میانوالی کیلئے گالی کا تحفہ
میانوالی کے لوگوں کا مزاج …………… تحریر ظفر خان نیازی
ایک دوست نے میری ایک پوسٹ پر میانوالی گزٹ کا حوالہ دیا ہے جو انگریزوں کے دور میں انگریزی سرکاری کارندوں کی سہولت کیلئے انگریزوں کا لکها تها – انگریزوں کے مطابق تو میانوالی کے نیازی ، انتہائ بے اعتبار اور ‘ نیازی بہ بد راضی ‘ ہیں — خیالات کا یہ بہاو اس کے جواب میں پیدا ہوا جسے دوسروں کے ساتھ شیئر کیا تو بات سے بات نکلتی گئی اور ایک ملغوبہ سا بن گیا – اس پرانی پوسٹ کو آپ ڈیٹ کرکے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جس سے آپ کو میانوالی کے لوگوں کا مزاج سمجھنے میں مدد ملے گی – یہ آپ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ میرا تعلق پرانی نسل سے ہے – میرے یہ خیالات وہ ہیں جو میں نے اپنے عہد میں دیکھا – وقت کے ساتھ ہر جگہ تبدیلی آئی ہے تو ظاہر ہے میانوالی کی نئی نسل بھی شاید مختلف سوچتی ہو ، میرا نئی نسل سے زیادہ رابطہ نہیں ہے ، بہرحال میرے زمانے میں میانوالی اس طرح تھا –
انگریز نے جب ضلع گزٹ تیار کرائے تو اس کے سامنے ایک واضح مقصد تھا اور وہ یہ کہ انگریز افسروں کو ضلع کے بارے میں لوگوں کے مزاج اور ان سے ڈیل کرنے کا ایک روڈ میپ دیا جائے – سو اس نے اپنے نکتہءنظر سے دیسی لوگوں کا تجزیہ کیا – ہندوستان کے لوگوں کو جانچنے کا انگریزوں کا اپنا پیمانہ تها اور وہ اپنے افادی پہلو سے بات کرتے تهے – ان کو میانوالی کے عوام نہ تو کبهی پسند اور نہ ہی راس آئے — اس کی ایک ظاہری وجہ میں آپ کے گوش گزار کردوں –
پہلی جنگ عظیم میں انگریزی افواج میں میانوالی کے لوگوں پر مشتمل ایک رسالہ عرب علاقوں میں تها جس نے مقدس مقامات پر فائرنگ سے انکار کر دیا تها – اس واقعے کے بعد خاص طور ہر نیازیوں پر انگلش سرکار کی نوکری کے دروازے بند کر دئیے گئے تهے ، ان ہی دنوں میں کچه لوگوں نے سرکاری ملازمت کیلئے اپنی زات برادری تک تبدیل کر ڈالی تهی –
خان بہادر سلطان خان سہراب خیل ، جس نے یتیمی سے اپنی زندگی کا آغاز کیا تها ، ان پڑھ ہونے کے باوجود انگریز سرکار کا اعتماد حاصل کر کے خان بہادر تک کا خطاب حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا ، آنریری میجسٹریٹ بنا تها – ایک دلچسپ اور منصف مزاج کا مالک تھا – چند ماہ تک کی سزا تک کا اختیار اس کو حاصل تها – اپنے قبیلے کے ایک جوان کو جو ملزم کی حیثیت سے اس کے سامنے پیش ہوا تها ، سلطان خان صاحب نے سزا سنانے کے بعد پولیس کو کہا تها کہ یہ میرا عزیز ہے ، جیل جاتے ہوئے اسے چهاوں چهاوں لے کر جانا – یہ چهاں چهاں تے والا فقرہ میانوالی کی ضرب المثل بن چکا ہے – یہی خان بہادر سلطان خان نیازیوں کا چهوٹا سا سرسید احمد خان ثابت ہوا اور میانوالی کے خوانین پر سے انگریز سرکار کی نوکری کی پابندی ختم کرائ – میں نے یہ باتیں مختلف بزرگوں خاص طور پر محمد اکبر خان خنکی خیل سے سنی ہیں جو غازی علم دین شہید کے اہل خاندان کے میزبان تهے ، اور وہ خان بہادر سلطان خان اعزازی مجسٹریٹ کے اعزازی سیکریٹری کے طور پر کام کرتے تهے —
