اللہ کی رحمت سے مایوسی کیوں
تحریر . عالیہ جمشید خاکوانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسی علیہ سلام کو اللہ تعالےٰ نے حکم دیا کہ ’’ سمندر کی طرف جاؤ وہاں تین کشتیاں ڈوبنے والی ہیں ‘‘ حضرت موسیٰ علیہ سلام فوری حکم الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے سمندر پر پہنچ گئے ساحل پر سکون تھا دور ایک کشتی آتی ہوئی نظر آئی جو آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی ابھی وہ کنارے سے کچھ ہی فاصلے پر تھے کہ موسیٰ علیہ سلام نے انہیں آواز دی ’’ اے کشتی والو اللہ کا حکم آنے والا ہے محتاط رہنا ‘‘انہوں نے جواب دیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا ہم تو اس کے بندے ہیں حکم الٰہی کے پابند ہیں کشتی والے یہ بات کر ہی رہے تھے کہ اچانک ایک موج اٹھی اور کشتی ڈولنے لگی سوار اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنے لگے اتنے میں ایک اور زبردست موج آئی اور کشتی کو اپنے ساتھ بہا کر سمندر کی تہہ میں لے گئی تھوڑی دیر میں ایک اور کشتی نظر آئی تو موسٰی علیہ سلام نے انہیں بھی خبردار کیا اور کہا’’ ذرا محتاط ہو کر آ نا ‘‘انہوں نے بھی پہلے والوں کی طرح جواب دیا کہ ’’ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا ‘‘ اور کشتی کو کنارے کی طرف لانے لگے یہاں تک کہ ساحل کے قریب آتے آتے یہ کشتی بھی ڈوب گئی حضرت موسٰی علیہ سلام اللہ تعالٰے کی حکمت کے بارے میں سوچوں میں محو تھے کہ ایک تیسری کشتی آتی دکھائی دی آپ نے حسب سابق اس کشتی والوں کو بھی نصیحت کی کہ ’’ دیکھو اللہ کا حکم آنے والا ہے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے ذرا محتاط ہو کر آنا ‘‘انہوں نے جواب میں کہا اے اللہ کے نبی جس طرح آپ سچے ہیں اس طرح اللہ کا حکم بھی اٹل ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا لیکن اللہ کی رحمت بھی تو ہے ہم اس کی رحمت سے کیوں مایوس ہوں لہذا ہم اللہ کی رحمت پر بھروسہ کر کے آ رہے ہیں اور وہ اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ضرور امن اور سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچائے گا کشتی والوں کا یہ جواب سن کر حضرت موسٰی علیہ سلام خاموش ہو گئے جب کشتی باحفاظت کنارے آن لگی تو اللہ کے پیغمبر سوچنے لگے کہ اللہ نے تین کشتیاں ڈوبنے کا فرمایا تھا دو تو ڈوب گئیں لیکن یہ تیسری سلامتی کے ساتھ کنارے آن لگی یہ کیسے بچ گئی ؟ارشاد باری تعالٰی ہوا کہ ’’ اے موسٰی! آپ نے سنا نہیں کہ تیسری کشتی والوں نے کیا کہا تھا؟انہوں نے میرے حکم کو تسلیم کیا تھا میری رحمت کو آواز دی تھی اور اس پر پورا توکل اور بھروسہ بھی کیا تھا تو اس لیے یہ کشتی میری رحمت کے طفیل بچ گئی جو بھی میری رحمت کے دروازے پر آ کے صدا دیتا ہے میں اسے نا امید نہیں کرتا ۔۔۔۔آج ہم ایک ناامید اور مایوس قوم اس لیے ہیں کہ ہم نے اپنی ڈور اللہ کے نہیں میڈیا کے ہاتھ میں تھما دی ہے وہ ہمیں جس طرف چاہے موڑ دیتا ہے نہ ہمیں عدلیہ پہ یقین ہے نہ آرمی پہ بھروسہ نہ اللہ پہ توکل یہ ایک ایسی صورت حال ہے جو ہمیں کفر تک لے گئی ہے بے شک ہمارے حکمران بھی اس صورت حال کے زمہ دار ہیں کہ انہوں نے ایک مسلمان کا کردار ادا نہیں کیا ایک مسلمان جب کوئی وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن وہ اپنے ضمیر اور عوام کو مطمعن کرنے کی بجائے میڈیا پر جھوٹے بیان دیتے رہے حتی کہ اپنا اعتبار کھو بیٹھے یہ حال اپنی ذاتی تلاشی کا بھی کیا کہ جو بیان اسمبلی میں دیے جو قوم سے خطاب میں دیے جو ان کے ہر حامی قوامی نے میڈیا پر دیے ان سب سے یہ کہہ کر مکر گئے کہ یہ تو سیاسی بیان تھے عمران خان کو یو ٹرن کہا جاتا ہے حالانکہ اس نے اکیس سال پہلے جو کہا تھا وہ آج بھی اس پر قائم ہے اس نے حسب توفیق اپنے صوبے کو جہاں اس کی پارٹی کی حکومت ہے اس کو بھی بدلنے کی کوشش کی ہے اس نے اربوں روپے میڈیا کو کھلا کر اپنی پبلسٹی کروانے کی بجائے انہی اربوں روپوں سے ترقیاتی کام کروائے ہیں اور یہ کام بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا کے تھرو نظر بھی آ رہے ہیں ،اس کے برعکس سندھ اور پنجاب کے حکمرانوں نے عوام کو اس قدر ریلیف نہیں دیا جتنے کہ دعوے کیے گئے یہی وجہ ہے عوام کی مایوسی اور بد گمانی کی ،اب وہ ہر بات میں بدگماں ہیں وہ سمجھتے ہیں میاں برادران کے ہوتے ہوئے نہ تو لوڈ شیڈنگ ختم ہو گی نہ انہیں انصاف ملے گا نہ روزگار ملے گا سو ہم بھی جتنا لوٹ سکتے ہیں لوٹ لیں کماؤ کھاؤ موج کرو اس سے آگے کچھ نہیں یقیناعدلیہ سے بھی کچھ فیصلے ایسے ہوئے ہیں
جو عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں تھے لیکن ہمیں اب عدلیہ پہ اعتبار کرنا ہو گ�آخر جو حکم ربی ہو گا ہو گا تو وہی لیکن ہم اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر کفر کا ثبوت دے رہے ہیں ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ مجرم کو ہر حال میں سزا ملتی ہے یہاں نہ سہی وہاں مل جائے گی تو ہم اللہ کی رحمت سے مایوس کیوں ہیں ؟

حصہ