہ اس کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سوچ کی جڑیں سماج میں اتنی گہری اور اس قدر مقدس ہیں کہ ان پہ سوال اٹھانے کی سعی کو گستاخی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ جو دراصل کسی سوچ وفکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اندھا دھند روایت کی پیروی کی صورت میں وجود میں آتی ہے۔ مرد اور عورت کے دائرہ کار کا تعین باقاعدہ لائحہ عمل کے ساتھ نہیں کیا جاتا بلکہ یہ طے شدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ روایات ہیں جو بچپن سے ہی لاشعوری طور پہ فرد کے ذہن میں گھر کر جاتی ہیں۔ جیسے تقریباً ہر گھر میں یہ فقرات عام سننے کو ملتے ہیں کہ بیٹیاں پرایا دھن ہیں۔ انہیں شروع سے یہ باور کروایا جاتا ہے کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا جیسا کہ سرائیکی زبان کی ایک ضرب المثل ہے “دھیاں بہناں تے گائیں مجھی دا کوئی گھر نئیں ہوندا”

یعنی گائے بھینس اور بیٹوں اور بہنوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔

یہ ایک مثال اپنے اندر بے رحم سچائی چھپائے ہوئے ہے۔ ایک تو یہ کہ عورت اور گائے بھینس میں بے زبان ہونا مشترک ہے، ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ خود کر سکتی ہیں۔ دوسرا عورت کو ایک ایسی کموڈیٹی سے تشبہ دی گئی ہے جو دوسروں کے لیے مفید ہے اور اس کی افادیت کا انحصار صارف پہ ہے۔ اس سے زیادہ وہ کسی اہمیت کی حامل نہیں۔ اب دوسری بات ہے اس تربیت کی جو اسی فرسودہ سوچ کے ردعمل میں وجود میں آتی ہے۔ اس کے چند خواص میں نہ بولنا یا کم بولنا، دبی ہوئی ہنسی ہنسنا، احترام کے نام پہ سمٹا سمٹایا رہنا اور خاموشی سے ہر بات سہنا شامل ہے۔ یہ وہ تربیت ہے جو ہر اس لڑکی کا نصیب ہے جو اس سماج میں آنکھ کھولے اور جو اس سے راہ فرار اختیار کرے وہ خود سر، بدتمیز، باغی اور نہ جانے کیا کیا۔
اب بات ہے سماج کی بنیادی اکائی خاندان کی تشکیل و تربیت کی۔ اخلاقیات سکھاتی ہیں کہ والدین کی عزت کرنا، بڑھاپے میں ان کا خیال رکھنا اولاد کی ذمہ داری ہے۔ لیکن روایت یہاں بھی صنفی امتیاز کو پہلی ترجیح دیتی ہے۔ وہ بیٹی جس کو پرورش کے بعد ایک خاص عمر میں کسی اور خاندان کا حصہ بننا ہے اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اس کا والدین کہ گھر سے شادی کے بعد رشتہ ایک مہمان کا سا ہے اور جس گھر کا وہ حصہ بننے جا رہی ہے وہاں سے وہ نہ نکلے بلکہ اس کا جنازہ نکلے۔ تو اس کے اولاد کی حثیت میں فرائض کیا ہوئے؟ کیا وہ اپنے والدین کا خیال رکھنے، بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے؟ شادی کے موقع پہ گائے جانے والے ہر موقع کے گیت خوشی کے عکاس ہوتے ہیں جن میں نئی زندگی کے خواب، خوشحال زندگی کی دعائیں اور محبتیں شامل ہوتی ہیں لیکن وہ گیت جو رخصتی کے موقع پہ گائے جاتے ہیں وہ اپنے اندر غم اور کرب سمیٹے ہوتے ہیں۔ جیسے
ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابلا اساں اڈ جانا
بابلا وے لے جائیں نہ لوگ مجھ کو
یہ اور بے شمار اور گیت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ رخصت ہونے والی لڑکی کا ہر ناطہ رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ اب اس کی ترجیحات کو بدل جانا چاہیے۔ اس کی زندگی کا محور اس کا سسرال اور خاوند کو ہونا چاہیے۔ جہاں باقی رشتے ختم وہیں اس کی ذات کا مبہم سا غرور جو والدین کے گھر میں تھوڑا اپنی مرضی سے جینے کا ہوتا ہے وہ بھی معدوم ہو جاتا ہے۔ تصور ابھرتا ہے کسی ایسے فرد کا جو ضروریات زندگی، سوچ اور خیالات سے عاری ہے۔ جس کا کوئی ماضی نہیں، اور حال زندگی میں آنے والے نئے افراد سے جڑا ہے اور مستقبل خاوند کی خوشحالی یا بدحالی سے مشروط ہے۔ اس میں اس لڑکی کی اپنی ذات کی کیا حثیت باقی رہ جاتی ہے؟
ایک شعر ہے جو اس صورت حال کا بہت بہترین وضاحت ہے
ماضی سے کٹ کے رو پڑی دلہن کسے خبر
باراتیوں کے دھیان تو شہنائیوں میں تھے
زمانہ بدل گیا، نہیں بدلی تو یہ سوچ نہیں بدلی کہ عورت خواہ مرد سے زیادہ ہی کیوں نہ کماتی ہو اس کمائی کو اپنی مرضی سے اپنے والدین پہ خرچ نہیں کر سکتی کہ اگر وہ ایسا کرے بھی تو پہلی بات تو والدین کی روایتی غیرت گوارا نہیں کرتی اور دوسرا سسرال اور خاوند کے سامنے میکے سے لینا تو باعث فخر ہے لیکن انہیں کچھ دینا باعث شرمندگی۔ یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے جو اپنی ناک بھی اونچی رکھتا ہے اور جہاں سے فائدہ حاصل کر رہا ہو اسے وہ عزت و احترام بھی نہیں دیتا جس کا وہ حق دار ہے۔
روایات بدلنا، ان میں بہتری لانا اور اس عمل کے دوران حالات کا سامنا کرنے کی کوشش کرنا یقیناً صبر طلب کام ہے۔ لیکن کیا جتنی تیزی سے سماج بدل رہا ہے، ٹیکنالوجی نے جتنے شعور اور علم کی رسائی کے راستے کھولے اور ان تک رسائی کو آسان بنایا ہے اتنی تیزی سے نہ سہی اس سے کچھ دھیمی رفتار سے سوچ کو بھی بدلا جائے۔ اس بدلاؤ میں معاشرے کے ہر فرد کا حصہ ہونا چاہئے اس سوچ سے نکلیے کہ عورت کچھ نہیں بس ایک بوجھ ہے۔ وہ بوجھ نہیں اپنے کندھوں پہ سماج کی تربیت، ترقی، بہتری اور خوشحالی کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔

حصہ