افسانہ
حبیب موہانا
ادھوری نیند
ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں میں کرم ایجنسی میں گزارتا تھا۔ایک دفعہ میں پارا چنار میں تھا کہ مجھے تحصیل داری کے امتحان کا لیٹر ملا ۔ میں نے بیگ سنبھالا اور ڈیرہ اسماعیل خان کا رخ کیا۔دامان وسیب میں گرمی کا راج تھا۔پارا چنا ر کے دیوقامت گھنے چناروں کے نیچے بیٹھ کر جب بھی میں اپنے گاؤں کا تصور کرتا تو مجھے لگتا کہ گاؤں والے گرمی میں بھن کر سڑ گئے ہونگے۔اور ان کی لاشیں گلیوں میں بکھری پڑی ہونگی۔ کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا کہ لوگ تپش سے سکڑ کر بہت چھوٹے ہوگئے ہونگے،کاکروچوں جتنے ۔کچھ کاکروچ مر گئے ہونگے اور باقی آسمان کی طرف پاؤں کئے مرنے کی تیاری کر رہے ہونگے۔
عشاء سے ذراپہلے میں گاؤں پہنچا ۔میںیہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ درابن ویسے تھا جیسے میں اسے چھوڑ گیا تھا۔گلیوں میں بچے کھیل رہے تھے،جوان ریڈیو اور موبائلوں پر گانے سن رہے تھے اور چونکوں سے مردوں کے قہقہے اٹھ رہے تھے۔
میں ہر روز پرچہ دینے ڈی آئی خان آتا اور ظہر تک واپس گاؤں پہنچ جاتا۔امتحان ہفتہ بھر رہا۔آخری پرچہ دن کے کوئی بارہ بجے ختم ہوا۔میں بھاگتا اڈے پر پہنچا اور پاراچنار جانے والی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ گاڑی ایک بجے روانہ ہوئی، شام کی اذان کے بعد ہم صدہ پہنچے ،اب گاڑی میں صرف دو سواریاں رہ گئی تھیں۔ڈرائیور نے گاڑی بند کر دی اور کہا کہ و ہ آگے نہیں جا رہا۔ دوسرا مسافر سیدھا ہوٹل چلاگیا مگر میں ہوٹل میں ٹھرنے سے کتر ا رہا تھا ۔
صدہ میں میرے دوست صابر کا ایک کولیگ رہتا تھا۔جسے وہ ماسٹر کہہ کر پکارتا تھا۔ میں ماسٹر سے دو دفعہ مل چکا تھا۔میں نے ماسٹر کو فون کیا کہ میں عجب خان چوک پر کھڑا ہوں ،مجھے لینے آ جاؤ۔ کچھ دیر بعد میر ا میزبا ن آیا اور مجھے اپنے گھر لے گیا۔ہم نے کھانا کھایا ، قہوہ پیا۔ماسٹر دیر تک مجھے افغانستان کے کامریڈوں کے قصے سناتارہا۔اس کے بعد وہ مجھے سونے والے کمرے میں لے آیا۔کمرے میں کوئی بلب نہیں جل رہا تھا مگر کھڑکی کے میلے دھندلے شیشوں سے ہلکی ہلکی روشنی آرہی تھی۔ میزبان نے زمین پر بچھے ہوئے بستر کی طرف اشارہ کیا اور چلا گیا۔
میں بستر پر لیٹ گیا۔کمرے سے دوائیوں اور میلے کپڑوں کی بو آرہی تھی۔تھوڑی دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں کمرے میں اکیلا نہیں۔دوسرے کونے سے ہلکے خراٹوں کی آواز آرہی تھی۔میں نے خراٹے لینے والے آدمی کو نظر انداز کرنے اور سونے کی کوشش کی۔چندلمحے بعد خراٹوں میں دمے کی سائیں سائیں کا رنگ بھی شامل ہوگیا۔میں نے اندازہ لگایا کہ میرا رو م میٹ بوڑھا ہے۔میری آنکھ لگی ہی تھی کہ بوڑھے کو کھانسی کا دورہ پڑا۔ کھانسی کی ٹُخ ٹُخ، دمے کی سائیں سائیں کے ساتھ وائی وخ کی آوازوں کا اک آر کسٹرا بج رہا تھا۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ میں خود کو کوسنے لگا ۔اگر میں ہوٹل میں ٹھہر جاتا تو اچھا تھا۔یہ بڈھا مجھے چین سے نہیں سونے دے گا۔ مجھے اس پر غصہ آ رہا تھا۔
