“اگر ہم نماز نہیں پڑھتے تو پھر ہمارا یہ 2، 2 بجے تک بیٹھ کے پڑھنا بے کار ہے۔ہم ڈگری لے بھی لیں تو کو ئی فا ئدہ نہیں”آج مو سم کا فی خو بصو رت تھا۔آسمان پر ہر طرف با دل بکھرے ہو ئے تھے اس لئے ہم سب روم میٹ با ہر لان میں آگئیں،ہما ری روم میٹ نا زیہ آج پھر پو رے لیکچر کے موڈ میں تھی۔سو ہم جیسے ہی لان میں پہنچ کے ایک جگہ بیٹھیں وہ سٹا رٹ ہو گئی۔اس کی اسی خصو صیت کی بنا پر ہم سب نے اس کا نام حا جن رکھا ہوا تھا۔اور اسے اس نیم سے کبھی چڑ نہیں ہو ئی تھی۔
“میں آپ کے اس کو نسیپٹ سے ایگری نہیں کر تی”قریب تھا کہ ہم میں سے کو ئی اس وقت میں اس کے لیکچر دینے پر اسے جھا ڑ پلا تا کہیں اور سے آواز آئی اور ہم سب نےاسی آواز کی سمت میں دیکھا۔اور پھر حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئیں۔بو لنے والی ہما ری کلاس فیلو تو تھی مگر روم میٹ نہیں تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اور اس کی فرینڈز کا فی ما ڈرن تھیں۔وہ کا فی موڈی ٹا ئپ لڑکی تھی۔وہ تو اپنی فرینڈز سے بھی کم بو لتی تھی نہ جا نے آج ہم سے کیسے بو ل پڑی تھی شا ئد اس لئے کہ اس کی تمام روم میٹ گھر جا چکی تھیں۔اور وہ نہیں گئی تھی اور شائد آج اس کا اکیلا دل نہیں لگ رہا تھا۔اس لئے ہما ری بات میں بو ل پڑی تھی۔لیکن اکثر ایسا ہو تا تھا کہ وہ اکیلی ہی رہ جاتی تھی کسی پارٹی میں جا نا ہو تا یا کہیں اور وہ کبھی کبھا ر ہی ان کے ساتھ جا تی تھی۔تو آج اس نے کیوں ہمیں مخا طب کر ڈالا تھا یہ بات میری طرح میری فرینڈز کی سمجھ سے بھی با ہر تھی۔
“کیوں اختلاف کریں گی آپ میری بات سے؟؟؟”ہم سب ابھی چپ تھے کہ نا ذیہ خود بول پڑی۔نہ جانے کیوں اس کی بات سے کو ئی اختلا ف کر تا تو اس کے لہجے میں غصے کا عنصر شا مل ہو نا ایک لا زمی بات ہو تی تھی۔اور آج کل ہما را سب سے بڑا قومی مسلئہ ہی یہی ہے کہ ہم اختلاف رائے بر داشت نہیں کر سکتے۔نا دیہ کے سوال پر وہ بھی ہما رے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
“کیوںکہ اگر ہم نما ز نہیں پڑھتے تو اس میں ہما ری ڈگری کا کو ئی قصو ر نہیں ہے۔یقین کریں اگر ہم نماز نہیں پڑھتے تو گھر بیٹھے ہوں فا رغ ہوں تب بھی نما ز نہیں پڑہیں گے۔اور اگر پڑہھتے ہیں ہما ری عادت ہےتو پھر ساری ساری رات کو جا گ کے پڑھ رہے ہوں یا پھر حد سے زیا دہ تھکے ہو ئے ہوں تب بھی پڑہھ لیں گے۔اس میں ہما ری ڈگری کو گھسیٹنا ایسے ہے جیسے کو ئی بھی غلطی کر دو ہما رے ماں باپ ہمارے مو بائل فون کو ہی قصو ر وارٹھراتے ہیں”َاتنی سی بات کہ کر ابھی وہ چپ ہو ئی ہی تھی کہ اس کا مو بائل بجنا شروع ہو گیا جس کی وجہ سے وہ وہاں سے اٹھ گئی تھی۔اس کے جانے کے بعد ناذیہ ہما رے سامنےاپنے مو ئقف کا دفاع کرتی رہی تھی لیکن میرا زہن اسی لڑکی میں اٹکا ہوا تھا۔کس طرح اس نے اسلامک مو صوع پر اتنے آرام سے ڈیبیٹ کر لی تھی۔حالنکہ دیکھنے سے وہ ایسی لگتی نہیں تھی۔
……………………………………………………………………………………………………………………………………………….
