’’یہ کسِ کی تِشنگی کو ڈھو نڈنے سیلا ب آتے ہیں ‘‘
تنویر خالد۔
یہ 29جو لا ئی 2010کی اُس خو فنا ک اور بھیا نک شب کا قصّہ ہے جس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جا تے ہیں ۔یہ اعصاب کو جھنجو ڑدینے والی نا قابل فراموش رات تھی جب آسما ن سے بر ستے پا نیوں اور پہاڑوں سے پگھلتی بر ف نے ’’سیلا بِ بلا خیز ‘‘کا روپ دھا ر ا تھا اور ’’سو ہنا سندھ سئیں ‘‘بپھر کر سمندر میں بدل چکا تھا ۔اس کے چنگھا ڑتے پا نیوں سے حدّت کی گر می میں بھی شدت کی سر دی جسم میں سرایت کر تی محسوس ہو تی تھی ۔اس شام کا لا با غ کے موضع ککڑانوالہ سے دریا ئے سندھ میں ڈوبتے سو رج کا خوبصورت منظر لہو رنگ نظرآتا تھا ۔دریا ئے سندھ کے یہ چنگھاڑتے پا نی جنا ح بیراج پر آنا فاناًبر سوں سے قائم لیفٹ گا ئیڈڈ بند کو ایسے نگل چکے تھے کہ جیسے اس کا کبھی کو ئی وجو د تھا ہی نہیں اور لیفٹ ما رجنل بند کو ہڑپ کر نے کے درپے تھے ۔لیفٹ ما رجنل بند جس کی تبا ہی درحقیقت میانوالی کی بر با دی تھی ۔جنا ح بیراج پر افراتفری کا عالم تھا وہا ں موجو د ہر فرد کو اپنی اپنی پڑی تھی بس یو ں کہہ لیں کہ نفسا نفسی کا عالم تھا ۔ایسے میں محکمہ آبپا شی کے ایک افسرنے حقیقی معنوں میں بین کر تے ہو ئے حا کم ضلع میانوالی طارق محمود کو آہوں ، ہچکیوں،سسکیوں میں نو لا کھ سینتیس ہزارکیو سک پا نی کے اس عفریت سے لرزتے جنا ح بیرا ج کے پُل اور لر زہ بہ اندام لیفٹ ما رجنل بند کی خستگی سے آگا ہ کیا ۔محکمہ آبپا شی کا یہ افسر رورو کر فریا د کر رہا تھا کہ فوری کچھ کر یں وگرنہ لیفٹ ما رجنل بند ٹوٹا تو میانوالی صفحہ ہستی سے مٹ جا ئے گا قصہ پا رینہ بن جا ئے گا اور ’’اس کی داستان تک نہ ہو گی داستا نوں میں ‘‘یہ سب سن کر حا کم ضلع میانوالی کے اپنے اوساں خطا ہو چکے تھے تا ہم انہوں نے خود کو سنبھا لااور فوری طور پر ضلع میں فلڈ ایمر جنسی نا فذ کر تے ہو ئے ہاٹ لا ئن پر کمشنر سر گودہا جواد رفیق ملک ، چیف سیکر ٹری پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تک اس گھمبیر صورتحال اور کرب کو منتقل کیا اور ضلع کے تما م سر کاری اداروں کی مشینری ، افرادی قوت اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جنا ح بیرا ج پہنچنے کا حکم دیا ۔ڈویژنل اور صوبا ئی سطح پر بھی اس قسم کے احکا مات جاری کئے اور رات گئے صوبا ئی ، ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹر ز سے تما م دستیا ب مشینری اور سینکڑوں لو گ جنا ح بیر اج پرپہنچ چکے تھے ۔اور لیفٹ ما رجنل بند پر بند با ندھنے کی کو ششوں میں مصروف تھے مگر دریا ئے سندھ کے پانی لمحہ لمحہ بڑھ رہے تھے ان پا نیوں کی چنگھاڑ میں دہشت درکرآئی تھے خس و خا شاک کی طرح بہا لے جا نے کی دہشت ، موت کی دہشت اور سب سے بڑھ کر ان سب کے خوف کی دہشت ، محکمہ آبپا شی کے صوبا ئی حکا م ، کمشنر سر گودہا جواد رفیق ملک اور ڈی سی او میانوالی طارق محمود سمیت جنا ح بیراج پر مو جود ہر شخص میکانکی اندار میں کچھ نہ کچھ کر تا نظر آرہا تھا اورپا نیوں کے شور میں کا ن پڑی آواز سنا ئی نہ دیتی تھی ۔
