افسانہ
وقار احمد ملک
’’بارھویں کا چاند :”
سیدپور گاؤں سے دو میل دورمحدود رقبے پر محیط سرکاری ہسپتال کی پرانی عمارت چیڑھ اور تاڑ کے پرانے درختوں کے حصار میں بھوت بنگلے کا تاثر دے رہی ہے۔ چاروں طرف خود روپودوں نے جنگل کا سماں تخلیق کر رکھا ہے۔ ان پودوں میں املتاس، توت، شہتوت ،بیری اور بیسیوں نامعلوم اقسام کے درخت موجود ہیں۔ ہسپتال سے گاؤں یا سڑک تک جانے کے لیے کوئی باقاعدہ راستہ موجود نہیں۔ اگر تھا بھی سہی تو اب معدوم ہو چکا ہے۔ ایک صدی قبل جب ہسپتال کی سرخ اینٹوں پر مشتمل اس عمارت کو تعمیر کیا گیا تھا تو سو قدموں تک اینٹوں پر مشتمل سولنگ بھی بنائی گئی تھی لیکن وقت کی شکست و ریخت نے آہستہ آہستہ اس محتصر سے راستے کو بھی ناپید کر دیا۔ سرکار کی توجہ ہسپتال کی اصل عمارت کی طرف بھی نہیں تھی، اس راستے کی حفاظت و تعمیر پر کیا ہونی تھی۔ پگڈنڈی نما راستے کی موجودگی کا پتہ خود رو گھاس سے ہوتا ہے جس کی موجودگی راستے سے ہٹ کر زیادہ گہرے رنگ کی ہے اور راستے پر قدرے ہلکی۔آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی رنگت بھی سال بہ سال گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ گھنے درختوں کے سبز کچور پتوں اور بل کھاتی ہوئی ڈالوں اور شاخوں نے ہسپتال سے ملحق علاقے کو ملگجا دھندلکا عطا کر رکھا ہے۔
سیمل جب سے اس دیہی مرکزِ صحت میں لیڈی ڈاکٹر کے طور پر تعینات ہوئی ہے اپنے ساتھ زندگی کی رمق بھی لے آئی ہے۔ ہسپتال سے ملحق چھوٹے سے کوارٹرمیں صدیوں سے رہائش پذیر بھوت پریت چاروناچار یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ صحن میں اُگی ہوئی گھنی جڑی بوٹیوں اور گھاس پھونس کو صاف کیا جا رہا ہے۔ برآمدے اور کچن کے ساتھ ساتھ کمروں میں موجود خشک پتوں کے ڈھیر صاف کیے جا رہے ہیں۔
ہفتہ بھر کی مشقت کے بعد اس کھنڈر کو مکان بنا دیا گیا۔اب مکان کو گھَر کرنے کی ذمہ داری اس مکان کے مکینوں کے سر تھی۔ مکین کون تھے، صرف لیڈی ڈاکٹر سیمل جو شہر کے ایک بڑے ہسپتال سے ہاؤس جاب مکمل کر کے ابھی ابھی واپس لوٹی تھی اور کوئی مہینہ بھر آرام کرنے کے بعد اس کو ملازمت کا پروانہ بھی مل گیا تھا۔ سیمل گورے رنگ کی درمیانے قدوقامت کی لڑکی تھی جس کے گہرے بھورے بال ہوا میں لہراتے رہتے۔ پھیکے رنگ کی نیلی جینز اورسفید پھولوں والی چمکدار نیلے رنگ کی قمیص میں وہ ڈاکٹر کم اور سیاح زیادہ معلوم ہوتی۔ بھرے بھرے سرخ ہونٹ اور چپٹی ناک سے وہ چینی کی گڑیا معلوم ہوتی تھی۔ دن بھر وہ ہسپتال اور کوارٹر کے درمیان فٹ بال کی طرح لڑکھتی رہتی۔ شام کو ہسپتال کے پیچھے درختوں کے تاریک جھنڈوں میں چہل قدمی کرنے نکل جاتی۔ یہ اس کی جدید تعلیم کا اثر تھا یا فطری مہم جوانہ طبیعیت کے اثرات تھے کہ وہ بے خوف و خطر اس اجنبی علاقے میں دیر گئے تک سیریں کرتی رہتی۔ شہر سے کوسوں دور یہ خاموش اور پرسکون علاقہ اس کو خیالی جنت محسوس ہو رہا تھا۔ سیمل کی جدید طرز کی وضع قطع اور طرزِ زندگی علاقے کی رسوم و رواجات سے میل نہیں کھا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہسپتال سے دور گاؤں کے باسی اس کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔ چونکہ سیمل بڑی تندہی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی اس لیے لوگ اس کے مقامی روایات سے ہٹ کر چال چلن کو چاروناچار قبول کیے ہوئے تھے۔ لیکن یہ بات گاؤں کے سرکردہ جاگیردار زوار شاہ سے برداشت نہیں ہورہی تھی۔ وہ سیمل کو گاؤں کی صدیوں پرانی روایات کے لیے نقصان دہ سمجھ رہا تھا۔ اس کو خدشہ تھا کہ گاؤں کی بچیاں بھی کہیں سیمل سے متاثر ہو کر انگریزوں کے لباس میں بال کھولے گاؤں کی گلیوں میں گھومنا نہ شروع کر دیں۔ اس کو یہ بھی خدشہ تھا کہ گاؤں اور اس کے خاندان کی لڑکیوں میں سکول اور کالج کی تعلیم کا شوق پیدا ہو سکتا ہے جو نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اخلاقی بگاڑ کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔
سیمل کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی تھی۔چونکہ ہسپتال میں کوئی مرد ڈاکٹر نہیں تھا اور وہ جدید سوچ کی حامل لڑکی تھی اس لیے اس کو مردوں کا دوا دارو کرتے ہوئے کوئی عار محسوس نہ ہوتی ۔ آہستہ آہستہ سیمل کے گاؤں والوں سے خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ تعلقات بڑھتے چلے جار ہے تھے۔ کچھ خواتین تو کبھی کبھار جھوٹ موٹ کی چھوٹی موٹی بیماریوں کا بہانہ کر کے محض سیمل کو دیکھنے اور اس سے چند منٹ کی ملاقات کرنے ہسپتال آ جاتیں۔ ہسپتال کے سامنے گھاس سے اٹی سبز راہداری دھیرے دھیرے خشک ہو رہی تھی۔ قدرت نے سیمل کے ہاتھوں میں شفا بھی بہت رکھی تھی۔ جو مریض بھی آتا دوا کی ایک دو خوراکوں سے ہی صحت یاب ہو جاتا۔ سیمل کو زندگی میں پہلی مرتبہ حقیقی سکون محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے یہ راز پا لیا تھا کہ مَن کی طمانیت بے شک انسانیت کی خدمت میں ہی ہے۔ جب کوئی بیمار صحت یابی کے بعد اس کو دعائیں دیتا تو اس کی آنکھوں میں پرمسرت مسکراہٹ عود کر آتی۔
ایک روز دن ڈھلنے سے کچھ پہلے زوار شاہ جنگل کے قریبی راستے پر چپلی کھیل کر واپس آ رہا تھاجب اس کو امرود کے درختوں کی اوٹ میں سیمل گم سم بیٹھی دکھائی دی۔ اس نے کسی لاشعوری جذبے کے تحت گھوڑے کی باگوں کو امرود کے درختوں کے جھنڈ کی طرف مو ڑ دیا۔ سیمل کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ مرد کون ہے اور اپنے گھوڑے کو میری طرف کیوں بھگائے لا رہا ہے۔ تھوڑی دیرمیں ہی اس کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی جب ایک دراز قامت نوجوان اس کے سامنے سینہ تانے کھڑا تھا۔ زوار شاہ کی چمکدار چھدری مونچھیں، گھنگریالے بالوں کے چھتے اور گوری رنگت اس کی عسرت اور مردانہ وجاہت کی غمازی کر رہی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھیں سیمل کی ٹھگنے جسم کے ٹٹولتے ہوئے جھپکنے کی عادت بھول گئی تھیں۔ جنگل میں جو ظلم ہو رہا تھا کسی انسان نے نہ دیکھا لیکن پرندوں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ گاؤں والے حیران تھے کہ آج پرندوں کو کیا ہو گیاہے۔