راولپنڈی اور اسلام آباد میں آنے والے بادل کبھی بن برسے وا پس نہیں جاتے ۔سو آج بھی وہ بن برسے واپس نہیں گئے تھے۔میں سو رج غروب ہو نے سے پہلے ہی ٹیرس پہ آ گئی تھی ہر چیز نکھری نکھری لگ رہی تھی۔دور سے سارا لان بھی دھلا دھلا لگ رہا تھا۔میں اسی منظر سے لطف اٹھا تے ہو ئے اسی لڑکی کے بارے میں سو چتی رہی،کچھ لو گ ایسے ہو تے ہیں جن سے دو سروں کی با غی طبیعت برداشت نہیں ہو تی میرے ساتھ بھی ایسا ہی مسئلہ تھا اس لیئے مجھے اس پہ کا فی غصہ آتا تھا۔وہ جو کسی سے بو لتی ہی نہ تھی تو مجھے یو نہی لگتا تھا کہ وہ بہت مغرور ہے۔لیکن اس کی باتیں مجھے ڈرا گئیں تھیں کہ کہیں اس کا تعلق ماڈرنزم میں چھپے صو فیوں میں سے تو نہیں ہے؟؟مجھے یہی ڈر کھا ئے جا رہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو میں کتنی غلط ہوں گی۔اسی شش و پنج میں مغرب کی آذانیں بھی ہو گئیں۔اسی دو ران ہمارے کمرے کے دروا زے پر دستک ہو ئی۔میں نے چونک کر نا جانے کیوں اسی دستک دینے والی کی طرف دیکھا حالانکہ جب سے میں یہاں کھڑی تھی میرے کمرے میں میری روم میٹ باتیں کرنے اور ہنسی مزاق میں مصروف تھیں۔لیکن میرا دہان ان کی طرف بلکل نہیں گیا تھا۔لیکن یہ دستک مجھے اپنی طرف متوجہ کر گئی تھی۔میں نے مڑ کے دیکھا تو سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی۔اس کے سر پے آج حجا ب بھی تھا جو اسے اور منفرد بنا رھا تھا۔
اسلام علیکم،اس نے دروازہ کھولتے ہی سلام کیا۔
وعلیکم اسلام۔۔میری تمام رو م میٹ نے اسے حیرانگی سے دیکھتے ہو ئے سلام کا جواب دیا۔
“وہ میں نے ناذیہ سے ملنا تھا”۔اس نے اپنا مد عا بیان کیا۔
“وہ چھت پے جائے نماز لے کے گئی ہو ئی ہے۔تانکہ اکیلے میں نماز پڑھنے کے بعد آپ کو آرام سے بد دعا ئیں دے سکے” میری ایک روم میٹ نے مسکرا کر کہا تو سب ہنس دیں۔
“کیا مطلب میں نے کیا کیا؟؟”
“علیزے آپ اندر آجائو،مزاق کر رہیں ہیں یہ آپ سے۔۔۔”وہ ان کی بات سن کے کا فی پریشان ہو گئی تھی اس لئے میں فو را بول پڑی اس نے میری طرف دیکھا میں نےاسی وقت ٹیرس کی طرف کھلنے والے دروازے سےاندر قدم رکھا تھا۔
“بھلا وہ ایسا کیوں کرے گی؟؟”میرے حو صلہ دینے کے با وجود اسے تسلی نہیں ہو ئی۔
“کیونکہ آپ نے اس کےلیکچر کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا تھا”۔میری وہی روم میٹ دو بارہ بو لی تو وہ خود ہنس پڑی۔شا ئد بات اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔
“مگر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا بس اختلا ف کیا تھا۔”اتنی سی بات کہ کر اس نے آگے کی طرف قدم بڑہا دیے۔
“مو لویوں کے ہاں اختلاف گناہ نہیں گنا ہ کبیرہ ہے علیزے۔” میری روم میٹ بھی اسے زچ کرنے پر تلی ہو ئی تھی۔
“لیکن وہ مولوی نہیں ہے۔ہما ری کلاس فیلو ہے”علیزے نے اسے ایک بار پھر ڈیفینڈ کیا۔
“مگر پاکستان کی رہنے والی بچی ہے کافی رنگ چڑھا ہوا ہے اس پے مو لویوں کا۔”
“تمہا ری اس بات میں دم ہے،زنیشا”اب کی بار علیزے نے جیسے تسلیم کر لیا تھا۔اس لئے ہلکی سے مسکرا ہٹ کے ساتھ بولی۔
2 منٹ بعد میں علیزے کو لے کر چھت پہ پہنچ چکی تھی۔ہم اس طرف بڑھ گئے جہاں نا زیہ نما ز پڑھ رہی تھی۔علیزے اس کو کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھی لیکن اسے آنکھیں بند کیے دعا مانگتا دیکھ کر مجھے اسے ڈسٹرب نہ کرنے کا اشارہ دیتے ہو ئے پیچھے مڑ گئی۔
تو مجھے بھی اس کے ساتھ ہی پیچھے مڑنا پڑاوہ اس سے کا فی فا صلے پر آکے چھت کی منڈیر پر بنی دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑی ہو گئی میں نے ایک بار پھر سے اسی کی پیروی کی،ایک سایئڈ کی دیوار کے ساتھ لگ کے ہم کھڑے تھے اور دوسری طرف کی دیوار کے سامنے وہ جائے نماز بچھا ئے دعا مانگ رہی تھی اسی وجہ سے اس کی پیٹھ ہما ری طرف تھی۔
“کو نسے ایجو کیشن بو رڈ سے انٹرکیا ہے نازیہ نے؟؟”میں نے جیسے ہی اس کی پیروی میں جیسے ہی دیوار سے لگ کے کھڑی ہو ئی اس نے ایک عجیب سا سوال کر دیا۔
“سرگو دھا بورڈ سے۔”میں نے اپنے زہن میں آنے والے سوالوں کو دبا تے ہو ئے اس کو جواب دیا۔
“ایک یہی تو فا ئدہ ہے اس بورڈ کا،بندہ دعایئں تو آسانی سے رٹ لیتا ہے”اس کی بات سن کرسا را ماجرہ میری سمجھ میں آگیا تھا۔وہ نازیہ کے بہت تیزی سے ہلتے لب دیکھ چکی تھی۔وہ ہمیشہ سے ہی ایسے ہی دعا کرتی تھی۔بہت لمبی لیکن بہت تیز جیسے رٹ کے بیٹھی ہو ساری دعا۔
