حدِ ادب
انوار حسین حقی
یومِ محبت یا یومِ اوباشی
____________
آج چودہ فروری ہے۔ گذشتہ ایک عشرے سے مغربی دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی مغربی معاشرے کی نقالی کے زیر اثر لوگ اہتمام کے ساتھ ’’ ویلنٹائن ڈے ‘‘ کو منانے لگے ہیں ۔ خود کو ماڈرن سمجھنے اور ظاہر کرنے کے نفسیاتی مرض میں مبتلا ہمارے معاشرے کے اس مٹھی بھر جنونی گروہ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ مغربی معاشرے میں منائے جانے والے تہواروں یا ایام کا پس منظر کیا ہے ۔ ان لوگوں کا مقصد تو اپنے بدیسی آقاؤں کی اندھی تقلید یا نقالی ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ ہندوؤں کی دیوالی، ہولی اور بسنت کے تہواروں کو منانے میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرتے اس کے برعکس یہ لوگ مسلمانوں کے تہواروں کے موقع پر زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔ اسلامی یا مشرقی تہواروں میں شامل ہونے سے ان کی کھوکھلی اشرافیت اور سطحی جدیدیت پر آنچ آتی ہے ۔ ایسا کرنے والے شریف زادوں کے روشن دماغوں میں بیداری کی معمولی سی لہر بھی کبھی اُٹھتی دکھائی نہیں دیتی ۔اس صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہمارے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی جانب سے اس کی حوصلہ افرائی ، کوریج اور تشہیر ہے جس سے ایسی سرگرمیوں کونہ صرف فروغ ملا بلکہ اب یہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنتی نظر آتی ہیں ۔
آج سے ایک دن بعد یعنی کل کے اخبارات اُٹھا کر آپ دیکھ لیجئے گا کہ ہمارے پرنٹ میڈیا میں کیا شائع ہوتا ہے ۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی آپ کو تقریباً تمام اخبارات میں ایک جیسی متن والی یہ خبر یں پڑھنے کو ملے گی کہ ’’صبح سے رات گئے پھولوں کا سفر جاری رہا ۔ گل فروشوں کی چاندی رہی اور پھولوں کی دکانوں پر رش رہا ۔ آج سُرخ گلاب نہ ملنے پر دوسرے رنگوں کے گلاب خرید کر چاہنے والوں کو بھجوائے جاتے رہے ۔ گل دستے ایک سو روپئے سے لے کر پانچ سو روپئے تک میں بکتے رہے ۔ رات کو بعض بڑے ہوٹلوں میں ویلنٹائن ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا وغیرہ وغیرہ ‘‘ ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی خبریں بھی نظر سے گذریں گی جن میں راہ چلتی طالبہ کو گلاب پیش کرنے والے کی پٹائی اور چھترول کا ذکر ہوگا ۔ اس دن کی نسبت سے جنرل سٹوروں اور کتابوں کی دکانوں پر گذشتہ کئی دنوں سے ویلنٹائن کارڈز کی فروخت جاری تھی ۔ پوش علاقوں کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ گلی محلوں میں بھی جاری رہا ۔
ہم جس ویلنٹائن ڈے کو جھوم جھوم کر مناتے ہیں وہ خود اہل مغرب کے نزدیک کوئی پسندیدہ تہوار نہیں ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی اندھی تقلید میں ہمارے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر اس تہوار کو منانے کی ترغیب دینے کے لیئے متضاد اور حقائق کے منافی روایات کو ہر سال بیان کیا جاتا ہے ۔
’’ ویلنٹائن ڈے کے بارے میں مختلف روایات ہیں جس میں سے سب سے مستند روایت یہ ہے کہ اس دن کا آغاز رومن سینٹ ویلنٹائن کی مناسبت سے ہوا جسے محبت کا دیوتا بھی کہتے ہیں۔ ویلنٹائن کو مذہب تبدیل نہ کرنے کے جرم میں پہلے قید رکھا گیا ۔پھر سولی چڑھا دیا گیا ۔قید کے دوران ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہو گئی ۔ سولی پر چڑھائے جانے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کے نام ایک الوداعی محبت نامہ چھوڑا جس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا ’’ تہمارا ویلنٹائن ‘‘ یہ واقعہ 14 فروری279 ء کو وقوع پذیر ہوا ۔ اس کی یاد میں انہوں نے14 فروری کو یومِ تجدیدِ محبت منانا شروع کر دیا ۔
