عنوان ۔۔۔تکمیل عشق
تحریر ۔۔۔ عروہ نیازی (میانوالی ۔۔پاکستان)
بینر ۔۔۔۔ محمدزبیرپنوارقادری
“دلہن سا رے ہنگا مے چھوڑ کے یہاں کیوں مو جود ہے۔”
“جب دل میں ہنگا مہ مچا ہو بابا جی تو باہر کے ہنگا مے کوئی معنی نہیں رکھتے
“ہنگا موں والے دلوں کو اپنے ہنگامے چھپا کے دنیا والوں کا ساتھ دینا پڑتا ہے”
“کو ئی نہ چھپا سکے تو؟”
“تو یاد رکھو وہ منصور کی طرح سولی پہ چڑ ہا دیا جاتا ہے”
“میرے اور منصور کے ہنگامے میں بہت فرق ہے بابا جی کہاں وہ کہاں میں”
“آپ کی اور منصور کی سولی میں بھی بہت فرق ہے بیٹا”
“میں سمجھی نہیں بابا جی”
“تم بیٹی ہو اور پھر دلہن ہو۔یہ سمجھ لو،تمہاری سولی تمہیں خود معلوم ہو جائے گی”
“کیا کروں کچھ سوال سونے نہیں دیتے،زیادہ دیر تک دبا ئے تو لگتا ہے میرا دم گھٹ جا ئے گا”
“کیسے سوال”
“عشق کی راہ کی مسا فر میں ٹھہری اور منزل کسی اور کے حصے میں آئی؟”
“مکہ سے ہجرت کے وقت آقا ﷺ نے کو ئی فر ما یا تھا ؟ نبی میں عشق کی راہ کا مسا فر میں اور مکہ پر قبٖضہ ابو لہب و ابوجہل کا؟؟”
“آقاﷺ کو تو فا تح بننا تھا وہاں کا؟”
“تمہیں کیا معلوم تمہا ری قسمت میں بھی فتح ہی لکھی ہو”
“میں کیسے مان لوں؟”
“ما ننا پڑے گا، عشق والوں کو اندھا یقین کرنا پڑتا ہے ورنہ کچھ ہاتھ نہیں آتا”
“میں اپنا حق سونپ چکی کسی اور کو اب کیا ہو سکتا ہے؟”
“عشق والوں کے واستے وہاں سے نکلتے ہیں جہاں کو ئی را ستہ نہ بچے”
“میں کیسے یقین کر لوں”
“جب آگ سے بچنے کے راستے ختم ہو تے ہیں تو وہ فرما تا ہے “قلنا یا نا ر کو نی بر د و سلا م علی ابرا ھیم”
جب بچے کی پیاس بر داشت سے باہر ہوتی ہے تو چشمہ جا ری ہو تا ہے۔
چھری کے نیچے بیٹا آتا ہے تو بکرا بھیجا جا تا ہے۔
منصور سولی پہ چڑھتا ہے تو سمندر کی لہروں بھی انا الحق کی آوازیں دیتی ہیں۔
بو لو کو ئی ایسی مثال ہے آپ کی زندگی میں”
“نہیں”
“تو پھر انتظار کرو۔”
“کس کا”
“اپنے عشق کی تکمیل کا”
“پھر کیا ہو گا؟”
“ہو جائے گی تمہاری طلب پو ریِ، بن جا ئو گی مسافر مدینے کی”
“مجھے مدینہ کا مسافر نہیں مدینہ کا بننا ہے”
“مدینہ کا بننے کے لئے مدینہ میں ہو نا ضروری نہیں ہو تا”
“پر مجھے جانا ہے وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے”
“تو پھر کہا نا انتظار کرو”
“اس نے تو انتظار نہیں کیا تھا۔اس نے تو کو ئی مدینے کا رہا ئشی مانگا بھی نہیں تھا اسے کیوں مل گیا؟”
“وہ اس کی قسمت میں تھا تو جانتی ہے،تجھ سے نہیں چھینا اس نے”
“تو میری قسمت میں کیوں نہیں تھا کو ئی؟”
“جو تیری قسمت میں تھا وہ تجھے مل گیا”
” تو پھر میری دعائیں کہاں گئیں”
“میرا بیٹا تو عشق والی ہے۔وہ قسمت والی تھی،عشق والوں کی قسمت وہاں سے بنتی ہے جہاں سارے راستے ختم ہو جائیں پہلے بھی کہ چکا ہوں”
“تو پھر کیا کروں”
“کہا نہ انتظا ر،پھر تجھے کسی مرد کا سہا را بھی نہ لینا پڑے شائد”
“کیسے ہو گی عشق کی تکمیل”
“قربا نی سے؟”
“قربانیِ کیسی قربانی”
“جیسی عا شقوں نے دی ہمیشہ،
کبھی آگ میں کود کر تو کبھی کو ئی رشتہ دے کر”
“رشتہ دے کرِ”
“ہاں”
“تمہیں معلوم ہے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
شہادت
اسی لمحے میرے ذہن میں انسپکٹر اولیاء کی آواز گونجی،جن کے نکاح میں آئے مجھے صرف 3 گھنٹے ہو ئے تھے۔اور پھر میرے زہن میں چار الفاظ کی گردش تھی۔
عشق،تکمیل،شہادت،قربانی۔۔۔

حصہ