جنا ح بیرا ج کی عمر پا کستان کی عمر سے زیا دہ نہیں تھی بلکہ یہ تقریباًپا کستان کا ہم عمر ہی ہے ۔جس طر ح پا کستان نے ان گنت حکومتوں اور وزرائے اعظم کو بدلتے دیکھا ہے اسی طرح جنا ح بیر اج نے بھی ان گنت سیلا بوں کو اپنے آہنی دروازوں تلے سے گزرتے دیکھا ہے۔اس کے تختوں کے نیچے سے1950اور1948میں ساڑھے سات لا کھ کیوسک سے زائد اور 1992اور1976میں سا ڑھے آٹھ لا کھ کیو سک سے زائد سیلا بی ریلے گزر چکے ہیں مگر 2010کا سیلا ب الامان ، سیلا ب تھو ڑی تھا یہ تو سیلا ب عظیم تھا ، طو فا نِ نو ح تھا جو پا کستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک انسا نی آبا دیوں ، کھیتوں ، کھلیا نوں ، شا ہراؤں اور با زاروں کو روندتا ہوا تبا ہی و بر با دی کی نا قابل فراموش داستا نیں رقم کر گیا ۔جنا ح بیرا ج نے یہ سیلا ب اپنی طبعی عمر میں پہلی بار دیکھا تھا جس میں اس کے آہنی دروازے بھی ڈوب چکے تھے ۔اور یہ 29جولائی 2010کی اعصاب کو جھنجوڑدینے والی رات تھی جب جنا ح بیرا ج پر بلندہوتے اور چنگھاڑتے پا نیوں نے وہاں موجو لوگوں کو یا ددلا یا کہ ان پانیوں کے خا لق سے رجو ع کر نا چا ہیے ۔ان پا نیوں کے پر وردگار سے پنا ہ ما نگنی چا ہیے ۔پھر ڈھلتی شب میں مُصّلے بچھا ئے جا نے لگے ، نوافل ادا ہو نے لگے ،تسبیحا ت ہو نے لگیں، استغفار پڑھے جا نے لگے ، بھولے ہو ئے رب کو یا د کیاجا نے لگا ۔چیف انجینئر رب نوا ز، کمشنر جواد رفیق ، ڈی سی او طارق محمود غرض وہا ں مو جود ہر شخص کی التجا ؤں میں کپکپا ہٹ تھی ۔تھرتھراہٹ تھی ، گڑ گڑا ہٹ تھی
،التجا ء تھی،آنکھوں میں آنسو تھے اور زبانوں پر ذکرِخدا ۔اک طرف سینکٹروں لو گ لیفٹ ما رجنل بند پر پتھراؤ اور مٹی ڈالتے تھے جبکہ دوسری طرف تمنا ؤں میں لپٹی دعائیں ما نگنے میں مصروف افسران و اہلکاران سر اپا عجزو انکسار بنے کبھی جنا ح بیراج پر بڑھتے پا نیوں کو دیکھتے اور کبھی ایک دوسرے کی طرف حسرت و یا س کی نظر ڈالتے تھے ۔جبکہ تیسری طرف میانوالی کے لا کھوں شہری تھے جوا س صورتحال سے کچھ با خبر اور کچھ بے خبر میٹھی نیند کی آغوش میں سچے جھو ٹوں خوابوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔جناح بیرا ج پر مو جو دایک بزرگ نے بڑی خو بصورت با ت کی انہوں نے کہا کہ ’’ دنیا بھر میں دریا ؤں کا یہ غیص و غضب درحقیقت دریا ئے فرآت کی بزدلی پر احسا س ندامت ہے جو آل رسولؐ کی تشنگی پرجوش میں آنے کی بجا ئے خاموش رہا ۔دریاؤں کا اپنے وجو د سے با ہر نکلنا اُسی تشنگی کی تلا ش کا سفر ہے جو قیا مت تک جاری رہے گا۔