” میں تو بہت کم کرتی ہوں دعا جب کبھی میرا جی کرے تب،لیکن میرا بھی بورڈ وہی ہے جو کہ نازیہ کا ہے”
“فیض ہر کسی کو تھو ڑی ملتا ہے” میں نے اس کے اس جواب پر حیرانگی سے اسے دیکھا ۔لیکن وہ سامنے بیٹھی دعا مانگتی نازیہ کو دیکھ رہی تھی۔
“دراصل میں یہ سو چتی ہوں کہ کیا ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے ہی مانگتے رہیں۔کبھی تو اس سے اسی کو مانگیں”میں نے اس کی اپنی طرف متوجہ ناں پایا تو وضا حت دینے کے لئے بو ل پڑی۔
“آپ کیسے کہ سکتی ہیں کہ اس نے رب سے کبھی رب کو نہیں مانگا ہو گا؟؟”
“میں نے یہ تو نہیں کہا؟؟”
“تو پھر”؟
“تو پھر یہ کہ اس نے رب سے رب کو مانگنے والی دعا کو بھی تو اسی فہرست میں رکھا ہے جس میں اس نے باقی سب دعا ئوں کو رکھا ہوا ہے۔میں یہ سوچتی ہوں کہ کیا ہما ری کو ئی دعا ایسی نہیں ہو گی جس میں ہم صرف اور صرف رب سے اسی کو مانگیں۔اسی کی محبت اسی کی چاہت مانگیں۔”
“تو کبھی مانگا ہے پھر ایسے رب کو؟؟” اس نے بڑا مشکل سوال کر ڈالا۔
“جی مانگا ہے”
“کیسے مانگا ہے”
“یہی کے یا اللہ مجھے اپنی محبت عطا فرما۔یا مجھے ایسا بنا دے جیسا کہ تو پسند کرتا ہے”
کتنے دل سے مانگی تھی یہ دعا؟”
“علیزے اتنے سوال کیوں کر رہی ہو؟؟”
کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ تجھے مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا”اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔مجھے لگا آج وہ میری انسلٹ کر نے پر تل گئی ہے اس لیے میں چپ ہو گئی۔مجھے چپ دیکھ کر وہ بو لی۔
“دیکھو ماریہ، جب ہم یو نیورسٹی میں ایڈمشن لیتے ہیں تو یہ نہیں دیکھا جا تا کہ ہم نے سرگو دھا بورڈ سے پڑہا ہے یا آغا خان بو رڈ سے یا پھر فیڈرل سے،بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہم نے انٹر کیا ہے کہ نہیں،وہاں ہما را رٹا اور کو نسیپٹ نہیں دیکھے جاتےبلکہ ڈگری دیکھی جاتی ہے۔ میری بہنا بلکل اسی طرح جب با ری آتی ہے رب کی بارگاہ کی تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس نے رٹ کے دعا مانگی ہے یا پھر کو نسیپٹ کلیئر کر کے(مطلب آنکھیں بند کر کے بغیر کچھ بو لے)وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ میرا یہ بندہ رو زمجھ سے ایک چیز مانگ رہا ہے تو وہ اسے دے دیتا ہے۔
میری بہن تمہا ری یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمیں اس سے صرف اسی کو ہی مانگنا چا ہیے لیکن پہلے سلیقہ بھی تو سیکھنا ہے،پہلے اس قابل بھی تو بننا ہے کہ اسے مانگنا ہے تو کیسے مانگیں،کیا آداب ہیں اسے مانگنے کے ،بلکل اسی طرح جیسے بی ایس آنر کیلیئے انٹر کرنا پڑتا ہے تب جا کے آپ اس قابل بنتے ہو کہ بی ایس آنر کر سکو۔میری بہنا پہلے طریقہ سیکھو یہ اب تم پہ ڈپینڈ کر تا ہے کہ کیسے سیکھنا ہے
کو نسیپٹ کلیئر کر کے یا پھر رٹا مار کے ،جب قابل ہو جائو گی تو رٹا اور کونسیپٹ نہیں دیکھا جائے گا بلکہ جب اس سے اس کی محبت مانگو گی تو مل جائے گی۔اگر ایسے ہی باتیں کیں،اور بغیر سلیقہ کے جب،جس دن دل کیا تم نے مانگا تو نہیں ملےگی یہ محبت ،جیسے تم انٹر نہ کرو اور ایک دن تمہا را دل کرے کہ میں بی ایس آنر کر لوں تو تم کبھی بھی نہیں کر سکتی”۔اتنی سی بات کہ کر وہ چپ ہو گئی۔
“مگر کچھ ٹیسٹ ایسے ہیں جن میں رٹا نہیں چلا کرتا”اس کے چپ ہو نے پر میں بو لی۔
“جی ماریہ ان میں سب سے اہم ٹیسٹ issb کا ہے۔لیکن کیا تم نے آرمی میں کو ئی کیپٹن کو میجر ایسا نہیں دیکھا جو کہ سرگو دھا بورڈ کا ہو؟؟؟”
“ہوں گے”
“تو پھر یہ بات ثا بت نہ ہو گئی کہ صرف انٹر ضروری ہے بورڈ جو بھی ہو۔۔طریقہ کا ر جو بھی ہو؟؟”
“لیکن کچھ رہ بھی توجا تے ہیں”
“میری بہنا رہ تو فیڈرل والے بھی جا تے ہیں۔اور سرگودھا والوں کا ایک یہ بھی فا ئدہ ہو تا ہے کہ وہ سمجھ بھی لیں تب بھی انہیں اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک رٹا نہ مار لیں۔جب وہ پیپر کرتے ہیں تو دونوں چیزیں ان کے پا س ہوتی ہیں۔رٹا یاد رہے تو وہی لکھ لو نہ یاد رہے تو اپنی ورڈنگ میں لکھو۔بلکل اسی طرح وہ جو سامنے بیٹھی بہت تیزی سے ایسے ہی دعا مانگ رہی ہے جیسے دعا کو رٹا مارا ہو اس کے بارے میں بھی ہم نہیں کہ سکتے کہ وہ صرف رٹا لگا کے ما نگ رہی ہے۔نہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کونسیپٹ کلیئرینس کاعنصر بھی اس میں موجود ہو ۔
