ایک اہم سبق دیتی سیرت رسول و امن اسلام کانفرنس کراچی
عروہ نیازی
حضرت عمر بن عبد العزیز جو کہ بنو امیہ کے دور کے ایک انتہائی عبادت گزار اور عادل خلیفہ ہو گزرے ہیں،انہیں ان کے عدل کے سبب تاریخ میں عمر ثانی کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے۔ان کے دور خلافت میں انہیں خبر ملی کہ بنو امیہ کے کچھ لوگ شر پسندی پر اتر آ ئے ہیں اور انہوں نے عوام کا مال لوٹنا شروع کر دیا ہے۔وہ شر پسند لوگ چونکہ بنو امیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے جاس لئے ان کے خلاف کا روائی کرنے پر آپ کو خا ندان والوں کی مخالفت کا سامنا بھی کر نا پڑتا اس لئے بہت سوچ سمجھ کے آپ نے ایک فیصلہ کیا۔ان تمام شر پسند لوگوں کو آپ نے دعوت پر بلایا۔سب لوگ خوشی خوشی دعوت پر آگئے خلیفہ کے ہاں دعوت ان کے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔جب کھانے کا ٹا ئم ہوا تو آپ نے فرما یا کھا نا تھوڑا لیٹ ہو گیا ہے آپ لوگ بیٹھیں جیسے ہی کھانا تیار ہو تا ہے پیش کر دیا جا ئے گا۔لیکن کا فی دیر تک کھانا تیار نہیں ہو سکایہاں تک کہ سب لوگ شدید بھوک محسوس کر رہے تھے ایسے میں آپ نے بھونے ہوئے چنے منگوائے اورمہما نوں کے سا منے معذرت کے ساتھ پیش کروائے کہ جب تک کھانا نہیں بنتا آپ تھوڑے سے چنے کھا کر صبر کر لیں۔اس کے تھوڑی دیر بعد کھانا تیار کروا کے تمام مہما نوں کو پیش کر وادیا۔لیکن چنے کھا چکنے کے سبب مہما نوں کی بھوک تقریباََمٹ چکی ہو تی ہے اس لئے بہت کم لوگوں نے کھا نا کھا یا۔
جب آپ نے یہ ما جرا دیکھا تو ان کو سمجھا نے لگے کہ پیٹ کی آگ تو چنے کھا نے سے بھی بھری جا سکتی ہے تو پھر آپ لوگ کیوں اس پیٹ کے پیچھے عوام پر ظلم کرتے ہیں،ان کا حق چھین کے خود کو دوزخ کا حقدار کیوں بنا تے ہیں۔تب آپ نے ان کو سمجھا یا اور اس لوٹ مار اور شرپسندی کے بدلے عذاب کا بتایا تو اس محفل میں مو جود تما م مہمانوں پر رقت طا ری ہو گئی اور سب نے وہیں شر پسندی سے توبہ کر لی۔
کل ۴ دسمبر کی رات جب ڈاکٹر طا ہر القادری کراچی کے نشتر پارک میں کراچی کی بڑی جما عتوں کے نما ئندوں کو محبت سے دعوت دینے اور عزت کے ساتھ ان کو سٹیج پر جگہ دینے کے بعدجب امن کا سبق پڑھا نے کے ساتھ ساتھ گلے کا ٹنے والوں کو دوزخ کی وعید سنا رہے تھے تومجھے حضرت عمر بن عبد العزیز کا یہ واقعہ بہت شدتوں سے یا د آیا۔آپ میں اور ہم جیسے اور بہت سے لوگوں کو ہمیشہ سے یہی اعتراض رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب بات تو انقلاب کی کرتے ہیں لیکن ایم کیوایم کے نما ئندوں کو ہم نے اکثر ان کے جلسوں کے سٹیجوں پر دیکھا ہے۔لیکن کل مجھے محسوس ہوا ہم سب غلط تھے۔ڈاکٹر صاحب نے تو اپنے سب سے بڑے سیا سی مخالفین کو بھی دعوت دے ڈالی تھی کہ آئیں اور اس انقلابی جدوجہد میں ہما رے ساتھ چلیں۔کل کی سیرت کا نفرنس ڈاکٹر صاحب کی بہت بڑی کامیابی تھی کیونکہ وہ کراچی کی سرزمین پر پورے دو گھنٹے وہ سبق پڑہاتے رہے جس کو پڑہانے کی اگر کو ئی کوشش بھی کرے تو اسے اگلے جہاں پہنچا دیا جا تا ہے،لیکن ان کے اس سبق کو نہ صرف بر داشت کیا گیا،بلکہ بڑی دلجمعی سے سنا بھی گیا۔ان کی تقریر کا سب سے اہم حصہ داعش کے بارے گفتگو تھی۔سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی دہشت گرد تنظیم پا کستان میں کن لوگوں کے ساتھ کی وجہ سے داخل ہو تی ہے۔اس لئے بڑی سیا سی و مذہبی جما عتوں کے نما ئندوں کو بلا کر داعش کے موضوع پر بات کی کہ جو آئے وہ بھی قرآن و حدیث کی زبان میں سن لیں اور جو نہ آسکے وہ ان لوگوں کی مو جودگی والا پروگرام ضرور دیکھیں گے یوں پوری قوم کے سامنے داعش کا سیاہ چہرہ رکھ دیا۔جب وہ احا دیث بیان کر رہے تھے تو مجھے بہت حیرت ہو ئی،یوں محسوس ہو رہا تھا یہ داعش کا فتنہ آج سر نہیں اٹھا رہا بلکہ۱۴ سو سال پہلے اس فتنہ نے سر اٹھا یا ہے۔یا پھر یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے آقاْ ۱۴ سو سال پہلے ہما رے زما نہ کا یو نہی مشاہدہ فر ما رہے تھے جیسے اس دور کا انسان اپنی آنکھوں سے کر رہا ہے،اور پھر ہمیں دیکھیئے کہ ہم آقاکے علم پہ لڑتے ہیں۔داعش کی بتا ئی گئی نشا نیوں کے حوالے سے یہ تقریر انتہائی اہمیت کی حا مل ہے اسے اس قوم کے ہر بندے کو ضرور سننا چاہئے۔ایک مبلغ ہو نے کی حیثیت سے ڈاکٹر صا حب نے اپنا فرض نبھایا اور قوم کے سر کر دہ لوگوں سے لے کر عام عوام تک داعش کی حقیقت پہنچا دی ،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب اس گمراہ کن جماعت کا اگلا ہدف پا کستان ہے۔اب یہ ہم لوگوں کا فرض ہے کہ داعش کے گمراہ کن فتنے کے حملے سے اپنے ملک کو کیسے بچانا ہے ا ور اس کے لئے ہم اپنی سطح پر کیسے کام کرتے ہیں۔

حصہ