یہ رات بالاخر ختم ہو ئی جنا ح بیر اج پر مو جو د سینکٹروں لو گ لا کھوں لو گوں کی پر سکون نیند کو یقینی بنا نے میں مصرو ف عمل تھے ۔پو پھٹی رات کی سیا ہ چادر سے آفتاب نمو دار ہوا تو وہاں مو جو د لو گوں نے جو صبح دیکھنے کی امید کھو چکے تھے سورج نکلتے دیکھا اوران کے تھکے ،ما ندے چہروں پر امید کی کر نیں پھوٹتی نظر آئیں مگر یہ چندلمحوں کیلئے تھیں کہ عین اس لمحے اطلا ع مو صول ہو ئی کہ مزید دولا کھ کیو سک پا نی کا ریلہ چند گھنٹوں میں جنا ح بیراج پہنچنے والا ہے ۔یہ اطلا ع سنتے ہی انتظامی افسران کے ہا تھوں کے طوطے اڑ گئے ۔کیا ہو گا ، کیا کیا جا ئے، کی سر گو شیا ں آہستہ آہستہ دھیمی آوازوں اور پھر تیز سر سرا تی صداؤں میں بلند ہو نے لگیں ۔اس موقع پر محکمہ آبپا شی کے ما ہر ین نے کہا کہ مز ید پا نی کی آمد جنا ح بیرا ج سمیت ہم سب اور میانوالی کی تبا ہی ہے اس سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ کہ رائٹ ما رجنل بند کو تین مقاما ت سے اڑا دیا جا ئے تا کہ ڈیڑھ دولا کھ کیو سک پا نی جنا ح بیراج سے گزرنے کی بجا ئے اِدھر سے گزر جا ئے تب ہی بچاؤ ممکن ہے ’’مگر اس طرف تو جلا لپور کی بڑی آبا دی ہے اسے فوری طور پر کیسے نکا لا جا سکتا ہے ‘‘اسے رات ہی حفظ ما تقدم کے طور پر ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔ایک آواز سنا ئی دی ۔جو با عث اطمینا ن تھی ۔اسی لمحے اطلا ع مو صول ہو ئی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہبا ز کچھ ہی دیر میں جنا ح بیر اج پہنچنے والے ہیں ۔وہاں مو جو د افسروں کی جا ن میں جا ن آئی کہ اتنا بڑا فیصلہ اب اتنا بڑا آدمی ہی کر یگا ۔یہ بلا ہمیں اپنے سر نہیں لینا پڑے گی اور پھر سب کی نظریں آسما ن کی جا نب لگ گئیں ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف جنا ح بیر اج پہنچنے سے قبل ہی سمینٹ فیکٹری اور کھا د فیکٹری کے حکا م کو تما م مشینری اور کا رکنوں کو لیفٹ ما رجنل بند پر پہنچا نے کا حکم دے چکے تھے اور ان کی آمد سے پہلے ہی یہ مشینری اور لوگ لیفٹ ما رجنل بند پر پہنچ چکے تھے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے جیسے ہی جنا ح بیرا ج کی سر زمین پر قدم رکھا تو انہوں نے فوری طورپر رائٹ ما رجنل بند میں شگا ف کر نے کا حکم دیا اور خود لیفٹ مار جنل بند کی طرف بڑھ گئے ۔اور پھر وہاں مو جود لوگوں نے دیکھا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ خو د ہا تھوں میں پتھراٹھا کر کر لیفٹ ما رجنل بند پر ڈال رہا ہے ۔