میرا پڑوسی کراہتے ہوئے اپنی جگہ سے تھوڑا سا کھسکا اور ساتھ پڑے ہوئے پاٹ میں شَرشَر مترنے لگا۔ بڈھے کے سینے سے بھڑوں کی بھنبھناہٹ آرہی تھی۔پھر اس نے ساتھ پڑی ہوئی چائے کی کیتلی سے پیالا بھرا اور دیوار سے ٹیک لگا کر چسکیاں لینے لگا۔ وہ تین چار پیالیاں چڑھا گیا ۔اس کے بعد وہ دوبارہ بسترپردرازہو گیا اور بڑبڑاتا رہا، پتہ نہیں وہ دعا مانگ رہا تھا یا کسی کو گالیاں دے رہا تھا۔بہت جلد اسے نیند نے دبوچ لیا۔ اس کے بعد میر ی بھی آنکھ لگ گئی۔میں دس پندرہ منٹ سویا ہوں گاکہ مریض کو کھانسی کادورہ پڑا ۔بلغم کے گولے وہ قریب والی دیوار پر داغتا رہا۔پھراسے ابکا ئیاں آئیں اور اس کے منہ سے الٹی کے فوارے چھوٹنے لگے۔میرے جی میں آیا کہ ماسٹر کو فون کرکے اس سے کہوں کہ مجھے اس کمرے سے نکالو۔مگر یہ سوچ کراسے فون نہ کیا کہ اس کے ہاں دوسرا کمرہ نہیں ہوگا۔اگر ہوتا تو مجھے اس مردہ کے سائے میں نہ سلاتا۔
مریض بستر پر اوندھا پڑ ا تھا۔ اس کے سینے سے طرح طرح کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اس کا گلا گھونٹ دوں۔مجھے پیاس لگی ہوئی تھی۔ پانی کا جگ میرے قریب پڑا تھا ۔ میں نے گلاس بھر کر منہ سے لگایا اور واپس رکھ دیا ۔ مجھے پانی سے کھانسی ،الٹی اور دوائیوں کی بو آرہی تھی۔میرا پڑوسی کچھ دیر آرام سے سویا رہا مگر اس کے منہ ،نتھنوں اور سینے سے پیں پاں اور شاں شوں کی آوزیں نکل رہی تھیں جیسے مچھروں کی بارات گزر رہی ہو۔ میں نیند کی پھسلن پر پھسلا جارہا تھا۔ بڈھے کو کھانسی نے ایک دم ایسا دبوچاکہ اس کی سانس رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، “میرے اللہ کیا مصیبت ہے!” اونگھتے ہوئے چوہے کی طرح میں اپنی جگہ سے اٹھا، بلب جلایا۔نیند اور تھکاوٹ سے میرا سر چکرا رہا تھا۔ من میں، میں صابر اور ماسٹر کو کوس رہا تھا۔ میں مریض کے پاس آیا اسے سرہانوں کا سہارا دے کربٹھادیا ۔ میں اس کا سینہ اور ہاتھ سہلاتارہا ۔ بوڑھا مجھے ماسٹر سمجھ رہا تھا ۔ جب اسے ہوش آیا تواس نے ساتھ پڑی ہوئی دوائی کی بوتل کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے اسے دوائی پلائی اور وہ دوا ئی کے چمچ کو بلونگڑے کی طرح چاٹتا رہا۔
میں نے مریض کو لٹا دیا۔” یہ نشے والی دوائی ہوگی اور اب وہ مزے سے سو جائے گا ۔” میں نے خود کو تسلی دی اور واپس اپنی جگہ پر آیا ۔ سرہانے پر سر رکھتے ہی مجھے نیند نے گود میں لے لیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بوڑھے کو کندھے پراٹھاکر ہسپتال لے جاتا ہوں۔ قابل سول سرجنوں کی ٹیم اس کے چھلنی،بدبودار،پلپلے پھیپھڑوں کو پٹ سن کی ڈوریوں سے سیتے ہیں ۔اس کی کھانسی اور دمہ ختم ہوجاتا ہے، اسکی سانسوں سے گلابوں کے عرق کی خوشبو آتی ہے ۔وہ شیر خوار بچے کی طرح میٹھی اور معصوم آوازیں نکالتاہے۔میں اسے لالی پا پ خرید کر دیتا ہوں جسے وہ چوستا رہتاہے۔وہ کوّالا کیطرح cuteاورcuddly لگتاہے۔

