تاریخ

ملکہ نور جہاں ……………..دخترَ جمہور .. تحریر :. ہماانور

ملکہ نور جہاں ……………..دخترَ جمہور .. تحریر :. ہماانور
لاہور کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ شہر مغل عمارات کا ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ ان میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور متعدد مقابر شامل ہیں۔ لاہور شہر سے باہر مغلوں کے شاہی ذوق کی عکاسی کرنے والی ایک جگہ اور بھی ہے جسے اس حوالے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے…. شاہدرہ، دریائے راوی کے کنارے وہ مقام جسے مغلیہ دَور میں دریا پار کرکے کشمیر یا کابل جانے یا قریبی شیخوپورہ میں ہرن کی شکار گاہ پہنچنے سے قبل سستانے کے مقام یا پڑاﺅ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ کسی زمانے میں یہ شاہدرہ سایہ دار گھنے درختوں اور سرسبز روشوں والا باغ، “باغِ دل کشا” تھا جہاں شاہی ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیتے اور شاہی خاندان کے افراد سیر کیا کرتے تھے۔ البتہ اب یہاں صرف تین مقابر باقی ہیں، جن میں سے دو مقبرے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر اور آصف جاہ کے ہیں۔ پہلوئے شاہ میں تیسرا مقبرہ وہ ہے جس کے لیے کبھی ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا:
پہلوئے شاہ میں دختر جمہور کی قبر
کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
اداس فضاﺅں میں اس ویراں اور خاموش مرقد میں مدفون ہستی جسے ساحر لدھیانوی نے “دختر جمہور” قرار دیا کوئی بے بس و لاچار خاتون نہیں بلکہ سلطنت مغلیہ کی اپنے وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی جس نے اپنی ذہانت اور ذکاوت سے مغل سلطنت پر کئی عشرے حکومت کی۔ تاریخی واقعات اور شخصیات پر وقت کے ساتھ ساتھ پڑنے والی افسانے کی گرد اکثر اصل حقائق کو چھپا دیتی ہے لیکن اس خاتون کے طاقت و اختیارات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ یہ واحد خاتون تھی جن کے نام کا سکّہ مغلیہ دَور میں جاری ہوا اور شاہی مہر پر جس کا نام کندہ ہوا۔ جی ہاں، یہ ملکہ ہندوستان نورجہاں کا مقبرہ ہے جن کے بارے میں سٹینلے لین پول نے History of India میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “یہ ایرانی شہزادی، بادشاہ جہانگیر پر بے پناہ اثر انداز رہی، یہاں تک کہ جہانگیر کے ساتھ اس کا نام سکّوں پر جاری ہوا۔ باحکم شاہ جہانگیر یافت صد زیور/ بنام نور جہاں بادشاہ بیگم زر ( زیورکے حسن میں 100 گنا اضافہ ہوا جب جہانگیر کے حکم سے نور جہاں بادشاہ بیگم کا نام اس پر کندہ ہوا)۔” لین پول مزید لکھتے ہیں کہ بیشتر عہد جہانگیری میں اصل حکومت ملکہ نور جہاں کی رہی۔ اُس نے تاج و تخت کے مالک جہانگیر کے دل پر ہی نہیں بلکہ اصل تاج و تخت پر بھی حکومت کی اور جہانگیر کی سیاسی و سماجی زندگی پر اثر انداز رہی۔
برصغیر کی تاریخ کی دھند میں اگرچہ خواتین کا ذکر ناپید ہی ہے لیکن رضیہ سلطان اور ملکہ نورجہاں وہ شخصیات تھیں جنہوں نے مردوں کی دنیا کی بے رحم سیاست میں حصہ لیا اور باحیثیت اور بااختیار رتبے تک پہنچیں۔ 1577 میں قندھار میں پیدا ہونے والی ایرانی النسل مہر النسا، جسے شہنشاہ جہانگیر نے شادی کے بعد “نورِ محل” اور پھر” نورِجہاں” کا خطاب دیا، ملکہ ہندوستان بنی اور مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ لاہور ہی وہ شہر ہے جہاں مہر النسا اور جہانگیر کی شادی ہوئی۔ یہیں ملکہ نے اپنے شوہر کا مقبرہ تعمیر کروایا، قریبی باغات بنوائے، قلعہ لاہور میں اضافے کیے اور زنانہ کوارٹرز تعمیر کروائے۔ نورجہاں دَورِ مغلیہ کی واحد ملکہ تھی جس نے اپنی بیشتر زندگی لاہور میں گزاری جب کہ باقی تمام زیادہ تر مغل دارالسلطنت آگرہ اور دہلی میں مقیم رہیں۔