“ٹھیک کہا آپ نے علیزےایسی ہی بات ہے وہ ہر سبجیکٹ کو سمجھ بھی لیتی ہے۔۔میں کو شش کروں گی۔کہ آئندہ سے دعا مانگوں صحیح کر کے۔۔۔۔ایک بات تو بتا ئو علیزے آپ اتنی اچھی اچھی باتیں کرلیتی ہو لیکن تم دیکھنے میں تو اسلامک نہیں ہو۔ایسا کیوں ہے”میری بات سن کے وہ ہلکا سا مسکرا دی۔
“نازیہ تمہارے ساتھ 2 سال سے ہے وہ تمہیں ہر وقت سمجھا تی ہو گی دعا مانگا کرو ،لیکن تم آج تک نہیں سمجھی۔۔کیونکہ تمہا رے مطابق وہ ہے ہی حاجن اس کا کام ہی لیکچر دینا ہے ہینا؟؟”
“ہاں میں نے آج تک اسکی بات کو سیریئس نہیں لیا”
“میری بات تم نے اتنی آرام سے سنی اور مانو گی بھی،،،،میں نے صحیح کہا نا؟؟؟؟”
“جی ہاں”
“بس یہی وجہ ہے۔کہ کو ئی مولویا نی کا خطاب دے کے میری بات کو رد نہ کر سکے۔اس لئے ایسی ہوں میں” اس نے بات ختم کی تو میں اس کے جواب پہ حیران رہ گئی۔مجھے لگا جیسے اب مزید کہنے کو پو چھنے کوبچا ہی کچھ نہ ہو۔۔۔۔

…………………………………………………………………………………………………………………………………………
میں نے بہت با ر سنا تھا آگہی بہت تکلیف دہ ہو تی ہے،لیکن ا س رات مجھے اس تکلیف کا اندازہ ہوا تھا جب علیزے اور ناذیہ مجھے چھت پہ چھوڑ کہ نیچے چلی گیئں تھیں نا زیہ مجھے ساتھ لے کے جا نا چاہتی تھی لیکن علیزے نے یہ کہ کر اسے روک دیا کہ تھوڑی دیر تک خود آجائے گی،شا ئد اسے میری تکلیف کا اندازہ ہو گیا تھا،اس لئے نادیہ کے نا ماننے پر بھی وہ اس کے ہاتھ سے پکڑ کر اسے نیچے لے گئی تھی۔مجھے اس وقت اپنی رومیٹ پر بڑا پیار آیا تھا جب وہ بار بار پیچھے مڑ کے میری طرف دیکھ رہی تھی کہ یہ نا ہو میں نا راض ہو جائوں،لیکن اس ٹا ئم تو میں اپنے آپ سے ناراض کھڑی تھی،میں جو بڑی بڑی باتیں کر تی تھی،آج معلو م ہوا تھا وہ تو صرف باتیں تھیں۔لیکن اس وقت میں اس بات سے بےخبر تھی کہ ابھی اور بھی مقام ایسے آنے ہیں جب مجھ پہ بہت کچھ آشکار ہو نے ہیں۔اس رات میں تقریباََ دس منٹ وہاں کھڑی رہی تھی،اور پھر میرے قدم نیچے کی جا نے کےلئےاٹھ گئے۔
“مجھے لگا کہ شا ئد آپ لو گ یہ نہ سمجھ لو کہ میں نماز کی اہمیت کو نہیں سمجھ پا رہی،یا پھر میرے خیال میں نماز کی اہمیت نہیں ہے اس لیے میں نے نازیہ کو ٹوکا”میں نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا علیزے کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی،وہ میرےایک بیڈ پہ بیٹھی تھی اور میری ساری روم میٹ اپنے اپنے بیڈ پہ بیٹھی اسے سن رہیں تھیں۔
“ہم نے ایسا کچھ نہیں سو چا علیزے”اس سے پہلے کے اسے کو ئی اور جواب دیتامیں بول پڑی اور اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
“مجھے احساس ہے کہ نماز بہت اہمیت کی حامل ہے ،نماز دین کا ستون ہے،ہمیں نما ز کسی صورت معاف نہیں ہے،لیکن ہم جو ثواب کا کام کر رہے ہیں اس پر ہمیں خدا کا شکر ادا کر نا چاہیے نہ کے اگلے بندے کو یہ کہ کر ڈی گریٹ کرنا چاہیے اگر تم نماز نہیں پڑھ رہے تو تمہا رے اس کام کا کوئے فائدہ نہیں ،کیونکہ ڈر ہے کہ وہ وہ کام بھی نہ چھوڑ دے۔۔۔بلکہ اس کی بجائے ہمیں اس بات پر شکر ادا کر نا چاہئے کہ وہ ایک کا م تو کر رہا ہے خدا نے اسے ایک کام کی تو فیق دی ہے،اور ساتھ یہ کہنا چاہئے کہ کتنا ہی اچھا ہو اگر آپ نماز بھی پڑھ لو۔کیونکہ ہر ایک کام کی اپنی اہمیت ہے ۔بعض دفع تہجد گزار جنت سے رہ جاتے ہیں اور کسی کو زندگی میں کی گئی چھوٹی سی نیکی اسےجنت میں لے جاتی ہے”۔
“میں تمہاری بات سے اتفاق کرتی ہوں علیزے حدیث پاک میں بھی آتا ہے کہ ہر انسان سے اس کے زہنی لیول کے مطا بق بات کیا کرو،لیکن یہ تعلیم جو ہم حا صل کر رہے ہیں اس میں ثواب کہاں سے مل رہا ہے ہمیں؟؟؟؟”ہر بات میں مزاق کا عنصر لے آنے والی زیشا نے زیر لب مسکرا تے ہوئے حیرت سے پو چھا۔تو جواب میں علیزے خود بھی مسکرا دی اور پھر بولی”قصور آپ کا نہیں ہے زیشا،میں نے بات ہی ایسی کر دی ہے کہ کسی کو اس سے اتفاق نہیں ہو گا کیونکہ ہم میں سے کسی نے بھی اس طرح سے سو چا نہیں ہے جیسا کہ ہمیں سوچنا چا ہیئے،ہم سب بہت بڑی سعادت حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمین معلوم ہی نہیں احساس ہی نہیں ہے۔
میری بہن ہم نے کبھی کو ئی ایسی حدیث نہیں دیکھی ہو گی جس میں علم کی بات نہیں بلکہ اسلامک علم کی بات کی ہو ہر جگہ علم کو علم ہی کہا گیا ہےاور یہ جو علم لفظ ہے نا،اس میں بڑی وسعت ہے اس میں ہر طرح کا علم آ جا تا ہے،چاہے وہ دنیوی ہو یا دنیا وی،اگر ہمارے علم کی کو ئی اہمیت نہ ہو تی تو میرےآقاﷺ کبھی بھی جنگ بدر کے قیدیوں کی رہائی کی شرط یہ نہ رکھتے کہ دس دس بچوں کو تعلیم دو، کفارکے پاس تو دنیا وی علم ہی تھا،وہ کیا جا نیں ہما رے دین کو،