جنگ عظیم دوم کے موقع پر جب انگریزوں کو شمالی جانب سے روس کے آنے کا خطرہ ہوا تو انگریز ڈپٹی کمشنر میانوالی نے سلطان خان کو بلایا اور پوچها کہ اگر ہماری جگہ یہاں روس آگیا تو تم لوگوں کا کیا رد عمل ہوگا –
خان بہادر سلطان خان نے کہا کہ ہم آپ کی بستر بوریا باندھنے میں مدد کر کے بہت پیار سے آپ کو گاڑی پر بٹهائیں گے اور اگلے اسٹیشن پر جا کر روس کا استقبال کر لیں گے کیونکہ ہم غلاموں کا تو صرف مالک ہی تبدیل ہوگا، ہمیں اور کیا فرق پڑے گا – یہ بات بهی وہاں ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے –
انگریز ڈپٹی کمشنر کے ذکر سے ایک بات یاد آگئی ، آزادی سے قبل کچه مسلم آفیسرز بهی ضلع میانوالی کے ڈپٹی کمشنر رہے ہیں ، جن میں احمد حسن خان بهی شامل ہیں – ان کی میانوالی میں پوسٹنگ ہی ، ان کی ایک صاحبزادی شوکت خانم کی ڈاکٹر عظیم خان شیر مان خیل کے صاحبزادے انجنیئر اکرام اللہ خان نیازی سے جو کہ عمران خان کے والدین ہیں ، شادی کی بنیاد ثابت ہوئ – اور جب زرداری جیسے لوگوں کو طعنہ دینے کیلئے اور کچه نہ ملے تو اسے طنزا” عمران خان نیازی کہتے ہیں —
سو کسی کی طرف سے ہم لوگوں کو نیازی یا میانوالی کا ہونے کی گالی کا تحفہ کوئ نئ بات نہیں ہے —
عمران خان کے دو چچا صاحبان ، ظفراللہ خان نیازی مرحوم اور امان اللہ خان نیازی ایڈوکیٹ مرحوم سیاست دان تهے اور نواب کالاباغ کی سیاست کے ان دنوں سخت مخالف تهے جب ایسی مخالفت کا مطلب موت کو یا معاشی بد حالی کو دعوت دینا تها – نواب کالاباغ کی مخالفت پر کمیٹی میانوالی کے ساتھ کے مکان میں عیسی خیل گروپ کی گاڑیاں اینٹوں پر کھڑی کردی گئی تھیں اور ان کو شاید وہیں زنگ نے چاٹ لیا تھا – امان اللہ خان اور ظفراللہ خان نیازی مرحوم نے نہایت بے خوفی سے ہر دھمکی کا مقابلہ کیا تھا –
جب بهٹو مرحوم میانوالی جیل میں تهے اور زرداری کے اباجی بھٹو کے مخالف اور قائداعظم کو گالی دینے والے ، نیشنل عوامی پارٹی کے ایک تیسرے درجے کے سیاستدان تو نصرت بھٹو ایک دو بار میانوالی آئ تهیں تو عمران خان کے چچا کے ہاں ٹهیری تهیں – بھٹو کی انتہائ خواہش کے باوجود یہ فیملی پیپلز پارٹی میں شامل نہ ہرئ ، مسلم لیگ کے ساته ہی رہی —