سیمل صدمے میں کچھ روز نڈھال رہی۔ اس کو شہر اپنے گھر لے جایا گیا۔ اس کا ڈھارس بندھانے والا بوڑھی ماں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ ایک مہینہ کی چھٹیاں گزار کر جب وہ واپس سید پور پہنچی تو اس کی بوڑھی ماں بھی اس کے ساتھ تھی۔ ماں نے بڑی کوشش کی کہ سیمل نوکری چھوڑ دے لیکن سیمل اس مصروفیت کو اپنی زندگی سے نکال کر اپنے آپ کو کھوکھلا محسوس کرتی تھی۔زوار شاہ اپنے پیسے کے بل بوتے پر سلاخوں کی سزا سے توبچ گیا لیکن گاؤں کی نظروں میں اس کی حیثیت مزید گر گئی۔ کوئی بھی اس سے سیدھے منہ بات کرنے کو تیار نہ تھا۔
سیمل کچھ عرصے بعد اپنی ظاہری صورتِ حال کو بہتر کرنے میں کامیاب ہو گئی لیکن اب اُس نے چپ کی چادر اوڑھ لی تھی۔ سیمل سب کچھ بھلانا چاہتی تھی لیکن گاؤں کی عورتوں کا اظہارِہمدردی اُس کے زخم ہرے کر دیتا۔ کہا جاتا ہے کہ وقت ہر دکھ کو، ہر غم کو مٹا دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ سیمل کے معمولات دھیرے دھیرے پرانے انداز میں بدلنے لگے۔ وہی دن بھر لوگوں کا علاج معالجہ،وہی جنگل اور وہی چہل قدمی۔ گاؤں کے لوگوں کے ردِعمل سے جانے کیوں سیمل کو محسوس ہو رہا تھا کہ اب زوارشاہ بھی نادم ہوگا اور اب اس کو زوارشاہ یا اس جیسے کسی دوسرے شخص سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
شدید موسمِ گرما آخری ہچکیاں لے رہا تھا۔ سہ پہر گزرتے ہی جنگل کی طرف سے معطر اور ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہو جاتیں۔ کیلنڈر کے مطابق یہ خزاں کا موسم تھا لیکن زمینی حقائق اس کو بہار جیسا بنائے ہوئے تھے۔ آم کے پیڑوں نے اپنا زیور اتار کر مالٹے کے پودوں کو پہنانا شروع کر دیا تھا۔ ایک شام جب موسم ابرآلود تھا سیمل معمول سے تھوڑی دیربعد گھر لوٹی۔ وہ کافی دیر تک درختوں کے رقص و سرور کی محفل سے لطف اندوز ہوتی رہی تھی۔ واپس پہنچی تو ہسپتال کے بوڑھے چوکیدار نے اس کو بتایا کہ تھوڑی دیر پہلے زوار شاہ آپ کا پوچھنے آیا تھا۔ اس کی بیٹی کو تھوڑی دیر پہلے سانپ نے ڈس لیا ہے۔
سمیرا کی عمر تین برس سے کچھ کم تھی۔ شادی کے پانچ سالوں بعد زوار شاہ کو قدرت نے اولاد کی نعمت سے نوازا تو اس نے پورے گاؤں کی دعوت کی تھی۔ اس دعوت میں بہت دور شہر سے بھی لوگ شامل ہوئے تھے۔ چند ماہ سے زوار شاہ اپنی بیٹی کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھ کر دور دور کی سیریں کرتا تھا۔حویلی نما گھر میں اکثر اوقات وہ سیمی کو اپنے مونڈھے پر بٹھائے کبھی مور بن جاتا، کبھی گائے اور کبھی گھوڑا۔ زوار شاہ کی زندگی کی ساری سرگرمیاں اب سیمی کی موجودگی میں ماند پڑ چکی تھیں۔ سیمی کی آمد سے اس بے رونق اور بے آباد حویلی میں ہولے سے بہار کی رونقیں عود کر آئی تھیں۔
چند ماہ قبل زوار شاہ کی بیوی اپنی بیٹی کے ساتھ ہسپتال آئی تھی۔ اس وقت سیمی کو ہلکا ہلکا بخار ہو رہا تھا۔ زوار شاہ ہسپتال سے بہت دور گھوڑے پر کھڑا رہا تھا۔ اس کی بیوی انجانے خدشات کے تحت ہسپتال میں داخل ہوئی لیکن سیمل نے جس محبت سے سیمی کا علاج کیا اور جس خلوص سے پیش آئی وہ زوار شاہ کی بیوی کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔ سیمی کی چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھیں، گوری رنگت اور گھنگریالے بالوں کی دیکھ کر سیمل گم سم ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ اس نے سیمی کے گالوں پر ہلکی سی تھپتھپاہٹ کے ساتھ چیک اپ شروع کر دیاتھا۔