میرے آقاﷺنے جب یہ شرط رکھی تو دنیا وی علم حاصل کرنا میرےآقاﷺ کی سنت بن گئی اور حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اسے 100 شہیدوں کا
ثواب ملے گا۔تو ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اس سنت کو زندہ کر رہے ہیں۔
اگر ہم سائنس کی تعلیم کو دیکھیں تو وہ کئی جگہ ہمیں قرآن پاک کی آیتوں کی تشریح کرتی نظر آتی ہے،
قرآن پا ک میں ہے
اور جو لوگ کفر کرتے ہیں کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ کائنات کو ایک اکائی سے پیدا کیا گیا ہے۔
اگر ہم فزکس کو لے لیں
البرٹ آئنسٹائن 1915
ایڈمن ہیل1939
آخر پہ 1965میں آنے والی بگ بیگ تھیو ری اسی آیت کی تشریح کرتی نظر آتی ہے،اور اوپر کے دو سائنسدانوں کے نظریات بھی تو اسی تھیوری کی طرف ایک قدم تھے،اسی تشریح کی طرف ایک قدم تھے۔
کیا نیل آرم سٹرانگ ایسے ہی چاند پر پہنچ گئے تھے؟؟؟نہیں اس کے پیچھے بہت سی وجوہات تھیں لیکن ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے میرے آقا کے معجزے کی تصدیق کرنی تھی،میرا رب چاہتا تھا کہ کوئی غیر مسلم اس معجزے کو پو ری دنیا کو بتائےاور پھر جب وہ چاند سے واپس اس دنیا پہ پہنچے تو اپنے ساتھ یہ الجھن لے کے آئے کہ چاند پر دراڑ کیوں تھی اور پھر اس کا جواب اسلام میں مو جود تھا میرے آقا ﷺکا چاند دو ٹکرے کرنے والا معجزہ انہیں جواب دے گیا تھا۔
یہ فزکس چاہے غیر مسلمز کی تھیوریوں پہ بحث کرتی ہو بیان میرے نبیﷺ کے معجزے اورتشریح ہما رے قرآن کی کرتی ہے۔
قرآن پاک میں ایک اور جگہ ارشاد ہو تا ہے۔
ہم نے جانداروں کو جوڑوں کی صورت پیدا کیا
با ئیولوجی کے کئی ٹاپک اسی ایک آئت پہ بحث کرتے ہیں۔
اکثر سٹو ڈنٹس کو یہ شکایت رہتی ہے کہ اگر ہم انسا نوں کے بارے میں پڑہیں تو وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن ایسے جانوروں اور پودوں کے جوڑوں کے بارے میں پڑھنا کہاں کی عقلمندی ہے کہ جن سے ہما را کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا،زیشا ایسے سٹو ڈنٹ کو یہ جواب دینا چاہیئے کہ ہما رے رب نے جاندار کا لفظ استعمال کیا اس لئے ہم بھی جانداروں کے بارے میں پڑہتے ہیں،اگر وہ انسان فرماتا تو ہم بھی انسانوں کے با رے میں پڑھ رہے ہو تے۔میرے آقاﷺ نےتجا رت کے لئے سفر مبا رک کیا ،صحابہ کرام کے اپنے اپنے بزنس تھے ،میرے آقاﷺ نے تجا رت کے دوران ہر چیز کا حساب رکھا ہو گا۔سو بزنس کی فیلڈ تو ہے ہی سنتِ نبوی کی پیروی۔
رہ گیا کمپیوٹر کا سبجیکٹ تو اگر خلافت راشدہ کے دور میں کمپیوٹر کی فیلڈز میں ترقی ہو تی تو خدا کی قسم کسی بل گیٹ کا نام ہی ناں ہو تا، بلکہ میرے آقا کے صحا بہ اس میں بھی دنیا میں ما ہر سمجھے جاتے۔اور یہ تو ایسی فیلڈ ہے جو باقی تمام کو سپورٹ کرتی ہے۔یسافٹ ویئر دشمن کے خلاف جنگوں میں ہما رے ہتھیار استعمال کرنے کے کام آتے ہیں۔
جب سے یہ سب سوچا اورسمجھا ہے کہ میرے آقاﷺ اور ان کے صحابہ کرام بھی بزنس کی فیلڈ سے ریلیٹد تھے خدا کی قسم میں نےتب سے آج تک بغیر وضو کے اپنی کتابوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ،مجھے یہ منظور نہیں کہ میں اپنے آقاﷺ کی سنت پہ عمل کروں،ان کی سنت کا علم حاصل کروں اورکتابیں بغیر وضو کے ہاتھ میں لے لوں”۔یہاں پہ آکے اس کی بات ختم ہو چکی تھی۔ہم سب جو ہمہ تن گوش ہو کے اسکی بات سن رہے تھے اب ہمارے بولنے کی باری تھی میری روم میٹ کچھ نہ کچھ بول رہیں تھیں،اسے داد دے رہیں تھیں،لیکن میں،میں تو اس کی قسم میں ہی اٹکی ہو ئی تھی میں جانتی تھی کہ ایک اسلامی علم حاصل کرنے والا سٹوڈنٹ بھی اپنی کتابوں کو بغیر وضو کے اٹھا لیتا ہوگا لیکن وہ؟؟وہ تو بزنس کی سٹو ڈنٹ تھی،اسے تو کھلی چھوٹ تھی پھر کیا چیز ایسی تھی جو اسے روک رہی تھی۔
ہاں وہ محبت تھی میرے آقا ﷺکریم کی زات سے اس کی محبت دیکھ کے میں شرم سے پانی پانی ہو گئی وہ ایک بار پھر سے جیت گئی تھی اور میں،میں بہت پیچھے رہ گئی تھی،میں کیا اس نے نازیہ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔بہت پیچھے
………………………………………………………………………………………………………………………………………….