جنجوعہ صاحب آپ نے خان بہادر سلطان خان مرحوم کے بارے میں مزید معلومات کا لکھا ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میانوالی کی ایک اتنی اہم شخصیت جسے آپ نیازیوں کا چھوٹا سا سرسید احمد خان کہہ سکتے ہیں میرے پاس بہت ہی کم معلومات ہیں ۔ ان کا گھر میانوالی شہر کےاولیں ، گرلز ہائی اسکول کی مغربی دیوار کے ساتھ متصل اور اکبریہ مسجد کے عین سامنے تھا ، میرے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ اٹھارویں صدی کے اختتام پر قائم ہونے والے اس پہلے گرلز اسکول کیلئے زمین ان کا عطیہ تھی یا زادہ خیل قبیلے کے افراد کا ۔ ان کے اکلوتے صاحبزادے اقبال خان مرحوم میانوالی سے لاہور شفٹ ہو گئے تھے ، کبھی کبھار وہ میانوالی آتے تو اس وقت کے پرانے لوگ انہیں بہت گرم جوشی سے ملتے تھے ۔ مزید معلومات محترم حمید اختر خان نیازی صاحب ، ریٹائرڈ فیڈرل سیکریٹری دے سکتے ہیں وہ ان کے قریبی عزیز ہیں اور دانشور بهی ، اور سوشل ورک کا بهی گہرا ادراک رکھتے ہیں ۔
ایک دلچسپ کہاوت البتہ میں شئیر کروں گا ۔ جیسا کہ میں نے ابتدائیے میں عرض کیا ہے کہ سلطان خان صاحب بچپن لڑکپن میں یتیم ہو گئے تھے تو انہیں ایک نمبردار نے اپنے ہاں ٹھہرا لیا تھا لیکن ان کا سلوک کچھ مشفقانہ نہیں تھا ۔
قسمت کا کھیل دیکھئیے کہ وہی نمبردار صاحب اور ان کی بیوی اپنی آخری عمر میں اتنے مفلوک الحال ہو گئے تھے کہ انہیں خان بہادر سلطان خان کی کفالت میں آنا پڑا تھا جو اس وقت تک آنریریری مجسٹریٹ اور درجنوں مربع زمین کے مالک بن چکے تھے ۔ محمد اکبر خان خنکی خیل بتاتے تھے کہ اس عروج و زوال کو یاد کر کے کبھی کبھی سلطان خان اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتے تھے —
عجب تیری قدرت عجب تیرے کھیل
گنجی کے سر پر چمبیلی کا تیل
خان بہادر کے ٹائیٹل کے بارے میں بھی عرض کر دوں –
انگریز سرکار کی خدمات کے عوض مسلمانوں کیلئے خآن بہادر کا تمغہ تھا ، ہندوؤں کیلئے یہی تمغہ رائے بہادر اور سکھوں کیلئے سردار بہادر کے ٹائیٹل سے تھا ۔ جنوبی ہند میں اسے راؤ بہادر بھی کہا جاتا تھا ۔ اس سے کمتر ٹائیٹل ، خان صاحب ، رائے صاحب اور سردار صاحب تھے – یہ غلامی کی دور کی نشانی ہے لیکن ابھی تک ان گھرانوں کے لوگ اپنے بزرگوں کے ٹائیٹل پر فخر کرتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں جاگیروں اور بڑی زمینداری کے مالک یہی لوگ بن گئے تھے –
یہ بات بھی نوٹ کرنے کو قابل ہے کہ میانوالی کے ذکر میں میانوالی کے لوگوں کا کردار کسی ایک قبیلے ذات برادری یا امیر غریب سے مختص نہیں – میانوالی شہر میں اگر موچی کی انسلٹ ہوئ ہے تو اس نے نتائج سے بے نیاز ہو کر چمڑا کاٹنے والی رمبی اٹها کر بڑے سے بڑے تیس مار خان کے پیٹ میں دے ماری ہے – پاکستان بننے کے بعد فورا” بعد ، مین بازار میانوالی میں روکھڑی کے ایک طاقتور اور با اثر قبیلے کے پٹھان کو ایک قصائی نے ایک جھگڑے میں گولی مار دی تهی – یہ پاکستان بننے کے بعد قتل کا پہلا وقوعہ تها – مقتول ، امیر عبداللہ خان روکهڑی کا بہنوئی اور گل حمید خان ایم پی اے کا والد تها ، وہ چاہتے تو ان کا سارا خاندان مار ڈالتے لیکن انہوں نے اس کا بدلہ لینا بھی مناسب نہ سمجھا – وہ قاتل شہر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور امیر عبداللہ خان روکھڑی نے اپنے بھانجوں کو انتقام کی آگ میں جھلسنے کی بجائے تعمیری رستے پر لگا دیا – آج وہ سیاست کے میدان میانوالی کا ایک اہم ترین گھرانہ ہے –