اچانک میرے کانوں میں ٹریکٹر چلنے کا شور آیا ۔ مجھے لگا کہ میں سڑک کے بیچ میں سو رہا ہوں اور ٹریکٹر میرے سینے پر چڑھ دوڑنے کو آرہا ہے۔میں ایکدم جاگ گیا ۔پر مجھ میں ہلنے جلنے کی طاقت نہیں تھی۔ بوڑھا کراہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کی سانس سیٹیاں بجارہی تھیں۔میرے بس میں ہوتا تو اس پر رضائیوں اور کپڑوں کا ڈھیر ڈال کر اس کی چوں چاں کوبندکردیتا۔ میرے ہمسائے پر کھانسی کا حملہ ہوا۔ مجھے اپنا دماغ سوجا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔میں اس کے پاس آیا ،وہ گٹھڑی بنا پڑا تھا ۔ اس کی حالت غیر ہورہی تھی ۔ میں نے ماسٹر کا نمبر ملایا مگر اس نے فون نہیں اٹھایا۔شاید اس نے موبائل silent پر کیا ہوا تھا ۔ میں نے مریض سے بات کرنے کی کوشش کی ،مگر وہ نہ بولا ۔ وہ بے ہوش پڑا تھا ۔مجھے اپنے پاؤں تلے زمین بہتی ہوئی محسوس ہوئی۔میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا،پھر ماسٹر کو دیوانہ وار آوازیں دیں۔ مگر کہیں سے کوئی جواب نہ ملا۔میں نے بوڑھے کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہورہے تھے۔میں دروازہ کھول کر چیختا چلاتا رہا مگر جواب ندارد ۔ میں نے آسمان پر نگاہ ڈالی۔ پر سکون وسیع آسمان،آسمانی قمقموں سے سجا ہوا تھا۔ فرحت بخش ہوا صبح کے استقبال میں بچھی جارہی تھی۔میرا جی چاہ رہا تھا کہ جگنو بن کر وباں سے اڑجاؤں۔ مگر نہ چاہتے ہوئے دوبارہ کمرے میں آیا۔ بوڑھا اللہ کو دم د ے چکا تھا۔ میں نے اس کی ٹھوڑی باندھی، اسے سیدھا لٹایا۔ میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ بوڑھے کا شور شرابہ ختم ہو گیا ہے اور اب میں چین سے سو سکوں گا۔ میں بستر پر درازہو گیا مگر نیندمجھ سے روٹھی رہی ۔

فجر کی اذان ہوئی۔ مجھے سر میں کیلیں ٹھکی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں اورمیری آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔ روشنی اور چڑیوں کی چہچہاہٹ کھڑکی کے شیشے پھلانگتی ہوئی داخل ہو رہی تھی۔ کمرے سے موت کی بو آرہی تھی ،میں مردہ خانہ کے داروغے کی طرح پڑا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ماسٹر آئے گا تو اسے بڈھے کے مرنے کی خبر کیسے سناؤں گا۔ پھر دروازہ کھلا ایک چھوٹا بچہ ہاتھ میں چائے کی کالی جستی کیتلی اٹھائے کمرے میں داخل ہوا ۔ “دادا جی،چائے”اس نے کیتلی دادا کے بستر کے قریب رکھی ۔ میں اس سے بات کرنے کے لئے سنبھل رہا تھا کہ بچہ الٹے پاؤں واپس ہوا،میں اسے آوازیں دیتا رہا مگر اس نے میری ایک بھی نہ سنی ۔

میں نے ماسٹرکو کال کی ۔ اس نے موبائل کو بزی کر دیا ۔ پانچ چھ منٹ بعد میرا میز بان آیا۔ میں اسے آتا دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔ میرا انگ انگ دکھ رہا تھا اور نیند کی پیاسی آنکھیں پرائی
پرائی لگ رہی تھیں۔ وہ میرے ساتھ بیٹھ گیا ۔اس کی سانسوں سے پپرمنٹ کی ٹھنڈی اور خوشگوار خوشبو آرہی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ کہتا وہ مسکراتے ہوئے بولا “رات ہمارا کاکا ہوا ہے ۔کل رات جب میں تمہیں سلا کر اپنے کمرے میں گیا تو میری بیوی ۔۔۔ میں اسے ہسپتال لے گیا۔۔۔ہم فجر کی اذان کے قریب واپس آئے۔ اللہ نے آسانی کر دی ۔”

حصہ