وزیر اعلیٰ کے اس ایکشن نے وہاں مو جو د لوگوں کو بڑا حو صلہ دیااور وہ تیزی سے کا م کر نے لگے جبکہ دوسری طرف ڈائناما ئٹ سے رائٹ ما رجنل بند میں تین مقاما ت پر بہت بڑے بڑے شگا ف کر دیئے گئے جس سے جنا ح بیرا ج سے گزرتے پا نی منقسم ہو نے لگے اور ڈیڑھ لا کھ کیو سک سے زائد پا نی ان شگا فوں سے گزر کر جنا ح بیر اج کے آگے سے دریا ئے سندھ سے جا ملا ۔اس کے بعد پا نی کا مزید آنیوالا ریلا بھی بخو بی گزر گیا ۔لیفٹ ما رجنل بند کی خستگی بھی دور ہو گئی اورجنا ح بیراج پر موجود لوگوں کو نہ صرف نئی زندگی ملی بلکہ ’’میانوالی ‘‘بھی بچ گیا ۔جنا ح بیرا ج پر پچھلی شب کی عبا دتیں اور ریا ضتیں شا ید پر وردِگار کو پسند آگئیں تھیں ۔اور یہ عقدہ بھی حل ہواکہ یہ سیلاب عذاب الہٰی نہیں بلکہ آزمائش تھا اک تاز یا نہ تھا ہم سب کیلئے جو لا متنا ہی بد اعما لیوں میں گم ربِ ذوالجلا ل کوآسا نیوں میں فرامو ش کر بیٹھے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو 30جو لا ئی 2010کے جنا ح بیراج کے دورے کے بعد میانوالی سے رحیم یا ر خان تک کئی مہینے دربدر ہو نا پڑا ۔کیو نکہ یہ سیلا ب بلا خیز میانوالی کے بعد ضلع بھکر ، لیہ ،مظفر گڑھ ، ڈیرہ غا زیخان ، راجن پور اور رحیم یار خان میں تبا ہی و بربا دی پھیلا تا ہوا صوبہ سندھ میں داخل ہوا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف آزمائش کی اس گھڑی میں سیلا ب سے متاثر ہ عوام کے سا تھ رہے ۔اورسیلا ب سے متاثرہ ان اضلاع کا شاید ہی کو ئی گا ؤں یا
علا قہ ایسا ہوجہاں وہ اپنے مصیبت زدہ بہن بھا ئیوں کی دلگیری کیلئے نہ پہنچے ہوں ۔اس کا اندازہ اس امر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ایک ڈیڑھ ما ہ کے قلیل عرصہ میں محمد شہباز شریف نے صرف ضلع میانوالی کے سولہ دورے کئے اورمتاثرہ افراد کی فوری بحا لی کیلئے بلا تفریق اربوں روپے کی خطیر رقم صرف کی ۔
اعصاب کو جھنجو ڑدینے والی یہ شب ختم ہو ئی کہ آخر ہر شب کی سحر ہو تی ہے مگر یہ رات اور سیلا ب عظیم اپنے پیچھے اک بہت بڑی داستان چھوڑ گیا ۔مزید براں یہ نقصان کا نہ ختم ہو نے والا سلسلہ تھا جس نے ملکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ۔دستیاب اعداد و شمار کے مطا بق 2010کے اس سیلا ب سے 20ارب ڈالر ( بار ہ سو ارب روپے ) سے زائد نقصا نات ہو ئے ۔صرف جنا ح بیرا ج کی چولیں درست کر نے اور اسے اپر یشنل حا لت میں لا نے کیلئے حکو مت کو با رہ ارب روپے کی خطیر لا گت سے جنا ح بیر اج بحا لی و تجدید کا منصوبہ شروع کرنا پڑا جو کہیں تین سال میں جا کر مکمل ہوا ۔
