Neelab Image

ریت پریت
ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ
جاہل اور منافق دونوں بوجھ ہیں زمین پر
_____________________

دوزخ نامہ بنگالی زبان میں لکھا جانے والا شاہ کار ناول ہے جس میں پہلی بار منٹو بہ مکالمہ غالب دکھایا گیا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نام دوزخ نامہ اور گفتگو منٹو اور غالب کی۔۔۔۔۔جی ہاں! تو جنابِ والایہ دونوں کردار اس ناول میں جہنم میں محو کلام ہیں ۔اس سے قبل بھی اس عظیم ناول نگا ر،ربی سنگر بال کلکتوی نے اپنے ایک ناول میں رومیؔ کی کہانی ابن بطوطہ کی زبان میں بیان کر کے پڑھنے والوں میں ایک تہلکہ مچایا تھا ۔بہر حال منٹو اور غالب یہ ہماری تاریخ کے وہ دو سنہری نام ہیں جو ادبی دنیا سے کبھی معدوم نہیں ہو سکتے۔یہ اتنے توانا کردار ہیں کہ لوگ ان کے نام کو بیچ بیچ کر کھا رہے ہیں مگر ان کی قیمت اور اہمیت میں ہر نئے دن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جس کو کوئی کام نہیں آتا وہ یا تو خود ساختہ نقاد بن بیٹھتا ہے یا بڑے ناموں کی کلیات یا ان کے مضامین مرتب کر کے شہیدوں میں نام لکھوانے کی ناتمام سعی لا حاصل کرتا ہے۔خیر یہ ہرکسی کا اپنا اپنا فعل اور کردار ہے جسے تاریخ بہتر جانتی ہے کہ اسے کس مقام پر زندہ رکھنا ہے یا رکھنا بھی ہے یا نہیں ۔ اس سلسلے میں بعضوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ کام اتنا سہل ہے کہ بنا مشقت، عام سا پبلیشر بھی کر سکتا ہے جس کا اگر چہ ادب سے کوئی واسطہ نہیں مگر وہ ادبی کتب چھاپتا ہو ۔جس طرح ہمارے ہاں منہ بولے نقادوں کی کمی نہیں ہے بالکل اسی کے مصداق مکھی پر مکھی مارنے والے کتب مرتبین بھی آپ کو تھوک کے حساب سے مل جائیں گے۔برائے مہربانی لفظ ’’تھوک‘‘ کو ’’ تھُوک‘‘ نہ پڑھا جائے۔ ویسے ہمارے کئی دانشوروں کا کہنا ہے کہ محض شہرت کی خاطرجو لوگ صرف کسی تصنیف پر اپنا نام لکھوا کرادیب بننے کی بھونڈی سی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے اس لفظ کو بے شک ’’تھُوک ‘‘ ہی پڑھا جائے۔ایسے لوگ تحقیق کو مرتبہ یا تحریری صورت میں پیش کرنے کے اصول و ضوابط سے یکسر نا بلد ہوتے ہیں۔ یہ اسالیب تحقیق،طریقہ تحقیق یا اصول تحقیق کی رسمیات کی الف بے بھی نہیں جانتے۔اصلیات کے مآخذ، حوالہ اسناد،حواشی اور تعلیقات سے نا آشنا ؤں کو کیا خبر کہ متن یا بین السطور اقتباس کس طرح نقل کیا جاتا ہے۔ان بنیادی لوازم کو طے کرنے کے لیے مشقت کی بھٹی میں سے گرزنا پڑتا ہے ۔میں سارا قصور متعلقہ شخص کا نہیں سمجھتی۔ اس کارِ بد میں اس شخص کے اساتذہ کا بھی عمل دخل ہوتا ہے جوان کو اپنی نالائقی کی وجہ سے سہل پسند بنا دیتے ہیں ۔ تحقیق وتدوین کے اصولوں میں سے ایک عمل حقیقت اورغیر جانب داری کو اہمیت دینا ہوتا ہے ۔جس کو کاہل اور جاہل شخص سرے سے نظر انداز کر دیتا ہے۔ادبی و علمی دنیامیں جو روز افزوں جدت اور ترقی آ رہی ہے اس میں سے فرسودگی کے دائروں کو منہا کرکے مسلمہ معیارات کی ہمسری اختیار کرنا لازمی ہے ۔ہم غصہ نہ کریں تو کیا کریں ۔ہم تو ادب کے مارے سر پھرے لوگ ہیں اور دو نمبر لکھاریوں پر کڑھتے رہتے ہیں ۔افسوس ہوتا ہے جھوٹے اور منافق لوگوں پرجو ذاتی فوائد کی خاطر دوسروں کو دھوکے میں رکھتے ہیں ۔