ایک معمر نیازی نے اپنے نوجوان بیٹے کو کہا ، پتر ، جوانی میں میں بہت شاغلہ تھا یعنی بہت دلیر اور لڑائی بھرائی کا شوقین تھا –
بیٹا بولا – ابا چپ کر –
اوئے کیوں ، تینوں یقین نئیں آیا –
بیٹا بولا – ابا تو اتنا شاغلہ ہوتا تو یا قبرستان میں ہوتا یا جیل میں – اتنی عمر نہ پائی ہوتی –
میانوالی کا ایک مہاجر نوجوان جو کراچی سیٹل ہوگیا تها ، سٹریٹ کرائم میں گولی کا شکار ہوا تو اس نے زخمی حالت میں حملہ آور سے پستول چهین کر مرتے مرتے اسے بهی مار دیا تها – اس کا بھائ تعزیت پر آنے والوں کو بتاتا تها کہ لالہ اساں میانوالی جمے آں – اساں اتهے دا پانی پیتا اے – اساں کنجے بزتی( بے عزتی ) برداشت کر سکدے اں—
تو کہنا یہ ہے کہ اس علاقے کے عام لوگوں کی شخصی توہین کرنا جان کو خطرے میں ڈالنے کا دوسرا نام ہے اس میں امیر غریب اور پٹھان ، ملک یا موچی یا لوکل اور مہاجر کی کوئ تفریق نہیں – غیرت اور عزت نفس یہاں کے لوگوں کا پہلا مسئلہ رہا ہے – لوگ بھوکے سو جاتے تھے ، مانگتے نہیں تھے -ساری میانوالی میں موچھ کا ایک بوڑها جسے موچھ کا بلوڑ (بگڑا ہوا بڑا لڑکا) کہتے تهے بهیک مانگتا تها – باقی کوئی بھکاری نہیں تھا – ضرورت مند گهر میں بیٹه جاتے تهے اور محلے دار آٹا وغیرہ ان کے گهر چهپا کر بهیج دیتے تهے – اس طرح بھوکا کوئی نہیں سوتا تھا –
لیکن اب دوسرے شہروں میں ہمارے کئ لوگ بهیک مانگتے ملے ہیں بلکہ میانوالی میں بھی اب کئی ایسے لوگ ہاتھ پھیلائے مل جاتے ہیں جو کبھی محنت مزدوری کر کے اچھا گزارا کرتے تھے –
چند برس پہلے میں پیارے دوست مرحوم مختار چوہدری کے چوہدری الیکٹرک سٹور پر بیٹھا تھا کہ ایک شخص دکان میں داخل ہوا ، چوہدری صاحب نے پیسے نکالنے کیلئے دراز کھولا ، اتنے میں اس شخص کی نظر مجھ پر پڑی اور وہ وہیں سے کھسک گیا – وہ ہمارے محلے کے ساتھ ہی ایک جگہ پر کبھی آٹے والی چکی پر کام کرتا تھا اور ہم ایک دوسرے سے سگرٹ مانگ کر پی لیتے تھے – اس نے مجھے برسوں بعد دیکھا تو اس کو شرم سی آئی اور خیرات لئے بغیر نکل گیا –
ایک اور کو دیکھا جو بھیک مانگ رہا تھا – کبھی وہ ستر کی دہائی میں سالانہ میلے کے موقع پر تھیٹر میں بالی جٹی کے ڈانس پر ہڑکیں مارتا اور بیلیں دیتا تھا –
میانوالی کا یہ اقتصادی پہلو بہت دکھی اور تکلیف دہ ہے کہ معیشت ایک بند گلی میں آکر کھڑی ہو گئی ہے اور کئی لوگ معاشی طور پر پس گئے ہیں –
میانوالی میں کبھی جیب کترے بهی نہیں تهے – صرف ایک مانی شیر مان خیل تها – ایک بار اس کا ہاته کسی کی جیب میں تها ، جیب والے نے پوچها یہ کیا کر رہے ہو –