کل میں سمجھی تھی وہ بدل گئی ہے۔لیکن وہ تو ابھی تک پہلے جیسی ہے،لو گوں کو کتنے رنگ آتے ہیں کل اس نے ہمیں کیسے شیشے میں اتارا تھا کہ رہی تھی میں بغیر وضو کے کتا بوں کو ہاتھ نہیں لگا تی،مجھے پکا یقین ہے جھوٹ بول رہی تھی،دوپٹا تو اس کا گلے میں بھی نہیں ہو تا۔۔۔۔۔تو کہاں کا وضو۔۔۔۔دو پٹا لینا نہیں آتا اور بڑی آئی ادب کی بات کرنے والی”اسے حجاب میں دیکھ کرصرف میں اس بارے میں کنفرم تھی کہ وہ اب نہیں بدلی بلکے بہت عر صے سے ہی ایسی ہے۔ورنہ سب یہی سمجھ رہیں تھیں کہ وہ اب بدل چکی ہے۔یہی وجہ تھی کہ آج صبح کلاس میں اسے پہلے جیسے حلیے میں دیکھ کر نا دیہ غصہ میں بول رہی تھی۔آج صبح سے کو ئی پیریڈ فا رغ نہیں تھا۔چار پیریڈز کے بعد جیسے ہی ہم فا رغ ہو ئے کینٹین کی طرف آگئے،آرڈر دینے کے بعد جیسے ہی ہم نے ایک ٹیبل سمبھالا نا ذیہ کا لیکچر سٹا رٹ ہو گیا۔
“تم کیسے کہ سکتی ہو کہ اس نے جھوٹ بو لا ہے؟؟؟”
“تم نے دیکھا نہیں وہ بلکل پہلے جیسی ہے۔”
“ہاں تو تمہیں کیا لگتا ہے وہ ایک دن کے وضو کے لئے تمہا رے سامنے قسمیں اٹھا رہیں تھی۔۔۔نہیں نا دیہ وہ کا فی عرصہ سے ایسی ہے،اتنی ڈیپلی سوچ کسی کو ایک دن میں نصیب نہیں ہو جا تی ”
“تو پھر تم کیا کہنا چاہتی ہو کہ وہ سچ کہ رہی تھی۔۔۔نا قابلِ یقین میں نہیں مان سکتی۔۔کہ وہ سچ کہ رہی تھی ”
“تمہا رے ماننے یا نا ما ننے سے کیا فرق پڑتا ہے نا ذیہ۔۔۔۔۔جو سچ ہے وہ سچ ہے”
“تمہیں اس پر اتنا یقین کیسے ہے”نا زیہ کو مجھ پہ تعجب ہوا۔
“پتہ نہیں کیوں۔بٹ مجھے یقین ہے وہ جھوٹ نہیں بو لتی”
“تمہیں معلوم ہے،اگر غیر محرم بال دیکھ لےتو وضو مکروہ ہو جاتا ہے،تو پھر اس کے اس ادھو رے ادب کا فائدہ،اگر اسے سنت کا اتنا خیال ہے تو وہ کل کی طرح حجا ب کیوں نہیں لیتی،وضو زروری نہیں حجا ب ضروری ہے۔”
“تم ٹھیک کہ رہی ہو نا ذیہ لیکن ہو سکتا ہے اس کی مجبو ری ہو کیونکہ اس کا اور ہما رالا ئف سٹا ئل بہت ڈفرینٹ ہے، وہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہے،اس کی فرینڈز بہت ما ڈرن ہیں ایسے میں ایسا کو ئی بھی قدم اس کے لئے بہت بڑی مشکل کھڑی کر سکتا ہے”
“پھر فا ئدہ کیا محبت کا دم بھرنے کا؟؟ جب تم اپنے رب کے دین کی خا طر لڑ نہ سکو۔۔۔کو ئی قربانی نہ دے سکو”
“میری بہن میں نے اس کی آنکھوں میں بہت عظم دیکھا ہے وہ لڑکی کو ئی عام لڑکی نہیں ہے ،قر بانی دینے کا بھی ایک وقت مقرر ہو تا ہے نازیہ ۔۔۔اس کی باتیں بتاتی ہیں کہ وہ کچھ نہ کچھ کر گزرے گی۔۔لیکن شائد وہ ٹھیک وقت کے انتظا ر میں ہے۔میں تو بس اس کے لئے دعا ہی کر سکتی ہوں کیو نکہ مجھے معلوم ہے وہ جیسی بھی ہے ہم سے زیا دہ نالج رکھتی ہے،اگر وہ قربانی دے دیتی ہے تو پھر وہ ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دے گی۔
اور ہمیں اس کی کمزو ریوں کو نہیں دیکھنا چا ہیے وہ اس کی اپنی زات کا معاملہ ہے ہمیں بس وہ دیکھنا چا ہئے جس کے زریعے سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔اگر ہم نے اس کی کمزو ریوں پر نگاہ رکھی تو ہم کچھ بھی نہیں سیکھ پائیں گیں،اور یہ انسان کا المیہ بھی ہے وہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو نہیں اس کے کردار کو جانچنے میں لگ جا تا ہے،اور پھر نصیحت پیچھے رہ جاتی ہے،نا ذیہ ہم اس رب کے ماننے والے ہیں جو ہمیں مچھروں کی مثا لیں دے کر اپنی مقدس کتاب میں سمجھا تا ہے۔تو پھر کیوں ہم اس کی اس تخلیق جس کو وہ اشرف المخلو قات کہتا ہے،اس کے زریعے سے نہیں سمجھ پاتے۔۔۔۔۔نازیہ انبیا ء کرام کا سلسلہ تو میرے نبی پاک ﷺ کے آنے پرختم ہو چکا،اب اولیا اللہ اس دنیا میں لو گوں کی اصلاح کے لئے تشریف لاتے ہیں۔لیکن ولی بھی ہر ایک بندے تک نہیں پہنچ پاتا،ہر کسی کو سمجھانے کے لئے ولی اس کے پا س نہیں چل کے آتا۔جو ہمارے پاس خود چل کے آئے ،خود بھیجا جائے،اور اس کی باتیں ہمیں اپیل بھی کر رہی ہوں تو پھر ہمیں اس کے کردار کو نہیں بلکہ اس کی باتوں کو فو کس کرنا چا ہئے،اپنے رب کی بیان کی گئی ان آئتوں کو سامنے رکھنا چا ہئے جن میں وہ ہمیں مچھروں کی مثا لیں دے کر سمجھا رہا ہے”
“تم نے ٹھیک کہا ہمیں واقعی اس کے بارے میں بات نہیں کر نی چا ہئے کیونکہ جس طرح تم نے بتایا واقعی اس کی مجبو ری ہو سکتی ہے،اور اگر ہم اس کے بارے میں بات کرتے بھی ہیں تو وہ غیبت ہو گی اور غیبت سخت گنا ہ ہے”نا زیہ نے میری بات سے ایگری کیا تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا
……………………………………………………………………………………………………………………………………….