اس دنیا میں سیلا بوں کی یہ روایت نئی نہیں ہے ۔طوفان نو ح سے اس کا آغاز ہو ا۔جو آج تک جا ری ہے ۔ان سیلا بوں سے دنیا میں سب سے زیا دہ متاثر ہو نے والا ملک چین ہے ۔جہاں درجہ بندی کے لحا ظ سے پا نچ شدید تر ین سیلا بو ں میں 68لاکھ 76ہزار افراد ہلا ک ہو ئے ۔بیسویں صدی میں صرف 1931میں چین میں آنے والے بھیا نک ترین سیلا ب میں 25لا کھ سے 37لا کھ لوگ مو ت کا شکار ہو ئے ۔مو جو دہ صدی میں ما ہر ین ارضیا ت اور سا ئنسدانوں کی مو سمیا تی تبدیلیوں ، گلوبل وارمنگ درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گر یڈ سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضا فہ ، سمندروں کی سطح میں نو سینٹی میٹر سے 88سینٹی میٹر تک اضا فہ اور مو صلا دھار با رشوں کی پیشن گوئیاں آنیوالے سالو ں میں ان سیلا بو ں کی ہو لنا کی سے آگا ہ کر نے کیلئے کا فی ہیں ۔بلا شبہ انسان آفات و ارضی وسما وی کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر بہتر حکمت عملی سے آفات رضی وسما وی کے دوران ہو نیوالے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے ۔ بیسویں و اکیسویں صدی میں دنیا کے بیشتر مما لک نے یہ کر کے دکھا یا ہے ۔مستقبل میں آنیوالے ان سیلا بوں کے نقصان کو کم کر نے کا سب سے بڑا ذریعہ پا نی کو ذخیر ہ کر نے کیلئے ڈیم بنا نا ہے ۔گزشتہ اور مو جو دہ صدی میں دنیا کے مختلف مما لک میں42ہزار ڈیم تعمیر کئے گئے جن میں چین نے 22ہزار امر یکہ نے چھ ہزار پا نچ سو اور بھا رت میں چار ہزار چھ سو چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کئے گئے ۔ہمیں بھی ہر قسم کے تعصبات اور وابستگیوں سے با لا تر ہو کر بحثیت قوم مستقبل کے تر قی یا فتہ اور خو شحال پا کستان کیلئے کا لا با غ ڈیم سمیت ملک کے طول وعرض میں پھیلے دریا ؤں پر ان گنت ڈیم تعمیر کر نے کی ضرورت ہے ۔ان ڈیموں کی تعمیر سے سیلا بوں کی روک تھا م اور نقصانات کو کم سے کم کر نے کے ساتھ ساتھ بہت سے کثیر المقاصد فوائد حا صل کئے جا سکتے ہیں جن میں بجلی پیدا کر نا ، پانی ذخیر ہ کر نا ، بنجر و غیر آباد زمینوں کی آبا د کاری ، بیروزگاری کا خاتمہ فی کس آمدنی میں اضا فہ اور پا ئیدار خو شحالی کے ثمرات شا مل ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہما رے ملک کے سیا ستدان کر تا دھرتا اور ہر پاکستانی شہری پنجابی ، پختون ، بلو چی ، سندھی کے تعصبات کوبا لائے طاق رکھتے ہو ئے صرف اور صرف ایک پاکستانی بن کر سوچیں ۔جس روز ہماری طرز فکر میں یہ تبدیلی آگئی وہ دن ملک وقوم کے پا ئیدار مستقبل کی نو ید ثابت ہوگا ۔بقول مجید امجد
وطن چمکتے ہو ئے کنکروں کا نا م نہیں
یہ تیرے جسم، تیری رُوح سے عبا رت ہے

حصہ