سیمل چند لمحوں کے لیے حیران پریشان بوڑھے چوکیدار کے سامنے کھڑی رہی۔ اس کے بائیں جوگر کا تسمہ دائیں سوراخ سے لٹک رہا تھا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے سیمی کی چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھیں، گوری رنگت اور گھنگریالے بال رقص کر رہے تھے۔ سیمی چشمِ تصور میں درد سے کراہ رہی تھی اوراس کی مختصر سے آنکھوں سے بڑے بڑے آنسو ٹپک رہے تھے۔ سیمل کا مزید دیر کرنا سیمی کی جان لے سکتا تھا۔ شام کی اذانیں دور گاؤں سے سنائی دے رہی تھیں۔بادلوں نے آسماں کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ دور بہت دور بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر بجلی کی چمک ملگجی شام کو روشن کرنے کی ناممکن کوشش کر رہی تھی۔ ہوا ابھی سہمی ہوئی سسکیاں لے رہی تھی جب سیمل نے اپنی میڈیکل کِٹ تیار کی اور گاؤں کی طرف روانہ ہو گئی۔ بوڑھا چوکیدار جو کئی سالوں سے گھٹنوں کا مریض تھا اس کے ساتھ نہ جا سکتا تھا۔ سیمل کی ماں نے اس کوروکنے کی مقدور بھر کوشش کی لیکن بڑھاپا کہاں جوانی کے آگے ٹھہر سکتا تھا۔ درختوں کے بیچوں بیچ گاؤں جانے والا کچا راستہ بارش کی ابتدائی کِن مِن سے بھیگ رہا تھا۔ مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبوجنگل کی طرف سے آتی ہوئی کچے سبزے کی مہک سے گڈ مڈ ہو رہی تھی۔ ابھی وہ ایک میل دور ہی پہنچی تھی کہ بارش تیز ہو گئی۔ مجبوری کے عالم میں اس نے جنگِ عظیم میں انگریزوں کی بنائی گئی ایک متروک فوجی چوکی کے کھنڈر میں پناہ لی۔ یہ چوکی دو محتصر سے کمروں پر مشتمل تھی جس کے دروازے اور کھڑکیاں عرصہ ہوا غائب ہو چکی تھیں۔ ایک کمرے کی آدھی چھت اور دوسری کی ایک دیوار گر چکی تھی۔ باہر ہوا اور بارش مل کر طوفان کی شکل اختیار کر رہے تھے۔ سیمن ایک دیوار کی اوٹ لیے خوفزدہ عالم میں ساکن کھڑی تھی۔ تھوڑی دیر میں جنوب کی طرف سے جھمب کا پانی اُس پر آنے لگا تو وہ شرقی دیوار کے ساتھ چمٹ گئی۔ ٹوٹی ہوئی اینٹوں والا فرش پانی میں ڈوب چکا تھا۔ بوسیدہ کمروں میں پانی کی سطح دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔ بارش کو شروع ہوئے گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اچانک ساتھ والے کمرے کے چھت کا ایک حصہ دھڑام سے پانی میں گر پڑا۔ سیمن کھڑی تو کمرے میں تھی لیکن اس پر پانی یوں برس رہا تھا جیسے کسی آبشارکے دھارے کے بیچ بھیگ رہی ہو۔اس کو پاؤں کے قریب کوئی نرم سی چیز ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ٹارچ کی روشنی سے اس نے دیکھا تو یہ ایک گندمی رنگ کے سانپ کی مٹیالی سی دم تھی۔ اب اس فوجی چوکی میں مزید ٹھہرنا بیوقوفی تھی۔ سیمن نے اپنے آپ کو تند ہواؤں اور طوفانی بارش کے حوالے کر دیا اور گاؤں کی طرف اندھا دھند بھاگنا شروع کر دیا۔ میڈیکل کٹ ابھی بھی اُس کی گردن کے گرد لٹک رہی تھی۔
