تو بادشاہے دو عالم کی ایک شہزادی
میں اک غریب تیری گرد راہ یا زھرا
خدا کو میں نے صدا لا شریک مانا ہے
خدا کے سامنے رہنا گواہ یا زھرا
ملے جو اسکی اجازت مجھے شریعت سے
تو تیرا در ہو میری سجدہ گاہ ہو یا زھرا
ہیں جن کے نور سے امت کے روزو شب روشن
حسن حسین تیرے مہرو مہ یا زھرا
تیرے حسین کا کردار دیکھ کر اب تک
پکارتے ہیں ملک واہ واہ یا زھرا
درود تجھ پے ہو بمصداق بضعة منی
سلام تجھ پے ہو گیتی پناہ یا زھرا
ہیں تیری آل سے پیران پیر محی الدیں
جو اولیا کے ہوئے سربراہ یا زھرا
بھروں تو کیسے بھروں دم تیری غلامی کا
بہت بڑی ہے تیری بارگاہ یا زھرا
کہاں تو ایک نجیبہ عفیفہ پاک نظر
کہاں میں ایک اسیر گناہ یا زھرا
اجڑ چکا ہوں غم زندگی کے ہاتھوں سے
کھڑا ہوں در پہ بحال تباہ یا زھرا
ہوں معصیت کی سیاہی ملے ہوے منہ پر
کسےدکھاؤں یہ روۓ سیاہ یا زھرا
میں گو برا ہوں مگر تیرا وہ گھرانہ ہے
کیا ابروں سے بھی جس نے نبھا یا زھرا
بھری ہیں در سے ہزاروں نے جھولیاں اپنی
میری طرف بھی کرم کی نگاہ یا زھرا
نہ پھیر آج مجھے اپنے در سے تو خالی
کہ تیرے بابا ہیں شاہوں کے شاہ یا زھرا
جیو تو لے کے جیو تیری دولت نسبت
مروں تو لے کے مروں تیری چاہ یا زھرا
قدم بہ کلبہء ما گرنہیز روۓ کرم
کنیم دیدہ و دل فرش راہ یا زھرا
بروز حشر نہ پرسا ہو جب کوئی اسکا
ملے نصیر کو تیری پناہ یا زھرا
کلام حضرت الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیر کیلانی رحمتہ اللہ تعالی علیہ گولڑہ شریف

حصہ