فتح مکہ ۔۔دنیا ئے عالم کاعظیم اور پر امن انقلاب . تحریر. عروہ نیازی
دنیا ئے عالم کے موء رخ مصطفوی انقلاب کے علاوہ کسی دوسرے پر امن اور ہمہ جہت انقلاب کا نام لینے سے قاصر ہیں۔انقلاب فرانس،برطانیہ اور روس نہ تو پر امن انقلاب ہیں اور نہ ہی یہ انقلاب دائمی ہیں۔یہ تمام انقلابات جزوی اور وقتی تھے۔یہ انقلاب بر پا ہوئے تو صرف سیاسی اور معاشی تبدیلیاں ظہور پذیر ہو ئیں لیکن حضور ْ ْْْصلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انقلاب رحمت صحیح معنوں میں انقلاب تھا جو انسانی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلیوں کا با عث بنااور جس کے ثمرات سے بنی نوع انسان رہتی دنیا تک فیض یاب ہو تی رہے گی۔یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے روتے ہو ؤں کو خوشی بخشی،غلاموں کو آزادی بخشی،انسانی سوچ کو انقلاب بخشااور طہارت پا کیزگی اور تقویٰ بخشا۔
دور جا ہلیت میں ہر طرف جہالت کا دور دورہ تھا،کہیں گھوڑ�آگے دوڑانے پہ جھگڑا تھا تو کہیں پانی پینے پلانے کا جھگڑا تھا۔کہیں انسانیت سوز ظلم کی انتہا تھی ،بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج عام تھا،ایسے میں قدرت کی رحمت ایسی جوش میں آئی کہ ن مظلوموں کی آ س بنا کر رحمت للعالمین کو بھیج دیا۔یوں مسلسل جدوجہد کے بعد سر زمین مکہ کو مصطفوی انقلاب دیکھنے کو ملا،وہ انقلاب کہ جس کی کامیا بی پر دنیا ورطہ حیرت میں تھی،جس دن کفر پر اسلام کو غلبہ ملا اس دن عام معافی کا اعلان کر دیا گیا،خون کے پیاسوں کو معاف کر دیا گیا۔اگر اس انقلا بی لشکر کے سپہ سالار چا ہتے تو ساری عمر ان کو دکھ دینے والوں ،ان کے انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں سے بھر پور بدلہ لے سکتے تھے لیکن انہوں سب کو معاف کر دیا،اسلامی عساکر کے رہنما ؤں کو حکم ملا کہ عورتوں ،بوڑھوں اور بچوں پر ہا تھ نہ اٹھا یا جا ئے۔حضور رحمت نے یوں دائمی امن کی بنیاد رکھی۔یہ انقلاب کو ئی خونی انقلاب نہیں تھا۔تصادم اور معرکے ضرور ہو ئے تھے لیکن ان میں ہو نے والا جا نی و مالی نقصان دوسرے انقلابات کے مقابلے میں نہ ہو نے کے برابر تھاجبکہ مذکورہ انقلابات میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے،کروڑوں کی املاک تباہ ہو ئیں۔اگر فتح مکہ کو دیکھا جائے تو آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس مو قع پر بہترین جنگی حکمت عملیوں سے کام لیا،مکہ سے با ہر حکم دیا گیا کہ ہر بندہ اپنی اپنی الگ آگ جلائے ،اگر غور کیا جا ئے تو یہ ایک بہترین حکمت عملی تھی۔2000لوگوں پر مشتمل اس لشکر کے ایک ایک آدمی نے جب اپنی الگ الگ آگ جلائی تو دشمن کی ہمت رات میں دور سے نظر آتی اس 2000 جگہوں پر جلی آ گ کو دیکھتے ہی جواب دے گئی۔کیونکہ عام طور پہ ایک جگہ جلا ئی گئی آ گ کے آ س پاس تقریباََ10لوگ مو جود ہو تے ہیں۔اگر ایک جگہ جلی آ گ کے گرد 10 بندوں کے بیٹھنے کا سوچا جائے تو یہ عدد بہت بڑھ جا تا ہے۔یہی وجہ تھی کہ دشمن کی ہمت جواب دے گئی اور مکہ والوں کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کا پیغام آگیا اور صبح مسلمان فاتح بن کے مکہ میں داخل ہو ئے،وہ سولہ رمضان کا دن تھا،اور یوں کفر پر اسلام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غالب آگیا۔اسلام دین سرا پا ء امن ہے ، رحمت اور سلامتی ہے۔مسلمان نہ تو پہلے جنگجو تھے نہ اب ہیں بلکہ اگر تا ریخ کو اٹھا کر دیکھا جا ئے تو افریقہ سے یورپ اور ایشیا تک جہاں جہاں اسلامی حکومتیں قائم ہو ئیں تو انہوں نے سب سے پہلے وہاں امن قائم کیا امن کا قیام تب ممکن ہے جب معاشرے میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو ،یوں ہر اسلامی ریاست میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے پر شدید زور دیا گیاچنانچہ حاکمان وقت تک عام آدمیوں کی طرح عدا لتوں میں پیش ہو تے رہے۔مشرقین کے بے بنیاد الزامات میں کو ئی وزن نہیں،اس کی ایک زندہ مثال سندھ فتح کرنے والا نوجوان محمد بن قاسم ہے ۔جن کے سندھ سے جانے کے بعد ہندو کئی سالوں تک ان کی مورتیاں بنا کر ان کے عدل و انصاف کی بدولت پوجتے رہے۔آج پاکستان میں بھی ایک جماعت ایسی ہے جو مصطفوی انقلاب کا نعرہ لگاتی ہے،پر امن انقلاب کو اپنا شعار کہتی ہے۔وہ اپنے اس انقلاب میں کامیاب ہو پا تے ہیں یا نہیں یہ تو نہیں معلوم لیکن ان کے پر امن ہونے کو ماننے کے لئے سانحہ ما ڈل ٹا ؤن کا واقعہ ہی کا فی ہے ،جب سارا دن ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جاتے رہے تب ان کے پاس گارڈ بھی موجود تھے،جو لاسنس شدہ اسلحہ رکھتے تھے لیکن اس کے با وجود ان کی طرف سے ایک گولی نہیں چلی،انہوں نے اپنے 14شہید کروا دئے 90کو گولیوں سے چھلنی ہو تا دیکھتے رہے،لیکن صبر و ہمت کی چٹان بن کر خا لی ہاتھ ڈٹے رہے۔اور اب تک پر امن طریقے سے اپنا انصاف مانگ رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں انصاف ملتا بھی ہے کہ نہیں۔

حصہ