(رپورٹ: رضی الدین رضی)
اردو اور پنجابی کے صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، نقاد، مترجم اور ماہر تعلیم پروفیسرحسین سحرجمعرات کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ان کی عمر 74 سال تھی۔ پروفیسر حسین سحر 40 سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے جن میں قرآن پاک کا منظوم ترجمہ بھی شامل ہے۔ حسین سحرکا اصل نام خادم حسین تھا وہ یکم مارچ 1942 کو فیروزپور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ملتان منتقل ہوئے اوریہیں تعلیم حاصل کی۔ حسین سحر نے اردو، پنجابی اورعلوم اسلامیہ میں ایم اے کیا۔ اور اس کے بعد تدریس کے شعبہ کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ 1970میں وہ ایس ای کالج بہاولپورمیں اردوکے لیکچراربھرتی ہوئے، بعدازاں انہوں نے سول لائنز کالج ملتان میں اردو کے پروفیسر اور شعبہ اردو کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ وہ گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ ڈگری کالج ملتان کے پرنسپل کی حیثیت سے بھی 5 سال تک فرائض سرانجام دیتے رہے۔ پروفیسرحسین سحر کو ان کی ادبی خدمات پرمتعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں نعتیہ کتاب ’’تقدیس‘‘ پر صدارتی ایوارڈ، بچوں کی کتاب ’’پھول اورتارے ‘‘ پر یوبی ایل ایوارڈ، قومی سیرت ایوارڈ،نیشنل بک کونسل ایوارڈ اور مسعود کھدر پوش ایوارڈ قابل ذکر ہیں۔ حسین سحر کی 40 سے زیادہ کتابوں میں اردو اورپنجابی کے شعری مجموعے، بچوں کے لئے کہانیوں اورنظموں کی کتابیں، پنجابی اورسرائیکی شاعری کے تراجم اور تنقید و تحقیق کی کتابیں شامل ہیں۔ پروفیسرحسین سحرنے اندرون اوربیرون ملک بہت سی کانفرنسوں اورسیمینارزمیں ملتان کی نمائندگی کی ۔ وہ پاکستان رائٹرزگلڈ ملتان، پاکستان چلڈرن اکیڈمی اور مجلس اہل قلم کے جنرل سیکرٹری اورپاکستان رائٹرزفورم ریاض کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ان کی آخری کتاب ’’جب کوئی دوسرانہیں ہوتا ‘‘ اسی ماہ منظرعام پرآئی جوان نظموں اورغزلوں پر مشتمل ہے جوانہوں نے اپنی اہلیہ کی یاد میں کہیں۔ ان کی اہلیہ کا گزشتہ برس انتقال ہواتھا اورپروفیسرحسین سحرعین ان کی برسی کے روزاس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔وہ شہزادحسین اورمہزاد حسین کے والد، معروف تاجررہنما مظاہرحسین کے سسراورمعروف شاعر،کالم نگار اور دانشور شاکر حسین شاکر کے چچا تھے۔ ان کی نمازجنازہ آج جمعرات کی شام 5 بجے جی پی اوگراؤنڈ ملتان میں ادا کی جائے گی۔

حصہ