بولا ، اندهے ہو ، دیکھتے نہیں ہو جیب کاٹ رہا ہوں – وہ بد نصیب آخر قتل ہو گیا تها —
بوری خیل ضلع میانوالی کا ایک جوان حج پر گیا تو کسی نے دیکھا ، کہ وہ سگرٹ سلگا کر خانہ کعبہ کے ایک باب کے سامنے اکڑوں بیٹھا ہے – اس نے پوچھا ، لالہ کنج بیٹھا ایں –
کہنے لگا ، واہ واہ رونق لگی اے ، ہوو ، ہوا پیا ڈیکھدا آں –
ایک قصہ اور بھی سن لیجئے – ایک دفعہ بوری خیل اپنی شادی پر ٹور بنانے کیلئے لاہور سے ڈانسر لڑکی لے آئے – رات ہوئی تو تھکن کے مارے سارے باراتی سو گئے – ڈانسر لڑکی نے ایک دو کو جگایا اور کہا – میں ناچ رہی ہوں اور تم سب سو رہے ہو ، کوئی بھی دیکھ نہیں رہا – وہ دن بھر کے کاموں سے تھکے پڑے تھے ، بولے ، سانوں تیڈے تے اعتبار اے ، توں سانوں سمن ڈے – توں بس نچی ونج –
میانوالی کے لوگ فقرا کہنے میں ایک خاص مزاج رکھتے تھے – سچی بات یہ ہے یا تو وہ آپس میں ہنستے کھیلتے یا پھر لڑتے – یہ شہر کا عمومی مزاج تھا – ایک ہندو کا واقعہ سن لیجئے- نریش چند نکڑا انڈیا کا ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہے ، اس کا تعلق میانوالی شہر سے تھا اور محلہ شیر مان خیل میں اس کا گھر نکڑہ ہاوس تھا – اس نے میانوالی کے بارے میں کتاب لکھی ہے ، وچھڑا وطن – اس میں ایک جگہ پر ایک ہندو کا لکھا ہے کہ وہ اپنی بہن کو ملنے گیا جو کسی بڑے شہر میں بیاہی گئی تھی – وہاں شہری مزاج کے مطابق اسے چھوٹی چھوٹی چپاتیاں کھانے کو ملیں – شرم کے مارے زیادہ چپاتیاں نہ کھائیں اور تقریبا” بھوکا لیٹا پڑا تھا – اتنے میں اس کی بہن ہاتھ میں گلاس لے آئی – اس نے دیکھا تو پوچھا ، یہ کیا ہے – بہن نے کہا دودھ لائی ہوں – اس نے گلاس دیکھا جو چھوٹا سا تھا – یہ جوان فٹ بھر لمبے مراد آبادی گلاس میں دودھ پینے والا تھا ، کہنے لگا ، بہن ذرا تکلیف کر ، اسے میرے کان میں ڈال دے —
صلاح الدین نیازی نے پوچھا ہے کیا میرا تعلق موچھ سے ہے –
جی نہیں -جی نہیں میرا تعلق شہر میانوالی سے ہے – اصلا” میں داود خیل حسن خیل ہوں – محلہ زادے خیل میانوالی میرا گهر تها ، اور زادے خیل قبیلہ ہی میرا سسرال ہے –
موچه سے میرے بہت سے پیارے دوست ہیں – موچھ کے قصبے کی خاص بات یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے لڑکے تو پٹھان ہی بنے رہے لیکن وہاں کی بچیوں نے تعلیم میں بہت دلچسپی لی – یہ مجهے یوں معلوم ہے کہ میانوالی میں میرے گهر کی چھت گرلز ہائی سکول میانوالی کے سابقہ هاسٹل کی چھت سے ملی ہوئ تهی – اور وہ لڑکیاں ہمارے گھر کی خواتین کے ساته دیوار پر کهڑے ہو کر کبهی کبهی حال احوال سنتی سناتی تهیں ‘ ان ہاسٹل میں ہمیشہ سب سے زیادہ موچھ کی طالبات ہوتی تهیں – یہ اس وقت بہت بڑی بات تھی – موچھ کی ان باہمت خواتین کی محنت اور تعلیم کے باعث ، موچھ کو آج یہ خوشگوار ثمر ملا ہے کہ آج کل تناسب کے اعتبار سے میانوالی کے لوگوں میں