بدترین سود مسلمان کی آبروریزی تحریر: سہیل احمد اعظمی
آجکل خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جو الفاظ ڈاکٹر شیریں مزاری کے بارے میں ادا کئے ، کے باعث شدید تنقید کا شکار ہیں گو کہ انہوں نے معافی مانگ لی ہے لیکن PTIاور دیگر جماعتوں جن میں پی پی پی بھی شامل ہے کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہورہا۔ ویسے ہماری رائے میں کسی بھی انسان کی ساخت اور آواز کو غلط ناموں سے منسوب کرنا یا اسکا مذاق بنانا ، ڈائریکٹ اللہ تعالی کی ذات پر نعوذ باللہ تنقید کرنا ہے کیوں کہ انسانیت کی تخلیق اللہ نے کی ، اللہ نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا کسی کو خوبصورت او رکسی کو بدصورت، کسی کی آواز پتلی اور کسی موٹی، کسی کو کالا اور کسی کو گورا بنایا۔ اگر ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑائیں گے تو گناہ کے مرتکب ہوں گے۔ ہمارے مذہب میں تو کسی کو بے پرد کرنے کو گناہ کبیرہ بتایا گیاہے چہ جائیکہ ہم اشرف المخلوقات کی تذہیق کریں۔ ہمار امذہب ہمیں اچھے اور اعلی اخلاق کا درس دیتاہے۔ حدیث پاک ؐ کے مفہوم کے مطابق ہمیں بزرگوں، بڑوں، والدین، بچوں کے ساتھ اچھا سلوک اور اخلاق سے پیش آنا چاہئے۔ میرے نبی ؐ کے فرمان کے مطابق جو ایسا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور ان کی ایک اور ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں سب سے وزنی چیز بندے کے اعلی اخلاق ہوں گے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں اعلی اخلاق، مہما ن نوازی، اکرام مسلم آہستہ آہستہ ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ ہمیں تو ہمارے نبیؐ نے جانوروں کیساتھ بھی اچھے طریقے سے پیش آنے ، ان کے کھانے پینے کا دھیان رکھنے کا حکم دیاہے لیکن ہمارا سلوک جانور تو دور کی بات انسانوں تک سے بہتر نہ ہوگا تو ہم سراسر گھاٹے میں ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے تو جیسے ایکدوسرے کو برا بھلا کہنے، گالیاں دینے، خامیاں تلاش کرنے کا ٹھیکہ لے رکھاہے۔ سارے دن ہم الیکٹرانک پرنٹ میڈیا پر یہی کچھ سنتے اور پڑھتے ہیں ہمارے پروگراموں کی ریٹنگ بھی اس بنیاد پر ہورہی ہے کہ کون کس کی زیادہ پگڑی اچھالتاہے یا کون زیادہ چکنی چپٹی باتیں ، نمک مرچ لگاکر کہنے کا فن جانتاہے۔ سارے دن ہمارے سیاستدان الیکٹرانک چینلز پر ایک دوسرے پر تبرا کرنے میں مصروف رہتے ہیں اگر کسی پروگرام میں دو جماعتوں کے مہمانوں میں جھگڑا ہوجائے تو وہ پروگرام باقاعدہ فیس بک پر چلایاجاتاہے صرف مزہ لینے اوراپنے چینل کی مشہوری کیلئے۔یعنی سب کچھ بقول شیخ رشید کے کمپنی کی مشہوری کیلئے ہورہاہے۔ ہماری اسمبلیوں میں براجمان نمائندہ افراد جنہیں لوگ اپنے مسائل کے حل اور قانون سازی کیلئے (ایسے قانون جو عوام کی بہتری کیلئے ہوں) منتخب کرتے ہیں۔ اپنا اکثر وقت بے مقصد کی بحث ، گالم گلوچ اور واک آؤٹ میں گزار دیتے ہیں۔ ہاں اگر اپنی تنخواہوں ، الاؤنس ، مراعات کو بڑھانے کا معاملہ ہو تو تمام سیاسی جماعتیں بشمول مذہبی جماعتیں (جو عوام کو کفایت شعاری، سادگی) کا درس دیتی ہیں ، فورا متحد یک جاء ہوجاتی ہیں لیکن عوام کے مسائل جن میں صحت، تعلیم، بجلی، گیس، پینے کا صاف پانی، آمدروفت کے بہتر وسائل قابل ذکر ہیں، پر ان کی کوئی توجہ نہیں ہوگی۔ اگر ہماری اسمبلیوں کی کارکردگی ایسی ہی رہی تو عوام کا اعتماد جو پہلے ہی متزلزل ہے، بالکل ختم ہوجائیگا۔ فضول کی بحث اور تنقید سے ہمارے ممبران کو گریز کرنا چاہئے۔ خاص کر ہمیں زبان کے استعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ایک حدیث پاک ؐ کے مطابق زبان سے انسان بعض اوقات ایسے بول بول دیتاہے کہ وہ اسے جہنم کے آخری گڑھے میں پھینک دیتی ہے اور بعض اوقات ایسے بول بولتاہے کہ وہ اسے جنت کے اعلی درجوں پہ پہنچادیتی ہے۔ ایک صحابیؓ نے حضور ؐ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ میری قوم کا ایک شخص ہے مجھے گالیاں دیتا ہے حالانہ وہ مجھ سے کم درجہ کا ہے ، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ آپ ؐ نے فرمایا آپس میں گالم گلوچ کرنے والے دو شخص شیطان ہیں جو آپس میں فحش گوئی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو جھوٹا کہتے ہیں۔ حضرت براء بن عاذب حضور ؐ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ بدترین سود اپنے مسلمان بھائی کی آبروریزی کرناہے یعنی اسکی عزت کو نقصان پہنچاناہے۔ چاہے وہ کسی طریقے سے ہو مثلا غیبت کرنا، حقیر سمجھنا، رسوا کرنا وغیرہ ۔ حضرت ابو ھریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ گناہ کبیرہ میں سے ایک بڑا گناہ مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ کرناہے۔ مذکورہ احادیث کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے نہ صرف عوامی نمائندہ بلکہ اہل قلم و دیگر عوام بھی اس گناہ کبیرہ میں مبتلا ہیں۔ ہم کسی کی آبروریزی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مرچ مصالحہ کا تڑکا لگاکر اسے بیان کرتے ہیں۔ ہمارے ایسے رویوں کے باعث معاشرے میں محبت، اخوت، بھائی چارے کی فضاء کی بجائے نفرت، بغض، کینہ ، قطع رحمی، قومیت، نسل پرستی، قتل و غارت، لڑائی جھگڑے، دنگا فساد کی فضاء عام ہورہی ہے۔ جو فضاء ہماری اسمبلیوں سے شروع ہوکر ہمارے گھروں، بازاروں، کھیل کے میدانوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں تک پھیل گئی ہے۔ جو ہمارے ملک کیلئے دہشت گردی سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہئے اور صلح رحمی اور میٹھی زبان میں بات کرنی چاہئے۔ ہماری زبان ، ہاتھ سے کسی کو تکلیف پہنچنے کی بجائے فائدہ ملنا چاہئے۔ ہمارا دین پھیلا ہے اعلی اور اچھے اخلاق کے باعث۔ بدقسمتی سے جن اعلی اخلاق کا درس ہمارا دین ہمیں دیتاہے ہم آئے دن اس سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ہم سلام کرنے میں پہل کریں ۔ میرے نبی ؐ توکم عمر بچوں کو بھی سلام کرتے تھے ہم تو جاننے والوں کو بھی سلام نہیں کرتے۔ حالانکہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ صرف جاننے والوں کو سلام کریں گے۔ پڑوسی، والدین، اولاد، عوام ، بیوی، غلام ، نوکر ، غیر مسلم سب کے حقوق کے سلسلے میں ہم اور ہماری حکومتیں جوابدہ ہیں۔ اگر ہم اور ہمارے حکمران ایک دوسرے پر بے جا تنقید اور کیچڑ اچھالنے کی بجائے ایک دوسرے کی اچھائی دیکھیں اور بیان کریں تو اس سے ایک تو نفرتیں کم ہوگی اور اچھائیوں کے کام کرنے کی رغبت بھی ملے گی۔

حصہ