میرا میانوالی — پروفیسر سلیم احسن

آپ نے ایک ، میں نے دو محمد سلیم احسن دیکھے ھیں – ایک سلیم احسن وہ تھے جو نیلے رنگ کا خوبصورت تھری پیس سوٹ پہنتے تھے- اچھے خاصے صاحب بہادر قسم کے اپ ٹو ڈیٹ نوجوان تھے- اس زمانے میں موصوف گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں ھمارے رفیق کار تھے- جب ھم لوگ وھاں وارد ھوئے تو یہ پہلے سے وھاں موجود تھے- تقریبا 6 ماہ ھمارے ساتھ رھے پھر وھاں سے ٹرانسفر ھوکر گورنمنٹ کالج میانوالی میں آگئے-

جتنا عرصہ عیسی خیل کالج میں رھے روزانہ بس پر میانوالی سے عیسی خیل آتے رھے- بڑی ھمت کی بات تھی ، روزانہ آنے جانے میں تقریبا دوسو کلومیٹر کا سفر ، وہ بھی بس کے ذریعے !
اس زمانے میں ان سے میری شناسائی صرف کلاسوں میں اتے جاتے ھیلو ھاے تک محدود رھی- ٹائیم ٹیبل ھی ایسا تھا کہ بقول چچا غالب

وہ جاتا تھا کہ ھم نکلے

کلاس سے فارغ ھوتے ھی سلیم احسن صا حب فورا واپس میانوالی چلے جاتے- مل بیٹھنے کا وقت ھی کبھی نہ ملا- شاعر یہ بھی تھے ، میں بھی- لیکن نہ مجھے پتہ چل سکا یہ شاعر ھیں ، نہ انہیں معلوم ھو سکا کہ میں اور اچھے برے کاموں کے علاوہ شاعری بھی کرلیتا ھوں- میری شاعری ابھی لالا کے میکدے سے باھر نہین نکلی تھی- ان کی شاعری ابھی میانوالی کے چند مخصوص احباب کی محفلوں تک محدود تھی- ———————– منور علی ملک ———–

حصہ