موچھ کے ڈاکٹر آرمی آفیسرز انجنیئرز اور دیگر تعلیمی شعبوں میں سرفہرست ہیں – اور ان کی سوچ نسبتا” زیادہ مثبت اور پروگریسو ہے – ایک وقت تھا کالے دھاگے اور تعویذ گنڈے کے کام کا موچھ ہیڈ کوارٹر تھا ، اب کالا دھاگا ہر جگہ پہنچ گیا ہے – اکثر رشتہ دار ایک دوسرے پر تعویذ اور جادو ٹونے کے شک میں بد اعتمادی کی زندگی گزار رہے ہیں – اس وقت آبادی کے اعتبار سے کم از کم شہر میں تو تعلیمی ادارے بہت ہیں ، کچھ عرصے بعد اس مرض سے نجات کی امید رکھی جا سکتی ہے –
اسی گرلز ہاسٹل کے حوالے سے ایک دلچسپ بات آگئی – پاکستان بننے سے پہلے میں سال بھر کا تھا – اس ہاسٹل کی ایک سکھ لڑکی جس کو سوڈھی کہتے تھے ، پیار سے مجھے اٹھا کر ہاسٹل لے جاتی تھی – سوڈھی سکھ برادری بابا گرو نانک کی اولاد ہیں –
ایک دلچسپ حقیقت اور – تقسیم ہند کے بعد دہلی میں دادا گیری میانوالی کے ایک دس نمبری ہندو ، منوہر لال نے سنبھال لی تهی – منوہر لال پہلی بار میانوالی آیا تها تو اسکی بڑی بڑی مونچھیں ، پشاوری کلاہ ، سرخ گورا رنگ ، سفید شلوار اور بوسکی کی قمیض دیکھ کر اور اس کی گفتگو سن کر لگتا تها جیسے موسے خیل کا کوئ پٹھان بیٹها ہے — سن 2000 میں مس ورلڈ منتخب ہونے والی لارا دت رشتے میں اس کی پوتی تهی —
ہندو عام طور پر قسم میں کہتے تھے ، قرآن سونہہ – سونہہ میانوالی میں قسم کو کہتے ہیں
آپ نے نوٹ کر کیا ہوگا کہ میں نے یہ ہوسٹ کسی ایک ذات یا ایک قبیلے کی تعریف کیلئے نہیں ، بلکہ میانوالی کے عوام کی عمومی فکر کا جائزہ اور تاریخ کے جھروکوں سے منظر پیش کئے ہیں جن کے عینی گواہوں سے یہ باتیں مجه تک پہنچیں ، میں نے بغیر کسی حاشیے کے یہ باتیں پیش کی ہیں –
شہناز خان کمنٹس میں کہہ رہی ہیں – آپ کی پوسٹ کے مطابق نواب کا ٹائٹل انگریزوں کا عطا کردہ ہے – عیسے خیل کے خوانین کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں –
بہت شکریہ میڈم شہناز خان – نواب کے ٹائٹل کی نہیں ،خان بہادر کی میں نے بات کی ہے –
عیسی خیل خوانین تو انگریزوں کی آمد سے پہلے بھی بہت بڑے لینڈ لارڈ اور خوانین تهے – ویسے تو میانوالی کا ہر شخص جو زمینداری کرتا ہے ، خان یا ملک ہے لیکن عیسے خیل کی زمینداری بہت زیادہ وسیع تهی – البتہ جو بات دکهی اور اہم ہے وہ یہ ہے کہ 1857 میں نواب کالاباغ اور خوانین عیسی خیل نے انگریزوں کی حمایت میں جوان بهیجے تهے جو دلی کی لوٹ مار میں شریک ہوئے تهے – اس بنا پر طویل عرصے تک عیسی خیل کے خوانین اور میانوالی کے دیگر علاقے کے لوگوں میں ایک ان دیکهی خلیج حائل رہی ہے – ان کے اس فعل کو میانوالی کے دیگر عوام میں کبهی پسند نہیں کیا گیا تها – اس خلیج کو عیسی خیل کے مقبول خان نیازی مرحوم جیسے خوبصورت لوگوں نے آکر پر کیا – اب دریائے سندھ کے آر پار دونوں طرف تعلق اور رشتے قائم ہو چکے ہیں –