ایک دوسری روایت کے مطابق جب سلطنت روما میں جنگوں کا آغاز ہوا تو شادی شدہ مرد اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر جنگوں میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ نوجوان اپنی محبوباؤں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے ۔ جنگوں کے لیئے کم افراد کی دستیابی کی وجہ سے شہنشاہ کلاڈئیس (Claudius ) نے حکم دیا کہ مزید کوئی شادی یا منگنی نہیں ہونی چاہیے ۔ ویلنٹائن نامی پادری نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طریقہ سے شادیوں کا اہتمام کیا ، جب شہنشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اُس نے ویلنٹائن کو قید کر دیا ۔ جو کچھ اُس نے نوجوان عاشقوں کے لیئے کیا تھا اسے بعد ازاں یاد رکھا گیا اور آج اسی نسبت سے ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہےَ َ
یہ دونوں کہانیاں جو رومانوی افسانویت کا شاہکار ہیں حقیقی پس منظر والی شہادت یا گواہی سے محروم ہیں ۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میں اس تہوار کا تعارف مختصراً یوں دیا گیا ہے کہ ’’ سینٹ ویلنٹائن ڈے کو جس طرح عاشقوں کے تہوار (LOver’s Fesitival ) کے طور پر منایا جاتا ہے یا ویلنٹائن کارڈز بھیجنے کی جو نئی روایت چل نکلی ہے اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق رومیوں کے دیوتا لوپر کالیا کے حوالہ سے پندرہ فروری کو منائے جانے والے تہوار بارآوری یا پرندوں کے ’’ ایام اختلاط ‘‘ ( Meating Season ) سے ہے ۔
ایک دوسرے انسائیکلو پیڈیا ’’ بُک آف نالج ‘‘ میں اس دن کے بارے میں صرف اتنا درج ہے کہ ’’ 14 فروری محبوبوں کے لیئے خاص دن ہے ۔ ایک وقت تھا کہ اسے سال کا وہ وقت خیال کیا جاتا تھا جب پرندے صنفی مواصلت کا آغاز کرتے ہیں اور محبت کا دیوتا نوجوان مردوں اور عورتوں کے دلوں پر تیر برسا کر انہیں چھلنی کرتا ہے ۔ بعض لوگ خیال کرتے تھے کہ ان کے مستقبل کی خوشیاں ویلنٹائن ڈے کے تہوار سے وابستہ ہیں ‘‘۔ محمد عطاء اللہ صدیقی نے اپنی کتاب ’’ بسنت اسلامی ثقافت اور پاکستان ‘‘ میں ایک انسائیکلو پیڈیا بُک آف نالج کے حوالے سے یوں نقل کیا ہے کہ
’’ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے یقین سے کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا (Luoer Calia ) کی صورت میں ہوا ۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے ۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے بعد میں اس تہوار کو سینٹ ویلنٹائن کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو بھی برقرار رکھا گیا ۔ اسے ہراس فرد کے لیئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا ۔ سترہویں صدی کی ایک پُر امید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلنٹائن والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیے کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے ۔ اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی ۔بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ کارڈز دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔
بعض مغربی محققین کا کہنا ہے کہ 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے ؟ اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں ہے البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسویں میں روم میں ویلنٹائن نامی ایک پادری تھے جو ایک راہبہ ) Num ) کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوئے ۔چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیئے نکاح ممنوع تھا اس لیئے ایک دن ویلنٹائن صاحب نے اپنی محبوبہ کی تشفی کے لیئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا ۔ راہبہ نے اس پر یقین کر لیا ۔ کیلسا کی روایت کی دھجیاں اُڑانے پر ان کا وحی حشر ہوا جوعموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کر دیا گیا ۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن کو شہید محبت کا درجہ دے کر اس کی یاد منانا شروع کردی ۔
مغرب میں چرچ نے یہ دن منانے والوں کی ہمیشہ مذمت کی ہے موجودہ دور میں بھی عیسائی پادریوں کی جانب سے اس دن کو منانے کی مذمت میں سخت قسم کے بیانات آتے رہتے ہیں ۔ چند سال پہلے بنکاک میں ایک پادری نے لچھ لوگوں کو ساتھ لے کر ایسی دکان کو نذرِ آتش کر دیا تھا جہاں ویلنٹائن کارڈ فروخت ہو رہے تھے ۔
1997 ء میں شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیا آف کیتھولک ازم (Catholicism ) میں کہا گیا ہے کہ سینٹ ویلنٹائن کا اس دن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ’’ ویلنٹائن نام کے دو مسیح اولیا (Saints ) کا نام ملتا ہے ان میں سے ایک کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ روم کا ایک پادری تھا ۔جسے رومی دیوتاؤں کی پوجا سے انکار کرنے پر 269 ء میں شہنشاہ کلاڈیئس دوم (CladiusII )ٰٰکے حکم پر موت کی سزا دی گئی ۔ دوسرا طرنی ) Terni ) کا ایک بشپ تھا جس کو لوگوں کو شفا بخشنے کی روحانی طاقت حاصل تھی ، اسے اس سے بھی کئی سال پہلے شہید کر دیا گیا تھا ۔ایک سینٹ ویلنٹائن تھا یا اس نام کے دو افراد تھے یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے تاہم یہ طے ہے ان دونوں کا محبت کرنے والے جوڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اس تہوار کی تردید کے لیئے تاریخی حوالے اس کی تائید کی شہادتوں سے بہت زیادہ معتبر ہیں دنیا کے مختلف معاشروں اور ملکوں میں ویلنٹائن ڈے منانے کی شدید مالفت کی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے تدارک کے لیئے موئثر لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جاتا ۔ ماضی سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ مغرب سے گہری وابستگی اور قربت کے طوفان کو نہ روکا گیا تو مغربی فضولیات ہماری معاشرتی اقدار کو بہا لے جائیں گی ۔ ویلنٹائن ڈے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انگریزی تہذیب کے ایام ہماری نئی نسل کے کردار کو مسخ کردیں گے ۔ اس حوالے سے نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ مغرب چونکہ اسلام سے بہت خائف ہے اسی یئے وہ ہمارے معاشرے میں ایسے تہواروں کو فروغ دے رہاہے ۔۔۔‘‘ مغربی تہذیب کی چکا چوند سے مرعوب دکھائی دینے والے سابق صدر جنر ل پرویز مشرف بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ مغربی طرزِ زندگی ہماری اقدار سے متصادم ہے ان کا یہ کہنا ریکارڈ پر ہے کہ میں پاکستان کو اعتدال، رواداری، جمہوریت اور ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتا ہوں مغریبیت ( ویسٹرنائزیشن ) کی راہ پر نہیں جو ہماری اقدار سے متصادم ہے ۔ میں نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنی اقدار کے منافی روایات اپنا کر مغرب کی پیروی کرے ‘‘۔۔۔
پاکستانی معاشرے کو ایک مغرب زدہ اقلیت تباہی و بربادی کی جس دلدل کی طرف دھکیل رہی ہے اس سے بچاؤ کی تدبیر کرنا ہم سب کا فرض ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے اس فرض سے غافل ہیں ۔

حصہ