میں کا فی دیر سے ٹیرس پہ دیوار سے لگ کے بیٹھی تھی۔میری نظریں آسمان پر تھیں اور زہن کئی سال پہلے اپنے گھر کے صحن میں،جہاں گرمیوں میں ہم رات کو با ہر چار پا ئیاں بچھا کے سو تے تھے تو میں اور میری بہن بچپن میں ہر روز مل کے آسمان پہ دب اکبر کو ڈھونڈھا کرتے تھے۔جو پہلے ڈھو نڈھ چکی ہو تی وہ دوسری سے پو چھتی زرہ تم ڈھو نڈھو کہاں ہے۔اور اس طرح سے ہم تا روں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے،روزکسی دم دار ستارے،اور چا ند کی سیدھ میں بنے سب سے چمکدار ستا رے کو ڈھو نڈھنا ہما را محبوب مشغلہ ہو تا تھا۔اور آج اتنےسالوں بعد میں نے آسمان کو دیکھا تو سب یاد آگیا اور یوں لگا جیسے میں اپنے گائوں میں پہنچ گئی ہوں۔تبھی کمرے کے دروا زے پہ ہلکی سی دستک ہو ئی تو میں اپنے بچپن سے واپس ہو سٹل کے روم میں آگئی۔میں نے سامنے دیکھا تو کو ئی ساتھ کے کسی روم کی ہماری کلاس فیلو کمرے میں قدم رکھ چکی تھی۔
“ما ریہ کہاں ہے”
اس کی نظر ٹیرس کی طرف نہیں گئی تھی اس لئے میری روم میٹ جو روم میں تھیں ان سے اس نے پو چھا۔
“ادھر ہوں “کسی کے جواب دینے سے پہلے ہی میں خود بول پڑی اور اپنی جگہ سے اٹھ کے واپس روم میں آگئی۔
“تمہیں علیزے بلا رہی ہے”
“کہاں ہے وہ”
اپنے کمرے میں ہے”
“اوکے میں جا تی ہوں”میں نے اسے جواب دیا تو وہ واپس چلی گئی۔میں نے بیڈ پے پڑا مو با ئل اٹھا یا اور اپنے کمرے سے نکل گئی۔
میں نے دروازاے پے دستک دی تو علیزے نے اندر آنے کا کہ دیا سو میں دروا زہ کھول کے اندر آگئی۔وہ اپنی چا ر پا ئی پہ لیٹی ہو ئی تھی اس وقت اس کا چہرہ دو پٹے کے حالے میں تھااورنقاہت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔میں نے اسے دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا کہ اس کی طبیعت سخت خراب ہے۔تبھی میں اس کے ساتھ ہی چا ر پائی پر جا کے بیٹھ گئ۔
“کیا ہوا علیزے”میں نے پریشا نی سے پو چھا ۔
“بخار ہو گیا ہے”
“کب کیسے۔آج صبح تک تو آپ بلکل ٹھیک تھیں،پھر کیسے ہو گیا اچانک،اور آپ کی روم میٹس کہاں ہیں سب”
“وہ کسی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی میں گئیں ہیں”
“علیزے”میں حیرت سے صرف اتنا ہی بول پائی تھی،مجھے اس کی روم میٹس پر حیرانی ہو ئی تھی جو اسے اس حال میں چھوڑ کر پارٹی میں چلی گئیں تھیں۔
“وہ نہیں جا رہی تھیں میں نے ان کو زبر دستی بھیجا ہے،کیونکہ میں تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہ رہی تھی۔”
“اچھا”مجھے اس کی اس بات پہ بہت خو شی ہو ئی تھی۔
“ہاں جی”جواب میں وہ اتنی سی بات بات ہی بو لی تھی۔
“آپ نے بتایا نہیں بخا ر کیسے ہوا”
“تم لوگوں کی نظروں میں مجھے آج بہت غصہ نظر آیا تھا،خصو صی طور پہ مجھے لگا کہ نا ذیہ کومجھ پہ بہت غصہ ہے،بس یہی بر داشت نہیں ہوا مجھ سے،بہت ٹینشن لے لی میں نے،اور بخار ہو گیا”وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بو لی تو میں حیرانگی سے اسے دیکھے گئی۔
“مجھ سے بر داشت نہیں ہو تا سارا کہ کو ئی مجھے جھوٹا سمجھے،یہ سمجھے کہ میں صرف باتیں کرتی ہوں،جھوٹ بولتی ہوں،میں اسی لئے کبھی کسی سے اس طرح کی باتیں نہیں کرتی کیونکہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کسی نے مجھے جھوٹا کہ دیا تو مجھ سے برداشت نہیں ہو گا،میں نہیں برداشت کر سکتی کہ کوئی میری اپنے رب اور اپنے آقا ﷺ سے کی جانے والی محبت کو جھوٹا کہے”اتنی سی بات کہ کر وہ سسک پڑی۔
“نہیں علیزے ہم نے ایسا نہیں سو چا،تمہیں غلط فہمی ہو ئی ہے”میں اس کے سسکنے پر پریشانی سے بو لی۔
“مجھے تسلی دینے کے لئے جھوٹ مت بو لو ما ریہ،میں جانتی ہوں سب آپ لو گوں نے کیا سوچا ہے اور کیا نہیں”اس نے یہ بات کہی تو میں چپ ہو گئی میرے پاس اس کو دینے کے لئے کو ئی جواب نہیں تھا، میں کہتی بھی تو کیا میں اور نادیہ نے ا س کے سچے یا جھوٹے ہو نے پر بحث کی تھی اور وہ اب میرے
سامنے بیٹھی سسک سسک کے اپنی محبت کے سچے ہو نے کا دعوہ کر رہی تھی۔
……………………………………………………………………………………………………………………………………..
“میرے لئے اپنا اوڑھنا بچھو نا اسلام کے مطا بق بنا لینا مشکل نہیں ہےسارا”وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی اور پھر اس نے اپنی بات جاری رکھی”زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا میری فیملی میری مخا لفت کرے گی لیکن کب تک،ایک ہفتہ دوہفتہ۔بس ۔۔۔پھر میرا کو ئی نہ کوئی نام رکھ دیا جائے گا جس سے سب لو گ مجھے چھیڑیں گے اور کچھ بھی نہیں ہو گا،اور میری فرینڈز وہ بھی مجھے منع کریں گیں،مختلف دھمکیاں دیں گی میں نہیں مانوں گی تو وہ چپ کر جائیں گیں،کوئی ایک نام، رکھ لین گی میرا اور سائیڈ پہ ہو جائیں گیں،مجھے میرے حا ل پہ چھوڑ دیں گی”
“تو پھرتم ویسی بن کیوں نہیں جا تی جیسی کہ آپ باتیں کرتی ہو”وہ جیسے ہی سانس لینے کو رکی میں نے سوال کر ڈالا۔
“کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ خود غر ضی ہے”
“خود غر ضی مگر کیسے؟؟”میں نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“خود غرضی یہ کہ میں خود تو نور کی طرف جانے والا راستہ چن لوں لیکن اپنی فرینڈز کو ا ندھرے اور گمرا ہی کے راستے پہ اکیلا چھوڑ دوں”
