آسان شکاراور موت کی سزا ………….. عالیہ جمشید خاکوانی
میں گاڑی میں بیٹھی تھی جب میں نے ایک بوڑھی بھکارن کو ایک گاڑی میں بیٹھے شخص سے باتیں کرتے دیکھا وہ کافی دیر سے کھڑی تھی میں سوچنے لگی کتنی دیر سے وہ مانگ رہی ہے شائد وہ بھیک دینا نہیں چاہ رہا اچانک وہ مجھے اپنی طرف آتی دکھائی دی چلو اب میرے سر پہ آ رہی ہے وہ حسب توقع آئی اور شیشہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا میں نے شیشہ نیچے کر کے پوچھا وہاں سے کچھ نہیں ملاکیا ؟کہنے لگی ’’مویا میکوں آکھدے عمرہ کرا ڈیندا تیکوں میڈے نال چل ڈھا روپے تاں نکلدے نئیں عمرہ کرویسی شودا(مجھے کہتا ہے تجھے عمرہ کرا دونگا میرے ساتھ چل دس روپے تو نکلے نہیں بے چارہ عمرہ کروائے گا)اچھا مجھے بڑی حیرت ہوئی میں نے کہا ہو سکتا ہے اپنے کسی فوت شدہ عزیز کی طرف سے ثواب کمانا چاہ رہا ہو تمہیں عمرہ کروا کے وہ عورت میری بات سمجھی یا نہیں مجھ سے دس روپے لے کر چلی گئی ابھی کل ہی میں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جو میں نے اپنی وال پر شیئر بھی کی اس میں لکھا تھا کہ ایک گروح سادہ لوح عورتوں کومفت عمرے کا لالچ دے کر سمگلنگ کا مال تھما دیتا ہے یہ عورتیں پاکستانی ایرپورٹس سے تو باآسانی نکل آتی ہیں کیونکہ ادھر رشوت دے کر ہر کام ہو جاتا ہے مگر سعودی ایرپورٹس پر یہ پکڑی جاتی ہیں جہاں جیل اور سزئے موت ان کا مقدر بنتی ہے لہذا خواتین کو ان سے ہوشیار رہنا چاہیے تو یہ ہے وہ ٹریپ اور اس کا سب سے آسان ہدف یہ بھکاری عورتیں بنتی ہیں بیشتر کا تعلق دیہاتوں سے ہوتا ہے جن سے یہ صبح سویرے نکلتی ہیں اور گروہ کے گروہ قریبی شہروں میں پھیل جاتی ہیں بازاروں ،ہسپتالوں،دکانوں،پارکوں ر یسٹورانوں تک کوئی ایسی جگہ نہیں بچتی جہاں یہ موجود نہ ہوں حتی کہ گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر بھیک مانگتی ہیں جنوبی پنجاب تو اب ان کا گڑھ بن چکا ہے سارا دن بھیک مانگ کر مغرب کے بعد واپسی کی راہ لیتی ہیں خصوصاً جمعرات اور جمعہ کو تو ان کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر جاتی ہے کیونکہ زراعت کی تباہی کے ساتھ ساتھ بھکاریوں کی تعداد ہمارے علاقوں میں بڑھتی جا رہی ہے اور جرائم بھی اسی تناسب سے بڑھ رہے ہیں کیونکہ گھروں سے نکلنے والی یہ عورتیں صرف بھیک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ چوری چکاری اور دیگر اخلاقی جرائم میں بھی ملوث ہو جاتی ہیں یہ حال تو ناخواندہ عورتوں کا ہے پڑھی لکھی نوجوان لڑکیاں ایک اور انداز میں باہر بھیجی جاتی ہیں کچھ عرصہ پہلے ایک رپورٹ اخباروں میں بھی چھپی تھی کہ لڑکیوں کو نرسز بھرتی کر کے مشرق وسطی کے ممالک لے جایا جاتا ہے جہاں ان سے مخصوص ڈیروں پر جسم فروشی کرائی جاتی ہے مجھے دبئی ایرپورٹ کے ایک ملازم نے میل بھیجی تھی کہ آپ اس پر لکھیں ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں جب ہم دیکھتے ہیں تقریباًہر فلائٹ میں نوجوان لڑکیاں لائی جاتی ہیں اور پھر یہاں ان سے کیا کام لیا جاتا ہے اس طرح بیرون ممالک پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے سعودی جیلوں میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے جن میں عورتیں مرد بچے سب شامل ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں حتی کہ ہمارا سفارت خانہ بھی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ سعودی قوانین بہت سخت ہیں جن سے سعودی شاہی خاندان بھی نہیں بچ سکتے حال ہی میں ایک نوجوان سعودی شہزادے کا دوست کے حادثاتی قتل پر سر قلم کیے جانا ایک زندہ مثال ہے یاد رہے سعودی عرب کے ایرپورٹس جن میں نہ صرف جدہ،مکہ،مدینہ بلکہ دمام اور ریاض تک کے ایرپورٹس پربڑی سخت چیکنگ ہوتی ہے اور رنگے ہاتھوں پکڑے جانا آپ کو موت سے نہیں بچا سکتا یہاں ہر التجا بیکار جاتی ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ واقعی بے گناہ ہوتے ہیں ان کو پتہ بھی نہیں چلتا اور ان کے سامان میں کوئی غیر قانونی اشیا شامل کر دی جاتی ہیں یا کوئی معصوم صورت بنا کے آپ کے پاس آئے گا میں بہت مجبور ہوں یہ میرا پارسل یا بریف کیس یا لفافہ (کچھ بھی ہو سکتا ہے)آپ انے ساتھ لے جائیں ایرپورٹ پر میرا بھائی یا ساتھی آ کر آپ سے لے لے گا یہ بہت خطرناک کام ہے پاکستان سے بھلے نکل جائیں مگر سعودی ایرپورٹس پر جدید ترین آلات سے لیس اہلکار آپکو نکلنے نہیں دیں گے جبکہ سکیننگ میں بھی ہر چیز نظر آ جاتی ہے خصوصاً پاکستانیوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سعودیہ میں پکڑے جانے کی صورت میں سزائے موت سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ویسے تو کئی اور ممالک بھی ہیں جہاں منشیات لے جانے کی سخت ترین سزائیں ہیں ان میں امریکہ،چین،ملائشیا،ایران وغیرہ شامل ہیں جہاں پکڑے جانے کی صورت میں طویل المدتی قید بھاری جرمانہ اور سزائے موت بھی ہو سکتی ہے منشیات اور سمگلنگ کا سامان آپکے سامان سے برامد ہو گیا چاہے آپ کو علم ہو نہ ہو بس اس کے بعد بچت کی کوئی صورت نہیں درجنوں پاکستانیوں کو اب تک سزائے موت ہو چکی ہے اور درجنوں جیلوں میں بند سزائے موت کے منتظر ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت پاکستان اخباروں میں اشتہارات کے ذریعے اپنی شکلیں چھپوانے کی بجائے ایک آگہی مہم شروع کرے جس میں لوگوں کو ان ممنوعہ اشیا کے بارے میں آگہی دی جائے جن کا لے جانا ممنوع ہے کیونہکہ خشخاش تک بھی لے جانا ممنوع ہے اور لوگ لا علمی میں اپنی بعض ادویات لے جاتے ہیں جن میں زینیٹکس،کیپٹی کون اور دیگر نشہ آور ادویات شامل ہیں دبئی میں خاص طور پر خیال رکھنے کی ضرورت ہے جہاں متعد ایسی دوائیں ہیں جو دنیا کے بیشتر ممالک میں لے جائی جا سکتی ہیں لیکن دبئی میں ان کے لے جانے پر سخت سزا ہے ایسی چیزوں کی آگہی دینا حکومت وقت کا فرض ہے حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ایرپورٹس کا عملہ مستعد،دیانت دار اور امانت دار ہونا چاہیے تاکہ یہاں سے ہی ممنوعہ اشیا کا باہر جانا ناممکن بنایا جا سکے اور پاکستانی بھی جرم اور سزا سے بچ جائیں ملک بھی بدنام نہ ہو سعودیہ میں کئی افغانیوں کے سر قلم ہوئے ہیں جو منشیات لے جاتے پکڑے گئے اور پاکستانی پاسپورٹ کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوئی ان تمام امور کی سختی سے نگرانی کی جائے کیونکہ اس وقت پاکستانی پاسپورٹ سب سے زیادہ مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستانی حکومتیں ان باتوں کی طرف سنجیدگی سے کوئی توجہ نہیں دے رہیں جو کہ ایک المیے سے کم نہیں!

حصہ