میرا میانوالی —————————— تلوک چند محروم
تلوک چند محروم سرکاری ملازمت سے ریٹائر ھوئے تو گارڈن کالج راولپنڈی میں انہیں اردو اور فارسی کے لیکچرر کی پوسٹ پر تقرر کی پیشکش کی گئی – محروم نے یہ پیشکش قبول کر لی – یادرھے کہ محروم صرف بی اے پاس تھے، اور لیکچرر کے لیے کم ازکم بنیادی تعلیم ایم اے ھونی چاھیئے- مگر محروم صاحب کی قابلیت اور شاعر کی حیثییت میں شہرت کی بنا پر گارڈن کالج جیسے وی آئی پی ادارے نے انہیں لیکچرر کھ لیا-
محروم صاحب کی جواں سال بیٹی شکنتلا جل کر مر گئی- ھندو عقیدے کے مطابق تو لاش کو جلا کر اس کی راکھ دریائے گنگا میں ڈال دی جاتی ھے- مگر محروم صاحب نے ایسا نہ ھونے دیا – انہوں نے بیٹی کی لاش کو دفن کروا یا اور اوپر قبر بھی بنوادی-
محروم 6 جنوری 1966 کو دہلی میں اس دینا سے رخصت ھوگئے- متعصب ھندو معاشرے میں وہ اپنی میت کی تدفین تو نہیں کروا سکتے تھے، تاھم انہوں نے اپنے بیٹے جگن ناتھ آزاد کو وصیت کی کہ میرے دسویں پر ھندوؤں کی مذھبی کتابیں پڑھوانے کے علاوہ قرآن خوانی بھی کرائی جائے- ھمارے چہلم کی طرح ھندوؤں کا دسواں ھوتا ھے جس میں وہ لوگ میت کی نجات کے لیے اپنی مذھبی کتابیں پڑھتے ھیں- محروم نے ان کتابوں کی بجائے قرآن حکیم کو وسیلہ بنانا زیادہ مناسب سمجھا- جگن ناتھ آزاد نے اپنے والد کی وصیت پر عمل کرتے ھوئے ان کے دسویں پر قرآن خوانی کا اھتمام بھی کر دیا-
میں سوچتا ھوں کہ محروم اور جگن ناتھ جیسے لوگوں کو اگر ھمارے علمائے کرام ذرا سی لفٹ کروادیتے تو یہ لوگ بہ خوشی مسلمان ھو جاتے- مگر ھمارے علمائے کرام تو الا ماشاءاللہ مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے فارغ کرنے سے فارغ نہیں ھوتے، کافروں کو کیوں لفٹ کرواتے-
محروم نے بہت سی خوبصورت نعتیں بھی لکھیں – افسوس کہ ان کی کوئی کتاب اس وقت میری دسترس میں نہیں- دوستوں سے گذارش کی تھی – جو کچھ مل سکا اس میں سے کچھ آج شام پوسٹ کر دوں گا——–
———— منورعلی ملک ————-

حصہ