کان نہ دیکھنا، کتے کے پیچھے بھاگنا …………….. ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ
کیا اچھے زمانے تھے کہ ماں سمجھاتی تھی اور دھی رانی بات کو پلے سے باندھ لیتی تھی۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنے گھر سے سسرالی گھر جاتی تو وہاں وہ سارے تجربے دھراتی جو اس نے اپنی ماں سے سیکھے ہوتے۔ ہماری مائیں بھی کتنی با صلا حیت اور معصوم ہوتی تھیں۔ وہ اپنا تمام تجربہ اپنی نئی نسل کے دماغ میںنچوڑ دیتیں۔ بیٹی کو زیور کے طور پر اخلاقی تعلیم سے نوازتیں۔ اس کے کان میں جاتے ہوئے یہ بات ڈال دیتیں کہ تم نے اپنے سسرال کو اپنے دل میں اتارناہے۔ کوئی شکایت نہیں ہونے دینی،جا بیٹی اب کبھی روٹھ کے سسرل کے گھر سے میکے گھر نہ آنا۔ اب سسرال کے گھر سے ہی تیرا جنازہ اٹھے۔ بیٹیاں بھی کتنی اچھی ہوا کرتی تھیں کہ اپنی ماں کے آگے سر خم کر دیتیں اور اکثر سسرال میں ساس اور نندوں کی جھڑکیاں سہہ لیتی، دیور جیٹھ سے جلی کٹی سن لیتیں ،دیورانی جٹھانی کی سازشوں کا شکار ہو جاتیں ، اپنے مجازی خدا سے مار بھی کھا لیتی مگر اپنی ماں کی لاج رکھنے کے لیے حرفِ شکایت اپنے ہونٹوں پر نہ لاتیں۔ ساری زندگی اس سبق کو نہ بھلاتیں جو ماں نے بچپن کے دنوں میں پڑھایا ہوتا۔ اگلی نسلیں یاد کریں گی کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گھر میں کوئی بڑا بوڑھا ہوا کرتا تھا۔ گھر کیا تھا ایک چھوٹی جنت نما تھا۔ گھر کا کوئی فرد اس بزرگ کی بات نہ ٹالتا۔ اگر کوئی بچہ تھوڑا ہٹ دھرم بھی ہوتا تو بابا جی کے پاس آ کر اس کی آنکھ اوپر نہ اٹھتی۔ بابا جی بھی کسی کو دوسروںکے سامنے نہ ڈانٹے کرتے۔ ان کا رعب و جلال اپنی جگہ کہ ان کے نام کی دھمکی پر ہی بہت سوں کے کل پرزے درست ہو جاتے۔ گھر کی تربیت کا کوئی بدل نہیں تھا۔ بچہ مذہبی اور اخلاقی تربیت گھر سے سیکھ لیتا،رسمی تعلیم کے لیے سکول یا مدرسے میں بھیجا جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمانے نے تیزی کے ساتھ کروٹ لی، رسمیں بدلیں ،اخلاقیات بدلی،قدریں بدلیں اور انسان کا لائف سٹائل بدل گیا۔ خوشیاں رخصت ہوئیںاور بدلے میں پریشانیاں ہمارا منہ چڑانے لگیں۔ اب ہر گھر کی ایک اپنی دنیا ہے۔ بزرگوں سے چھٹکارا مل چکا ہے۔ ممی ڈیڈی کلچر اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ بہت حد تک بچوں نے بھی والدین کی مداخلت سے جان چھڑوا لی ہوئی ہے۔ بڑے بوڑھوں کا گھر میں وجود برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ان سے صلاح مشورے اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں نے سنسنی پھیلا رکھی ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار نے ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے افراد کو تنہا کر دیا ہے۔ ایک چھت تلے بیٹھنے والے بھی ایک دوسرے سے انٹر نیٹ سے کنکٹ ہونا پسند فرماتے ہیں۔ کیسی کیسی رسمیں ریتیں جنم لے چکی ہیں۔ یہ ساری چیزیں انسان کو تنہا بھی کر رہی ہیں اور اندر سے کھوکھلا بھی۔ یہ تو تبدیلی کی تصویر کا ایک رخ ہے دوسری جانب انسان خود پسندی میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ کینہ ، دشمنی ، حسد اور حماقت کی نحوست کے شکنجے میں جکڑا جا چکا ہے۔ امن سکون اور تہذیب و ترتیب برباد کرنے میںجو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی وہ ہمارے حکمرانوں نے بڑی سہولت سے پوری کر رکھی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ کس قدر بےوقوفی کرتے ہیں وہ لوگ جو اپنے گھر میں اس امید کے ساتھ سانپ پالتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر ان کے ہمسایوں کو کاٹنے جایا کریں گے…. حقیقت یہ ہے کہ سانپ کا پہلا شکار یا تو پالنے والا ہوتا ہے یا پھر سپیرا۔

