کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا نازک موڑ….. تحریر: سہیل احمد اعظمی
کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں آئے دن کی تیزی نے بھارتی حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیاہے۔ تمام تر ظلم و ستم درندگی کے حربے استعمال کرنے کے بعد مودی سرکار بے بس نظر آتی ہے کیونکہ پہلے تمام تر کارروائیوں، تحریک کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیاجاتا تھا لیکن باب تو مغربی میڈیا ، پارلیمنٹ کے اراکین، ایجنسیاں بھی بھارتی بربریت اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے بارے میں بول اور لکھ رہی ہیں۔ جوں جوں بھارتی بربریت میں اضافہ ہورہاہے تحریک میں کالجز، سکولوں، یونیورسٹیوں کے طلباء کی شمولیت کے بعد مزید تیزی آرہی ہے۔ بھارت کی فوج پر سنگ باری کی تحریک کے توڑ کیلئے مدھیہ پردیش کے خصوصی پتھر مار قبائل کی فورس تیار کرنے کے بارے میں سوچا جارہاہے ۔ سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی جانب سے بھارت فوج کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور ظلم و ستم کی ویڈیوز نے پوری دنیا کی انسانیت کو ہلا کر رکھ دیاہے۔ ایک جنگ جو کشمیر کی گلیوں، بازاروں، جنگلوں میں لڑی جارہی ہے تو دوسری جنگ سوشل میڈیا پر جاری ہے۔ جس نے بھارتی تھنک ٹینکس کو مجبور کردیا کہ وہ کشمیر میں فیس بک ، وٹس ایپ پر پابندی عائد کردیں۔ حال ہی میں بھارتی جیپ کے فرنٹ پر ڈھال کے طورپر ایک زخمی کشمیری شہری کو استعمال کئے جانے والی ویڈیونے عالمی طورپر بھارتی فوج، حکومت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا جسکے خلاف عالمی ردعمل سامنے آیا۔ ایسی ویڈیوز کی روک تھام او راپنی بدنامی روکنے کیلئے انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی کو بھارتی حکومت ناگزیر سمجھنے لگی ہے۔ کشمیر میں تو مسلمان طلباء و طالبات کا جینا حرام تھا ہی اب ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں بھی کشمیر طلباء و طالبات کے خلاف پکڑ دھکڑ اور اداروں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ شروع ہے جس کے خلاف مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد بھارت کے طلباء نے کشمیری طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری تعلیمی اداروں میں جنگی صورتحال پیدا کرکے طلباء پر تشدد کرنا بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر بدنما داغ ہے۔ اسی طرح اب ریاست ہریانہ، راجھستان میں بھارتی انتہا پسندوں کی جانب سے کشمیری طلباء کو ریاست چھوڑدینے کی دھمکیوں کے بعد نوفرماں سینا نے اترپردیش میں بھی کشمیری طلباء کیلئے تعلیم کا حاصل مشکل کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی چھوڑنے کا الٹی میٹم دیدیاہے۔ بصورت دیگر ان کے خلاف ہلہ بول مہم شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسکے علاوہ بھارت انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے کشمیر میں دفتر کھول کر مسلمانو ں کو ہندو بنانے کی مہم شروع کردی ہے۔ انہوں نے اس مہم کا نام گھروآپسی مہم رکھاہے۔ جسکے خلاف غدارابن غدار شیخ عبداللہ کے فرزند عبداللہ فاروق نے بھی بولنا شروع کردیاہے۔ انکا کہناہے کہ کشمیری کبھی بھی بھارت کو ہندو مملکت دیکھنا پسند نہیں کریں گے ۔ مزاحمتی جماعتیں کشمیر کا حصہ ہیں انہیں ریاست پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہمیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو کبھی پاکستان جنگ کے ذریعے کشمیر آزاد کرواسکتاہے اور نہ ہی بھارت فوج کے ذریعے تسلط اس پر قائم رکھ سکتاہے۔ دونوں فریقین بشمول کشمیریوں کو مل بیٹھ کر اسکا حل نکالنا ہوگا۔متحدہ جہاد کونسل کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے تشد دکا راستہ ان کی شکست اور بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء کی مزاحمتی تحریک اب صرف مسلم علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب کشمیر کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے جبکہ حریت کانفرنس کے رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق، محمدیاسین ملک، شیر احمد شاہ اور آغاز سید حسن نے کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں او ربی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے اسکے خلاف عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کوظلم و ستم سے بچانے کیلئے کارروائی کریں ۔ یاد رہے کہ بی جے پی نے ایک بھارتی فوجی آفیسر کے اس بیان کی تائید کی تھی کہ جنگ او رمحبت میں سب جائز ہوتاہے اور گائے کی حفاظت کے نام پر جس طرح مسلمانوں کو بے بدردی سے بھارت میں شہید کیاجارہاہے انہیں ہند وانتہا پسندوں کی تعصبیت اور نسلی و مذہبی امتیا زکا نشانہ بنایاجارہاہے، کا سلسلہ اب بھارتی کشمیرمیں بھی شروع ہوگیاہے۔ 200ہندو انتہا پسندو ں نے گاؤ ں کی حفاظت کے نام پر ایک مسلمان خاندان پر حملہ کرکے ان کے 200کے قریب جانور چھین لئے۔ نوجوان لڑکا لاپتہ اور خواتین پر حملہ کردیا۔ جنہوں نے جنگل میں بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ بھارت کی فوج اپنی تمام تر جارحیت ، بربریت کے باوجود کشمیری مجاہدین، اب طالبات و خواتین بزرگوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کی طرف سے شہید کئے جانے واا ہر مسلمان دیگر کئی مجاہدین او رتحریک کے کارکنو ں کو جنم دینے کا سبب بن رہاہے۔ جس کے خلاف بھارت کی7لاکھ فوج بے بس نظر آرہی ہے۔ عالمی میڈیا بھی اب کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پر بول پڑاہے۔ کشمیریوں کی لازوال قربانیاں رنگ لارہی ہیں اب بھارت کے اندر سے کشمیر کو تنازعہ کو حل کرنے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ تحریک آزادی جموں و کشمیر کے چیئرمین عبدالعزیز علوی نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی قریب ہے بھارت کی شکست واضح ہوتی جارہی ہے۔ مسئلہ کشمیر اب مسئلہ بھارت بن کر ابھر رہاہے۔ ہندوستان کے اندر سے آزادی کی مزید تحاریک جنم لے رہی ہیں۔ ایسے نازک موقع پر پاکستان کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے ۔ لیکن وہ تو پانامہ لیکس اور کرپشن کے چنگل سے ہی نہیں نکل پارہی ہے پاکستان جو کہ کشمیر کی اخلاقی اور سفارتی سطح پر امداد فراہم کرنے کا دعویدار ہے اب اس میں بھی ناکام ہورہاہے۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا کشمیر کے کاز اور اس اہم معاملے کی حساسیت سے کوئی تعلق دلچسپی نظر نہیں آتی۔ کشمیر کمیٹی کی اہم وزارت پرسالانہ 17کروڑ کی رقم برباد کی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کو فوری تبدیل کیاجائے اور سفارتی و اخلاقی سطح پر امداد کو تیز کیاجائے ۔ ہمارے پا س سقوط ڈھاکہ کی بھارتی سازش کا بدلہ لینا کا موقع ہے اگر ہم نے اسے ضائع کردیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

حصہ