“علیزے تم انہیں سمجھا ئو گی نہیں کیا؟؟؟”
“یقینن سمجھا ئوں گی مگر جب میں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سمجھائوں گی تو وہ اوپر سے گزار دیں گیں،اسے میری عادت سمجھ کر،جیسا کہ اکثر ہو تا ہے ،میں یہ چاہتی ہوں میرے ساتھ چلیں قدم سے قدم ملا کر ،میری ہر بات کو سنیں سمجھیں،اور یہی سب سے مشکل کام ہے،اور اسی وجہ سے میں آج تک اپنے حلیہ کے لحا ظ سے ان کے جیسی ہوں،اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے اندر ایک بہت بڑی بیماری یہ بھی ہے کہ اگر ہم کو ئی ایک دو نیکی کے کام کر لیں تو ہمیں دو سرے لو گ حقیر لگنا شروع ہو جاتے ہیں ،ہمیں لگتا ہے کہ ہم بہت بڑے پرہیز گارہیں کیونکہ ہم اللہ کو یا دکر رہے ہیں لیکن دوسرے نہیں کر رہے،اس کی وجہ سے ہما رے اندر میں(غرور) آجا تی ہے،اور یہ میں ہما رے اور ہما رے رب کے درمیان آجاتی ہے،ایک دیوار بن جاتی ہے،جب تک اس دیوار کو نہ پھلانگیں ہم رب تک نہیں پہنچ سکتے،اور پتا ہے ما ریہ:لوگ سالوں اسی میں ِمِیں اٹکے رہتے ہیں،وہ اپنی عبادات پہ بڑے نازان ہو تے ہیں لیکن ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہو تا،اور پھر جب یہ میں ٹو ٹتی ہے ،ختم ہو تی ہے،تو تب انہیں معلوم ہو تا ہے کہ ان کے ہاتھ بلکل خا لی ہیں،بندہ اس وقت ہاتھ ملتا رہ جا تا ہے کہ ہائے میں نے غرور میں سب کچھ گنوا دیا،اور پھر اس کا سفر تب الف سے سٹارٹ ہو تا ہے،پیچھے سال نہ جانے کہاں گم ہو جاتے ہیں،ما ریہ بس میں اس میں سے بھی بچنا چاہتی ہوں تا کہ مجھے افسوس نہ کر نا پڑے،اور اس میں سے بچنے کا یہ ایک طریقہ ہے کہ سب کو ساتھ لے کہ چلو یہ غرور نہیں پیدا ہو گا کہ میں رب کی راہ پے چلنے والی اکیلی ہوں،نہیں میرے ساتھ اور بھی ہوں گیں”
اتنی سی بات کہ کر وہ چپ ہو گئی تبھی میں نے سوال کیا
“تو پھر کیا کر سکی ہو آپ آج تک،اپنی فرینڈز کو اس راہ کی طرف لانے کے لئے؟؟”
“میں نے ان کے دل میں انسانیت کا درد پیدا کیا ہےسارا،آج وہ جہاں خود پہ خرچ کرتی ہیں وہیں دوسروں پہ بھی خرچ کرتی ہیں،میں نے انہیں بتایا ہے کہ جب ہمارا رب ہمیں دولت سے نوازتا ہے تو پھر ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی دولت کو ان پر خرچ کریں،اور وہ میری بات سمجھ بھی گئیں ہیں،اور آگے کا سفر ابھی جاری ہے،ابھی بہت دیر لگے گی،لیکن وقت آئے گا انشا ءاللہ جب میں ان کو لے کر اس راہ پہ پہنچ جا ئوں گی جہاں پہ آپ لوگ آج مجھے دیکھنا چاہ رہیں تھیں”
“علیزے ایک بات کہوں،ما ئنڈ تو نہیں کرو گی”
“جی بو لیں،کچھ نہیں کہتی”
“اللہ نہ کرے آپ انہیں ابھی سمجھا نہ سکو لیکن اس سے پہلے ہی آپ کو کچھ ہو جائے پھر” وہ میرا خد شہ سمجھ چکی تھی اس لئے ہلکا سا مسکرا دی۔”یہ میری زندگی کا مقصد ہے ما ریہ کہ میں اپنی فرینڈز کو بھی اپنے رب کی راھ پہ لے جائوں،اور یہ سب میں نہ جنت پانے کے لئے کر رہی ہوں اور نہ دوزخ سے نجات پانے کے لئے، میں تو بس یہ چاہتی ہوں کہ میرا رب مجھ سے خوش ہو جائے،اور میں جانتی ہوں میرے رب کو خود غرض لو گ نہیں پسند،سو میں آج ہی اس دنیا سے چلی جائوں یا کل،لیکن میں خود غرض نہیں بنوں گی،میں نہیں بر داشت کروں گی کہ میری فرینڈز پیچھے رہ جائیں اور میں صرف اپنا سوچوں،اور آگے بڑہ جا ئوں،میرا تعلق ہر چیز سے بے نیاز میرے رب سے ہے میں نے رب کو خوش کرلیا تو جو انعام وہ دے گا وہی میرے لئے اعزاز ہے اور اگر۔۔۔۔۔”اتنی سی بات کہ کر وہ چپ ہو گیی میں نے اس کے بعد اس کی آنکھوں میں آنسوں جمع ہو تے دیکھے اور پھر اس نے سائیڈ پہ چہرہ کر لیا۔اور رندھی ہو ئی آواز میں بولی”اگر وہ خوش نہ ہوا تو پھر میری زندگی کس کام کی،۔۔۔۔پھر جنت میرے کس کام کی ۔۔۔۔پھر تو میں قابل ہی دوزخ کے ہوں گی ناں۔۔۔”اتنی سی بات کہ کر وہ سسک پڑی تھی،اس نے اپنا چہرہ اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا،اور اور رونا شروع ہو گئی۔اور ان لمحوں میں جب وہ اپنے رب کی ناراضگی کے ڈر سے رو رہی تھی مجھے لگا میرے ہاتھ بلکل خالی ہیں،مجھے لگا مجھے الف سے اپنا سفر شروع کرنا پڑے گا،مجھے یا دآیا ،آج سے صرف دو دن پہلے تک میں اسی لڑکی سے بہت چڑہتی تھی،بات بات پہ اس کو برا بھلا کہتی تھی،ان کی ایک ایک عادت کو نوٹ کر کے اسے برا کہتی تھی اور یہ میری میں ہی تھی۔میں سمجھتی تھی میں اور میرا گروپ بہت اچھا ہے اور یہ اور اسکا گروپ اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔لیکن یہ تو مجھ سے ہزار گنا آگے تھی ۔۔۔بے غرض بے لوث۔۔۔۔۔دوسروں کا سوچنے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری میں کا بت اب ٹوٹ رہا تھا،میری آنکھیں آنسویوں سے لبریز تھیں کہونکہ میں جان گئی تھی کہ میری میں نے مجھ سے ہمیشہ غیبت کر وائی تھی،اور غیبت والا کہاں رب کے راستے کا مسافر ہو سکتا ہے۔اور اس دن اس کے کمرے سے نکلتے ہو ئے میری میں کا بت پاش پاش ہو چکا تھا،میں غم سے نڈھال ضرور تھی لیکن اب مجھے ا پنے رب کی طرف جانے والا راستہ بلکل صاف دکھائی دے رہا تھا،کیونکہ اس راستے میں اب میری میں نہیں تھی۔۔۔
مجھے تب ایک مصرع یاد آیا تھا۔۔۔
سارا مسئلہ میں کا ہے،
جب نکل جائے کو ئی میں سے
تو ہی تو رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔
ختم شد

حصہ