مہر النساکے دادا ایرانی شاہ طہماسپ کے دربار میں ملازم تھے جب کہ اس کے والد غیاث بیگ، مغل بادشاہ اکبر کے دَور میں ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور شاہی دربار میں ملازمت اختیار کی۔ 1594 میں مہر النسا کی شادی ترک النسل علی قلی بیگ سے انجام پائی، جسے بعد ازاں شیر افگن کا خطاب دے کر بنگال میں جاگیردار تعینات کر دیا گیا۔ 1607 میں گورنر بنگال اور جہانگیر کے رضاعی بھائی قطب الدین کوکا ایک تنازع میں شیر افگن کے ہاتھوں قتل ہوئے جس کے نتیجے میں گورنر کے محافظوں نے شیر افگن کو ہلاک کر دیا۔ مہر النسا اور اس کی بیٹی کو آگرہ کے شاہی حرم میں بھجوا دیا گیا جہاں وہ مغل شہنشاہ اکبر کی بیوہ رقیہ سلطان بیگم (جو مرزا ہندال کی بیٹی تھی) کی خدمت پر مامور ہوئی۔ یہیں نو روز کے تہوار پر مہر النسا کا سامنا بادشاہ جہانگیر سے ہوا اور بادشاہ نے 1611 میں اس 35 سالہ حسین، برجستہ گو اور ذہین بیوہ سے شادی کر لی جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ رفتہ رفتہ جہانگیر کو ملکہ نورجہاں پر اس قدر بھروسا ہو گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں ملکہ سے مشورہ لینے لگا جو سیاست، معیشت، ثقافت اور انتظام میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جہانگیر کی بیسویں مگر سب سے محبوب اور پسندیدہ بیوی تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی اختیارات کو استعمال کرتی رہی۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایران سے ذہین سپاہی، علما اور شعرا ہندوستان بلوائے، جنہوں نے انتظامیہ اور مغل سلطنت کی ثقافتی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی کے باعث ملکہ کا دربار میں اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔ ملکہ نور جہاں کے والد غیاث بیگ اور بھائی عبدالحسن آصف خان کو دربار میں اہم عہدے دئیے گئے جنہیں بالترتیب اعتماد لدولہ اور آصف جاہ کے خطابات سے نوازا گیا۔ نورجہاں کا خاندان اُس دَور کا طاقت ور ترین خاندان تھا۔ اعتماد الدولہ، جہانگیر کا وزیراعظم اور آرمی چیف بنا۔ آصف جاہ کو دربار میں اس وقت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گیا جب ملکہ نے اپنی بھانجی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی شادی اپنے سوتیلے بیٹے خرم سے کروا دی۔ بعد ازاں ملکہ نورجہاں نے 1621 میں اپنی بیٹی لاڈلی بیگم کی شادی جہانگیر کے چوتھے بیٹے شہریار سے کروا دی۔ یوں مستقبل میں دونوں شہزادوں خرم اور شہریار میں سے جو بھی شہنشائے ہند بنتا ملکہ نورجہاں کو مزید اگلی ایک نسل تک طاقت و اختیارات حاصل رہتے۔
3جیسا کہ ہر بادشاہت میں یہ روایت رہی ہے کہ شہزادے بغاوت کرتے ہیں اور بھائی تخت کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے ہیں۔ شہنشاہ جہانگیر کے بڑے دونوں بیٹوں میں سے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کی تھی اور بادشاہ نے اسے اندھا کروا دیا تھا۔ خسرو کی مدد کرنے کے جرم میں مہرالنسا کے ایک بھائی کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ غالباً تبھی آصف جاہ نے دربار میں اثرورسوخ بڑھانے کو اپنی بہن مہرالنسا کی شادی جہانگیر سے کروانے میں کردار ادا کیا۔ جہانگیر کا دوسرا بیٹا پرویز مے نوشی کا عادی تھا۔ جہانگیر کی ناسازی طبیعت اور بڑھاپے کے باعث ہندوستان پر عملاً مرزا غیاث، نورِجہاں، آصف جاہ اور شہزادہ خرم کی حکومت تھی۔ شہنشاہ جہانگیر تمام حکومتی اور محلاتی معاملات میں ملکہ نورجہاں پر بھروسا کرتا تھا، ملکہ دربار میں بادشاہ کے ساتھ موجود ہوتی اور اسے جہانگیر کی طرف سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ شہزادہ خرم کی من مانی کی عادات کے باعث ملکہ اپنے داماد شہریار کو شہزادہ خرم پر فوقیت دینے لگی جس پر خرم، ملکہ سے برافروختہ ہوگیا۔ خرم کے ملکہ کے احکامات ماننے سے انکار پر ہی قندھار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے کہ اُس نے نورجہاں کے احکامات کے برعکس قندھار جانے سے انکار کردیا تھا۔ خرم کو شبہ تھا کہ اُس کی غیر موجودگی میں شہریار کو ولی عہد بنا دیا جائے گا یا ہو سکتا تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں مارا جاتا۔ اسی باعث شہزادہ خرم نے جنگ لڑنے اور قندھار جانے کی بجائے باپ کے خلاف بغاوت کر دی اور قندھار پر ایرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ 1626 میں اس بغاوت کے وقت جہانگیر، کشمیر کے راستے میں تھا کہ شہزادہ خرم نے اُسے گرفتار کروا لیا۔ ملکہ نور جہاں نے مداخلت کی اور مذاکرات کے ذریعے جہانگیر کو رِہا کروایا۔ جہانگیر کے بیٹوں میں اقتدار کی اس کشمکش کے باعث ملکہ کے اختیارات میں سیندھ لگ گئی۔ اس کشمکش میں فتح خرم کی ہوئی جسے بغاوت میں مغل افواج کے جرنیل مہابت خان نے بھی مدد دی تھی جو ایک عورت یعنی ملکہ نورجہاں کے اقتدار اور درباری سیاست سے متنفر تھا۔ اس واقعے کے بعد جہانگیر ایک برس ہی زندہ رہا اور 28 اکتوبر 1627 کو کشمیر سے واپسی پر راستے میں وفات پائی۔ جہانگیر کو لاہور میں ملکہ نورجہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ، باغِ دل کشا میں دفن کیا گیا۔
شہنشاہ کی وفات کے بعد شہریار اپنی سوتیلی والدہ اور ساس ملکہ نورجہاں کی مدد سے تخت پر قابض ہو گیا۔ لیکن ملکہ نورجہاں کی ذہانت بھی اس کا اقتدار بچا نہ پائی کیوںکہ اس موقع پر آصف جاہ نے بہن کی بجائے داماد کی حمایت کی۔ لاہور کے قریب آصف جاہ کی فوجوں سے شہریار کا مقابلہ ہوا جس میں اُس نے شکست کھائی اور قلعہ بند ہو گیا۔ آصف جاہ کی افواج قلعہ کے اندر داخل ہو گئیں اور اس جنگ میں شہریار مارا گیا۔ آصف جاہ کی فتح کے بعد شہزادہ خرم، “شاہ جہاں” کے لقب سے لاہور میں تخت نشیں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنے سارے بھائیوں کو آصف جاہ کے ذریعے قتل اور ملکہ نورجہاں کو ایک طرح سے نظربند کروا دیا۔ البتہ شاہی دربار کی مداخلت سے ملکہ کو رِہا کیا گیا اور اس کا 2 لاکھ روپے سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔
شہنشاﺅں کی طرح ملکہ پر بھی اقربا پروری، بداعمالی، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، درباری سازشیں بھی اس سے منسوب کی گئیں لیکن اس کے باوجود مغل دربار کو جو کچھ ملکہ نورجہاں نے دیا…. کھانے، طرزِ لباس، طرزِ زندگی، تہذیب…. وہ سب بے مثل ہے۔
ملکہ نورجہاں مغل خواتین سے مختلف تھی۔ وہ شاعرہ، زیورات اور لباس کی ڈیزائنر اور آرٹ سے شغف رکھنے والی ایک غیرمعمولی عورت تھی۔ وہ عمر بھر تعمیرات و فنون کی سرپرستی کرتی رہی۔ وہ جہانگیری عہد کی کئی فنی، تعمیری اور ثقافتی کامیابیوں کی تنہا ذمے دار تھی۔ اس کی ڈیزائن کردہ تعمیرات میں کشمیر و آگرہ کے باغات، باغ ِدل کشا، اپنے والد اعتماد الدولہ، بادشاہ جہانگیر اور اپنے مقبرے شامل ہیں۔ اعتماد الدولہ کا مقبرہ مغلیہ عہد کی تعمیرات میں ایسی پہلی مثال ہے جس میں سفید سنگ
مرمر اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے قبل مغل عمارات میں سنگ سرخ کا استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ شہنشاہ ہمایوں اور جلال الدین اکبر کے مقبروں میں دکھائی دیتا ہے۔ بعد میں شاہ جہاں نے اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آگرہ میں اپنی محبوب ملکہ اور ملکہ نورجہاں کی بھانجی ارجمند بانو (ممتازمحل) کا مقبرہ، تاج محل تعمیر کروایا۔ مقبرہ جہانگیر، ملکہ کے ہنر اور انداز کا واضح ثبوت ہے، جس میں گولائیوں اور گنبد کا استعمال کہیں نہیں کیا گے۔ یہ اپنی طرز کی منفرد تعمیر ہے۔