سیمن گاؤں میں داخل ہوئی تو اس کی سانس اکھڑنے لگ گئی تھی۔ تھوڑی دیر کے لیے گاؤں سے پہلے ایک قبرستان کے قریب چھوٹی سی مسجد میں ٹھہر گئی۔ چند لمحات کے بعد جب اس کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے اپنا حلیہ اور لباس موزوں کیا۔ بارش آہستہ ہو چکی تھی۔ مغرب کی طرف سے نصف آسمان بادلوں سے خالی ہو چکا تھا۔ گاؤں کی کچی گلیوں میں بارش کا پانی برق رفتار پہاڑی ندیوں کی طرح ادھر اُدھر بھاگ رہا تھا۔ گاؤں کے آوارہ کتے بھی آج کی رات خاموش تھے۔ سیمن جب زوار شاہ کے گھر پہنچی تو اس کو ہلکا ہلکا انسانی شورسنائی دیا۔ وہ بھاگتی ہوئی لوگوں کی طرف گئی۔ برآمدے کو عبور کر کے وہ بڑے سے کمرے میں داخل ہوئی تو سیمی کو چند لوگوں کے حصار میں بے دم لیٹے ہوئے دیکھا۔ گیس کی تیز روشنی میں وہ سیمی کے چہرے کو دیکھ سکتی تھی۔ گورے گورے چہرے پر چھوٹی چھوٹی آنکھیں نیم وا تھیں۔ گھنگریالے بال اس ہلچل میں بکھرے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔سیمن کو دیکھتے ہی تمام عورتیں اور مرد دائرے میں پیچھے ہٹ گئے۔ زوار شاہ عقبی گیلری میں سر ہتھیلی میں چھپائے بیٹھارو رہا تھا۔اس کو ابھی سیمن کی آمد کا پتہ نہ چلا تھا۔روتے روتے وہ چپ ہو جاتا اور خشک ہوٹوں سے سیمی سیمن، سیمی سیمن کی گردان شروع کر دیتا۔
سیمن نے اپنی میڈیکل کٹ کھولی اور تریاق کے چند قطرے جاں بلب بچی کے منہ میں ٹپکانے لگی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سی سیمی کی ننھی سی چھاتی کو یوں دبا رہی تھی جیسے آٹا گوندھ رہی ہو۔ زوار شاہ اب تک کمرے میں آچکا تھا۔ اس کی جھکی ہوئی نگاہیں اُٹھتیں تو سیمن پر پڑتے ہی کپکپانے لگ جاتیں۔ سیمی ہنوز بے دم لیٹی تھی۔ سیمن اپنی ساری توانائیں بارش کی نظر کر آئی تھی اور جو کچھ بچا تھا وہ سیمی کے سپرد کرنے پر بضد تھی۔ سیمی کی ماں بار بار پیلے رنگ کے دوپٹے سے اپنی آنکھیں اور ناک صاف کر رہی تھی۔ پندرہ بیس منٹ کی مشقت طلب جدوجہد کے بعد سیمی نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو جھپکنا شروع کر دیا۔ رکی ہوئی سانس نے ہلکا ہلکا چلنا شروع کر دیا۔ دو تین منٹوں کے بعد جب سیمی نے رونا شروع کیا تو کمرے میں موجود لوگ مارے خوشی کے چیخیں مارنے لگے۔ سیمی اب خطرے سے باہر آچکی تھی۔ سیمی تھوڑی دیر میں بستر پر اُٹھ بیٹھی۔ سیمن نے بچی کو اپنی گود میں اُٹھایااور دیوانہ وار اس کو چومنے لگی۔ سیمی قہقہے مار کر ہنس رہی تھی اور اب کے کمرے میں موجود دوسرے لوگ اپنا رونا بمشکل روکے ہوئے تھے۔ زوار شاہ پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ وہ کبھی ہنستا اور کبھی روتا اور کبھی پاگلوں طرح کمرے میں بھاگنا شروع کر دیتا۔
سیمن جب اپنے سرکاری کوارٹر کی طرف روانہ ہوئی تو نصف شب گزر چکی تھی۔ تین عورتیں بابو کوچوان کے ساتھ تانگے پر اس کے ہمراہ تھیں۔ تانگہ چلنے سے پہلے زوار شاہ بھاگتے ہوئے باہر نکلا۔ اپنی گیلی پگڑی سر سے اتار کر سیمن کے پاؤں میں رکھ دی۔تھوڑی دیر وہیں چپکا کھڑا رہا ۔ اس کی نگاہیں بدستور جھکی ہوئی تھیں اور چہرے پر چند لمحوں کی خوشی کے بعد گہری سنجیدگی طاری ہو گئی تھی۔ آسمان بالکل صاف ہو چکا تھا۔بارہویں کا چاند اپنا نور برسا رہا تھا۔ سفید چاندنی میں شب کی سیاہی دھل رہی تھی ۔روشنی شبِ تاریک پر بازی لے گئی تھی۔ زوار شاہ کی چھدری مونچھیں، گھنگریالے بالوں کے چھتے اور گوری رنگت اس کی عسرت اور مردانہ وجاہت کی غمازی کر رہی تھیں۔

حصہ