ایک مسیت کے دروازے پر نمازی جب مسجد میں داخل ہوئے تو حسب روایت اپنے جوتے مسجد کے دروازے پر احتراماً اتارے اور نماز میں جا کر شامل ہو گئے۔ نماز سے فراغت پائی ، واپس اپنے گھروں کو جانے لگے تو دروازے کے پاس پہنچ کر کیا دیکھتے ہیں کہ سب کے جوتے غائب ہیں۔ نمازیوں نے وہاں کے چوکیدار سے پوچھا کہ ہمارے چپل کہاں ہیں تو چوکیدار نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے جوتے راءکاایجنٹ اٹھا کر لے گیا ہے …. سب نمازیوں نے مل کر راءکے ایجنٹ کے خلاف جلوس نکالا، اسے گالیاں دیں اور حکومت سے مطالبہ کرنے لگے کہ جلد اسے گرفتار کیا جائے۔ کچھ جوانوں نے کہا کہ اگر وہ ہمارے ہاتھ لگ جائے تو ہم اس کا قیمہ کر دیں گے ،ان کے بڑوں بوڑھوں اور سیانوں نے کہا کہ نہیں بیٹا قانون کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ جلد مجرم کو گرفتار کیا جائے اوراس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مجرم کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔ پھر وہ نمازی مسجد کے چوکیدار کی جانب متوجہ ہوئے اور اسے جی بھر کے شاباش دی اسے انعام و اکرام سے بھی نوازا، اسے کاندھوں پر بٹھائے کچھ نوجوان رقص کرنے لگے اور کچھ من چلے سیلفیاں بنانے میں دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہوئے۔ چوکیدار توتھوڑی دیر کے لیے گھبرا ہی گیا کہ آخراس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ،اسے اس سب کی تو توقع نہیں تھی۔ وہ چیخنے چلانے لگا کہ اس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ”چوکیدار جیو جوانا“ کے نعروں میں اس کی آواز گم ہو رہی تھی۔ با لآخر اس نے اس لڑکے کا کاندھا جھنجھوڑا جس نے اسے اپنے کاندھوں پر بٹھا رکھا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو تو اس جوان نے اسے بتایا کہ تم نے ہمارے جوتے بر وقت چوری ہونے کی اطلاع دی ہے،تم واقع ہی بہت ذہین اور قابل آدمی ہو ، یہ عزت افزائی اس کے عوض تمہیں عطا کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں سب لوگ چوکیدار زندہ باد ، راءایجنٹ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے خوشی خوشی اپنے گھروں کو ننگے پاﺅں روانہ ہوئے۔ ان نمازیوں میں سے قدرے سمجھدار ایک نمازی راستے میں سے واپس مسجد کی طرف آیا،دیکھا تو چوکیدار وہیں کھڑا جمایاں لے رہا تھا۔ اس نمازی نے چوکیدار کو کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور چلایا کہ جب را کا ایجنٹ ہماری جوتیاں چرانے کی غرض سے یہاں پہنچا اور تسلی سے سب لوگوں کی جوتیاں اٹھا کر لے جانے میں کامیاب ہو گیا تو تم کہاں تھے اور تم نے اسے پکڑا ،یا اسے روکا کیوں نہیں؟ چوکیدار نے اس آدمی کو اپنی بانہوں میں بھینچا ، اپنی کالر چھڑوائی اور زور سے آواز لگائی”نمازیو! واپس آجاﺅ ، واپس آجاﺅ،میں نے را کا ایجنٹ ڈھونڈھ لیا ہے،اسے پکڑ لو اور لے جاﺅ…. نمازیوں نے پھر اس کے بعد اور کوئی بات نہیں سنی…. آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کے بعد کس پر کیا بیتی ہو گی۔ البتہ چوکیدار کا بیٹا کہہ رہا تھا کہ” ابا !اس کے جوتے کا کیا کرنا ہے جس کونمازی پکڑ کر لے گئے ہیں؟“

حصہ