ملکہ کے بنوائے گئے باغات میں سے کچھ سرکاری شاہی تقریبات کے لیے مخصوص تھے جب کہ دیگر عوام کے استعمال میں بھی آتے تھے۔ زنانہ حرم پر بھی ملکہ کا ہی حکم چلتا تھا، جس میں بیگمات، کنیزیں، بچے، خدّام، غلام، خواتین محافظات، خواجہ سرا وغیرہ شامل تھے۔ وہ زنانہ حرم کی زیبائش و آرائش کے ذوق، فیشن، زیورات،کھانوں پر اثر انداز رہی۔ نئی خوشبویات میں تجربات کیے گئے۔ نورجہاں ہی نے گلاب کا عطر ایجاد کیا۔”چاندنی” ملکہ نورجہاں کی اختراع ہے۔ دوسرے ممالک سے زیورات، ریشم، پورسلین درآمد کیے گئے۔ ملکہ نورجہاں نے ہی خواتین کے لباس کو برصغیر کے گرم موسم سے ہم آہنگ کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ملکہ، جہانگیر کے شانہ بہ شانہ شیر، چیتے اور دیگر جانوروں کا شکار کھیلا کرتی تھی۔ اس کا نشانہ بے مثال تھا۔ شکار کا یہ
ذکر “تزک جہانگیری” میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر دونوں کو مصوری سے شغف تھا۔ جہانگیر کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا جن میں دربار کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی اور شاہی مرد و خواتین اور باغات اور پرندوں کی تصاویر شامل تھیں۔ دَورِ اکبری میں داستانِ امیر حمزہ، اکبر نامہ اور ہندو اساطیر کی تصویرکشی پر کام کا آغاز ہوا تھا۔ 1612 سے 1627 کے دوران ایرانی مصوروں کی بدولت برصغیر میں فن مصوری کو فروغ ملا۔
یورپیوں سے تجارت کا آغاز بھی ملکہ نور جہاں کے دَور میں ہوا۔ اُس نے آنے والے تاجروں سے محصولات لینے کا آغاز کیا۔ داخلی اور خارجی تجارت میں دخل اندازی اور رکاوٹ سے بچنے اور سہولیات کے حصول کے لیے مغل حکومت کو ادائیگی کی جانے لگی۔ وہ بحری جہازوں کی مالک تھی جو نہ صرف حج کے سفر بلکہ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ اس کے تجارتی تعلقات سے مغل سلطنت کی دولت و آمدنی میں اضافہ ہوا۔ مغل دارالسلطنت آگرہ، ملکہ نور جہاں کے ان اقدامات کے باعث ایک کاسموپولیٹن شہر اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔
اپنی گوشہ نشینی کے دَور میں بھی ملکہ نور جہاں فلاحی کاموں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر معاملات میں دلچسپی لیتی رہی اور یتیم لڑکیوں کو زمینیں اور جہیز عطا کرتی رہی۔ شہریار کی بیوہ اور ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم اس گوشہ نشینی میں ملکہ نورجہاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ملکہ نے یہ وقت اپنے والد اور شوہر کے مقابر بنواتے ہوئے گزارا۔ ملکہ نورجہاں نے 68 سال کی عمر میں شہنشاہ جہانگیر کے دنیا سے گزرنے کے 16 برس بعد گوشہ نشینی اور تنہائی کے عالم میں 17 دسمبر 1645 کو وفات پائی اور اپنے تعمیر کروائے گئے مقبرے میں دفن ہوئی۔ ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم کی قبر بھی اُسی کے پہلو میں ہے۔
ملکہ کا یہ مقبرہ کئی بار اُجڑا، اٹھارہویں صدی میں رنجیت سنگھ کے دَور میں سکھ گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے لیے نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر لے گئے۔ بعد ازاں انگریزوں نے مقبرے کے باغ سے ریلوے لائن گزاری اور انیسویں صدی میں اس مقبرے کے حصوں کو کوئلے کے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ محکمہ آثارِقدیمہ کی غفلت کے باعث اب اس مقبرے کا قیمتی پتھر مخدوش و بوسیدہ حالت میں ہے۔
ملکہ نور جہاں فارسی زبان کی شاعرہ بھی تھی اور مخفی تخلص رکھتی تھی، اس کا مزار اسی کے فارسی شعر کی تفسیر ہے جو اس کی لوحِ مزار پر رقم ہے۔
برمزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے
مجھ اجڑے ہوئے کے مزار پر چراغ (روشن) ہے نہ کوئی پھول (کھلے) ہیں۔ (اسی لیے) نہ یہاں پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صدا سنائی دیتی ہے.

Back to top button