در اصل یہی وہ بھٹکے ہوئے ناسمجھ ہیں جو حقیقت میں خود فریبی کا شکار ہوتے ہیں ۔ یہ فرسودہ اوراز کار رفتہ کی روایتوں کے حصار میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں جواپنے پنجروں سے باہر تو نہیں آ سکتے مگر اندر پڑے پڑے ٹیں ٹیں کرکے لوگوں کا سر کھاتے رہتے ہیں ۔نہ ہی یہ حال وماضی کو جانتے ہیں نہ ان کی غرض مستقبل سے ہوتی ہے۔جدید رجحانات کو سمجھنے کی ان میں رتی برابر صلاحیت نہیں ہوتی ۔بعض اوقات ادھر ادھر سے سن سنا کر مغربی ادب کی جان کاری کا دعویٰ بھی کرتے رہتے ہیں جس کا پول عموماً ان کی کسی مجلسی گفتگو میں کھل جاتا ہے۔پر کیا کریں جناب انہی دو نمبر منافقین کا توتی بولتا ہے۔۔۔۔۔
کسی بستی میں تین طرح کے لوگ رہتے تھے ۔ایک وہ جو بستی کے سربراہ کی اعلانیہ حمایت کرتے اور اپنا جینا مرنا سردار کے نام لکھ چکے تھے، وہ اچھے برے وقت میں اپنے سردار کو کبھی دھوکہ نہیں دیتے تھے۔یہ لوگ مخلص اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی مضبوط تھے۔باہر سے حملہ آور اگر بستی پر قابو پا لیتے تو یہ طبقہ آزادی کی بھیک مانگنے کی بجائے قید کی صعوبتوں کو اپنا مقدر مان لیتا۔دوسرا گروہ وہ تھا جو چارو ناچار بستی میں دن
بسر کرتا مگر موقع ملتے ہی مخالفین سے جا ملتا۔جیسے ہی باہر سے کوئی حملہ آور داخل ہوتاوہ لوگ اس سے مل جاتے ۔اس بستی میں ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو مولا نا فضل الرحمان کی طرح ہر جیتی ہوئی پارٹی کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک دفعہ معاملہ پہلے سے الٹ ہو گیا ۔ ہوا یوں کہ بار بار کی لڑایوں سے اکتائے ہوئے دو گروپ یعنی بستی والے اور باہر سے آنے والے دونوں گروہ آپس میں مل گئے اور انہوں نے عین اس وقت جب خون خرابہ ہونے ہی والا تھا اور منافقین ہمیشہ کی طرح دونوں دھڑوں سے فائدہ اٹھانے والے تھے ۔دونوں گروہوں نے صلح کا اعلان کر دیا اور منافقین جو ترقی پسندوں اور اینٹی ترقی پسندوں (لیفٹسٹ اینڈ رائیٹسٹ) سے موقع بہ موقع مستفید ہوتے رہتے تھے، ایک کو دوسرے کے خلاف بڑھکاتے تھے تا کہ مستفیدین کا کارِ حیات چلتا رہے، کی حقیقت کھل گئی اور دونوں صلح یافتگان نے ان کو نشان عبرت بنا ڈالا جو (مٹھی بھر منافقین) کئی دہایوں سے ناحق قتل و غارت کروا رہے تھے بالآخراپنے انجام کو پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔ چلیے چلتے چلتے جرمن حکمرانوں کے اچھے عمل کو سراہتے چلیں۔جرمنی نے شامی اور مصری مسلمانوں کے دل جیت لیے ۔عرب ڈوب مرے جس کے پاس کل دنیا کی دو تہائی تیل کی دولت ہے مگر یہ لوگ انسانی احساس سے خالی ہیں ۔ اللہ تعالی نے ان کو کسی حکمت کے تحت ڈھیل دے رکھی ہے۔اس ڈھیل کی وجہ تسمیہ وہ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں تو یہ عرض کرنا ہے کہ پاکستانی رقبے سے دو تین گنا زیادہ رکھنے والا شاید تین چار کروڑ سے زیادہ آبادی بھی نہیں رکھتا مگر اس قدر تنگ دل کہ اپنے مسلم بھائیوں کی موت پر آنکھوں پر پٹی رکھتا ہے۔ عیاشی میں خود کفیل ہے، خود سے آگے کچھ نہیں دیکھتے مفادات کے لیے امریکہ کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔ انسانیت نام کا لفظ اپنی ڈکشنری سے دھو چکے ہیں۔ان سے گزارش ہے کہ اپنے مذہب سے نہیں سیکھنا تو نہ سہی کچھ تو مغربی اخلاقیات سے ہی سیکھ لیں ۔

حصہ