انگریزوں کی حمایت کے بارے میں عیسی خیل کے خوانین کا اپنا استدلال تها اور وہ یہ کہ چونکہ مغلوں نے لودهیوں سے جو نیازیوں کے جد ہیں ، تخت دہلی چهینا تها اس لئے وہ مغلوں سے بدلہ لینے میں حق بجانب تهے – کرنل اسلم خان عیسی خیل سن 1973 میں میرے ایک سنبل دوست کی شادی پر باراتی تهے ، ان سے وہاں اس موضوع پر بات ہوئ تهی ، وہاں ان کا یہ نقطہءنظر سنا تها – یہ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ عیسی خان نیازی مرحوم کا شاندار مقبرہ دہلی میں ہے —
آج کے عیسی خیل کے نوجوان نسل کی سوچ بہر حال بہت مختلف اور مثبت ہے –
عامر عطا اعوان نے کہا ہے کہ کچھ چکڑالہ کی بات بھی ہو جائے –
چکڑالہ کی دو شخصیات جدید اسلامی تذکرے کے حوالے سے انتہائ اہم ہیں اور بدقسمتی سے ان دونوں کے بارے میں میری معلومات صفر کے برابر ہیں اور وہ ہیں ، مولانا عبداللہ چکڑالوی اور مولانا اللہ یار – چکڑالوی کے حوالے سے ایک فرقہ بھی کچھ عرصہ چلا تھا – میانوالی میں ایک با اثر یارو خیل گھرانے کا سربراہ غازی خان اس سے متاثر تھا لیکن یہ سلسلہ آگے چلا نہیں – یارو خیل میں بھی کوئی ایک چکڑالوی نہیں – چکڑالوی کو آپ غلام احمد پرویز کے مزاج کے قریب کہہ سکتے ہیں لیکن اس کے خیالات اس سے بھی آگے کے تھے – اس کی فکر آگے چلی نہیں لیکن راریخ میں اس کا نام ضرور رہ گیا ہے – دوسری شخصیت مولانا اللہ یار خان مرحوم سلسلہ اویسیہ کے بانی ہیں ، جس کے آج کل سربراہ جناب اکرم اعوان صاحب ہیں اتفاق دیکهیں کہ نظریاتی طور پر دونوں ایک دوسرے کی ضد تهے اور دونوں نے بین الاقوامی شہرت پائ اور میری دونوں کے بارے میں ذاتی معلومات بالکل صفر ہیں –
میانوالی واں بچھراں کی ایک شخصیت کا تذکرہ یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے اور وہ ہے مولوی حسین علی – سلسلہ اشاعت التوحید کے مولوی غلام اللہ خان راولپنڈی راجہ بازار والے اسی مکتب کے خوشہ چینوں میں سے ہیں – میں مطالعہ تو نہیں کو سکا لیکن بتایا جاتا ہے کہ ان کی قرآنی تفسیر بنیادی طور مولوی حسین علی کے کام پر استوار ہے – حسین علی صاحب کا آل انڈیا علماء میں بڑا نام تھا – یہ تخلیق پاکستان سے ذرا پہلے کی شخصیت ہے –
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ علمی اعتبار سے یہاں کے افراد نے مجموعی قومی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں – ناموں کی فہرست طویل ہے ،آپ نوجوانوں کو اس سلسلے میں کام کر کے ان کی شخصیات کو اجاگر کرنا چاہیئے کیونکہ مسلک سے قطع نظر اب وہ تاریخ کا ورثہ اور میانوالی کا اثاثہ ہیں –
بہت شکریہ
(آپ سے درخوست ہے کہ اپنے علاقے میانوالی کے بارے میں ایسی خوبی روایت یا کمی جو آپ محسوس کرتے ہوں مختصر طور پر کمنٹس میں لکھیں تاکہ دیگر ایسے پہلو بھی اس پوسٹ میں سموئے جا سکیں جو آپ کے خیال میں مجھ سے رہ گئے ہیں )

حصہ