1978 میں پروفیسر جگن ناتھ آزاد کی آمد عیسی خیل کی ادبی تاریخ کا اھم واقعہ تھی – جگن ناتھ آزاد ، نامور اردو شاعر تلوک چند محروم کے فرزند ارجمند ، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماھر اقبالیات اور بہت اچھے شاعر تھے- ان کا آبائی گھر عیسی خیل ھی تھا- قیام پاکستان کے وقت ان کا خاندان بھی دوسرے ھندو خاندانوں کے ساتھ بھارت منتقل ھو گیا تھا- منتقل ھونا تو ایک مجبوری تھا، وطن کی محبت میں جگن ناتھ اور ان کے والد عمر بھر بے قرار رھے- جگن ناتھ کا بچپن عیسی خیل کی گلیوں میں گذرا تھا-
تقریبا 32 سال بعد دوبارہ عیسی خیل آنا جگن ناتھ کے ایک دیرینہ خواب کی تکمیل تھا- شہر کی گلیوں میں پھرتے ھوئے وہ اپنے بچپن، والدین بہن بھائیوں اور دوستوں کو یاد کر کے مسلسل آنسو بہاتے رھے- عیسی خیل مین بازار کے مشرقی سرے پر واقع اپنے گھر کو دیکھ کر تو وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے- گھر کا نقشہ اب کافی بدل چکا تھا، لیکن درودیوار وھی تھے- اسی گھر میں ان کی جواں سال بہن زندہ جل کر مر گئی تھی- اس المناک سانحے کو یاد کر کے جگن ناتھ بہت دیر تک روتے رھے-
پروفیسر جگن ناتھ آزاد اب جموں یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ تھے- وہ سرکاری مہمان کی حیثیت میں پاکستان آئے تھے- اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین پروفیسر مسیح الدین صدیقی ، اور میانوالی سے ڈاکٹر اجمل نیازی چند دوسرے دوستوں کے ھمراہ جگن ناتھ آزاد کے ھم رکاب تھے-
عیسی خیل میں جگن ناتھ آزاد کے اعزاز میں دو خصؤصٰی تقریبات منعقد ھوئیں- ایک ادبی تقریب کالج میں ھوئی، دوسری تقریب لالا کی خصوصی محفل موسیقی تھی – ان دو تقریبات کی کہانی کل سنا ؤ ں گا، انشاءاللہ ————-
ترانہ پاکستان ، جگن ناتھ آزاد نے قیام پاکستان کے دن لکھا تھا – اس کا ایک بند ملاحظہ فرمایئے-
اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام
اپنے وطن میں آج نہیں ھے کوئی غلام
اپنا وطن ھے راہ ترقی پہ تیز گام
آزاد، سربلند، جواں بخت ، شادکام
اب عطر بیز ھیں جو ھوائیں تھیں زھرناک
اے سرزمین پاک
Jagan Nath Azad

حصہ