بالحق عنایت عادل
چاند میری زمیں۔۔ نئی نسل سے شرمندگی کے ساتھ
________________________________

بچپن میں ہر نظارہ خوشیوں سے بھرپور اور ہر آواز مسرتوں سے لبریز ہوا کرتی ہے۔ ان نظاروں اور ان آوازوں میں اگر کوئی دکھ یا کوئی ڈر اگر در انداز ہو بھی جائے تو اس کی زندگی چند لمحوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اپنے اور بیگانے کی تمیز کے بغیر، کسی بھی بڑے کا دلاسہ اس دکھ اور خوف کو یکسر بھلا دینے کا ہنر صرف کسی بچے کے معصوم دور ہی میں کمال رکھ سکتا ہے۔ اور اگر یہ دلاسہ ماں کی گود یا باپ کے سینے کی تپش لئے ہوئے ہو تو پھر کیسا دکھ، کیسا خوف۔ نیلی کوٹھی میں ہم عمروں کے ساتھ کھیل تماشے میرا ہی نہیں، میرے ان ہم عمروں کا سرمایہ ضرور ہونگے۔
انہی کھیل تماشوں کے درمیان کتنے ہی مواقع آئے کہ دکھ ، اور خوف اس قدر ہیبتناک طریقے سے محسوس ہوا کہ لگتا تھا کہ آج کی شام، بس آخری ہی ہو گی۔ ابا جی ، اور بڑے بھائیوں کے ڈر سے چند منٹوں کا فاصلہ جان بوجھ کر صرف اس لئے لمبا کر لیتے کہ جیسے زندگی سے چند لمحے مزید مانگ رہے ہوں۔ مگر موت اس خوف کا ہی مقدر بن جاتی کہ جب گھر دیر سے پہنچنے اور شام کی نماز قضا ہونے کے احتمال سے ابا جی ، غصے سے ہی سہی، جلدی سے وضو بنانے کا حکم صادر فرما دیتے۔ بس، تمام عمر مرحوم کو ہم سے یہی ایک لالچ رہا۔ اور یاد ہے کہ جب جب ہم نے ان کی یہ لالچ پوری کی، انہوں نے ہماری کتنی ہی خطاؤں اور لغزشوں اور یہاں تک کہ چھوٹی موٹی نا فرمانیوں تک سے درگزر فرمایا۔ بچپن میں ایک اور بات بھی بہت اہم ہو اکرتی ہے،بے لوث جزبات اور بے غرض انسیت کے الفاظ اس کے لئے شاید بہت چھوٹے محسوس ہوں۔شاید ، بلکہ یقیناََ ، اسی بات کی وجہ سے بچوں کے اثر لینے کی جبلت کو مختلف مواقع پر مد نظر رکھا جاتا ہے اور Parental Guidanceکی اصطلاح کے استعمال کی وجہ بھی بچوں کے اسی جلد اثر لے لینے کی وجہ سے ایجاد ہوئی۔جذبات اس عمر میں کئی قسم کے ہو سکتے ہیں۔ لیکن بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی درمیانی عمر میں ایک جذبہ جو تمام جزبوں پہ حاوی ہوتا محسوس ہوتا ہے، وہ حب الوطنی اور ملک و ملت پر جاں نثاری کا تاثر ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سب بچپن اور لڑکپن میرے اس نظرئے پر پورے نہ اترتے ہوں لیکن میری ذاتی زندگی میں آنے والے ان ادوار میں وطن سے محبت کے یہ جزبات صرف میری ذات تک ہی محدود نہیں تھے، بلکہ میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ تقریباََ تمام ساتھیوں میں بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے تھے۔ مجھے یاد ہے وہ اگست کے ہی دن تھے(موسم کا بتانا یہاں لازم نہیں کہ ڈیرہ شہر ہو اور اگست کا مہینہ تو پسینہ، لو، حبس، اور تیز دھوپ کے تذکرے کی ضرورت نہیں پڑتی، سب کے سب ایک ساتھ خود بخود ہی آجاتے ہیں۔) میں کرکٹ کھیلنے کے بعد عابد شہید کے ہمراہ لائبریری سے کتابیں لینے گیا اور راستے میں عابد کی سائکل پنکچر ہو گئی۔ آتے ہوئے دیر ہوئی تو یونس کی دکان پر دودھ ختم ہو چکا تھا۔ دیر سے گھر آمد اور دودھ کی عدم دستیابی نے حلق خشک کر رکھا تھا۔ نماز کی قضا ادائیگی بھی کام نہ آسکی اور ابا جان نے کبھی کبھار ہاتھ استعمال کرنے کا بہترین موقع جانتے ہوئے اچھی خاصی درگت بنا ڈالی۔خیر دودھ کا مسئلہ تو پڑوس میں حافظ کریم بخش کی گائے کی کرم نوازی سے حل ہو گیا مگر ابا جان نے آئندہ کے لئے کرکٹ پر پابندی لگاتے ہوئے، چھوٹے بھائیوں کو پڑھانے کا فیصلہ بھی سنا دیا۔ ابا جان کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے گئے تو ممتا کی طرف سے سرزنش کے بعد، ابا جی سے فیصلے پر نظر ثانی کی سفارش کا وعدہ تمام تر دکھوں اور خوف کو بھگا لے گیا۔ٹی وی پر سرکاری چینل دیکھنے کی مجبوری کا دور تھا۔ ماہ آزادی کے حوالے سے ملی نغموں کا موسم عروج پر تھا۔ آج کل تو سینکڑوں کی تعداد کو چھو تے چینلز پر ملک و ملت سے پیار کے ترانے سننے کو ہی نہیں ملتے۔ خود سرکاری چینل بھی بھیڑ کی چال چلنے کو نجی چینلز سے مقابلے کا نام دے رہا ہے۔ خیر۔۔۔ اس وقت صحن میں رکھے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر استاد امانت علی مرحوم ملی نغمہ سنارہے تھے۔ چاند میری زمیں کے انترے سے موسوم اس نغمے کی اثر انگیزی آج بھی اسی طرح محسوس ہوتی ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے محسوس ہوتے ہیں۔ مگر دو باتیں ہیں جو اس نغمے کے سنتے ہوئے بچپن اور اب ادھیڑ عمری کے احساسات میں فرق پیدا کرتی ہیں۔اول یہ کہ اس وقت اس نغمے کی اثر انگیزی، مرحوم گائک کے سوز اور نغمے کے دوران بیک گراؤنڈ میں دکھائے جانے والے ان مناظر کی مرہون منت تھی کہ جن میں پاک فوج کے جوانوں کی مختلف سرگرمیوں کو دکھایا جاتا تھا۔ جبکہ اس نغمے میں استعمال کئے گئے غالباََ جمیل الدین عالی کے الفاظ، بڑے بڑوں کے سر سے اوپر سے گزر جاتے تھے، اور یقیناََ اب بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ جبکہ اب اس نغمے کو سن کر جزباتیت یوں پیدا ہوتی ہے کہ مکمل نا سہی، کافی حد تک الفاظ کے معانی سے آگاہی کے ساتھ ساتھ، لکھنے والے کی وطن سے محبت اور دل سے لکھے گئے ان الفاظ کی حرمت بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر جاتی ہے۔ دوسرے، اس وقت ، اس نغمے کو سنتے ہوئے وطن پرستی کا جذبہ صرف ان بیرونی عناصر کے خلاف ابھرتا تھا کہ جو ارض وطن کے دشمن کے طور پر ذہنوں میں پائے جاتے تھے۔ جبکہ ذہنی طور پر نا سہی، عمر کی پختگی اور میڈیا کی یلغار(جو مثبت بھی مانی جا سکتی ہے) کی بدولت ایسے نغمات کی تاثیر ملک کی موجودہ اندرونی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دو چند ہو جاتی ہے۔چاند اور پھول سے تشبیہ دئے جانے والے ملک کو لگتے اندر ہی سے گرہن، اور اجاڑنے کو درپے خزاؤں سے الجھ جانے کا جزبہ بیرونی طاقتوں کے خلاف نفرت کو کہیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔اب، کھیتوں کی مٹی میں لعلِ یمن کی جگہ مفاد پرستی کی بنیاد پر لگتے سیم و تھور اور صوبائیت کی جنگ کی وجہ سے بنجر بنتے دیہات آنکھو ں کے گوشے نم کر جاتے ہیں۔آج،لہروں کے پالے ملاحوں کی سرزمین کو غیر کے ہاتھ بیچنے کے منصوبے رونگٹے کھڑے کئے دیتے ہیں۔پسینوں کے ڈھالے دہقانوں کی تذلیل جب آسٹریلیاسے گندم کی برآمد کی صورت ہو گی تو دل کی دھڑکن کی ابتری سرحدوں پر منڈلاتے خطرات سے کہیں زیادہ ہوگی۔مزدور کو اس دور کے کوہ کن قرار دیتی شاعری سڑکوں گلیوں کی تعمیر میں جاری کرپشن کو دیکھ کر اپنی موت آپ مرتی محسوس ہو گی۔جواں جراتوں کے نشان کہلائے جانے والے فوجی جب کسی اور کی جنگ میں شہید ہونگے تو شہادتوں پہ سینے پھولنے کے بجائے دل خون کے آنسو ہی روئے گا۔عظمتوں کے نشاں گردانے جانے والے اہل قلم جب سیاسی مفاد پرستوں کے ہاتھوں بکنے کو تیار ہونگے تو حق کی بات کس قلم کی منتظر ہوگی؟۔ محنت کشوں کے سنہرے بدنوں پر فخر کرتا شاعر جب ان محنت کشوں کو دو وقت کی روٹی سے محروم دیکھے گا تو اپنے ڈھونڈے گئے سنہرے الفاظ پر پچھتانے پر مجبورضرور ہو گا۔ سرحد پر ایمان کا پہرہ، شہروں پہ قرآن کا سایہ اور ایک ایک سپاہی خیبر شکن ضرور ہو گا، تب ہی تو ہر قسم کی پستی میں غرق حکومتوں کے با وجود چونسٹھ سال سے یہ ملک قائم دائم ہے۔ایک اور اگست لگ چکا ہے۔ ایک اور یوم آزادی بس چند ہی دن کے فاصلے پر ہے۔کون ہے جو اس ملی نغمے کے الفاظ کو شرمندہ ہونے سے بچا سکتا ہے؟ کوئی نہیں؟ تو پھر کچھ عرصہ اپنے ہی لکھے الفاظ دوہرانا مجبوری بن جاتا ہے۔ میرے نوجوان ہم وطنوں، میں اپنی ہم عمر نسل اور اس سے پہلے کی نسلوں کی جانب سے آپ سے ناقابل معافی جرم پر معافی کا طلبگار ہوں، کہ ان نسلوں کی وجہ سے آپ کو چاند جیسی زمین، اور پھولوں جیسا وطن، اگر ملا بھی ہے تو گرہن زدہ اور خزاں گزیدہ۔

حصہ