دھنوان، شنوران ، رام نگر ، ستنام اور کچھی کے ناموں سے ’’میانوالی ‘‘ کی شناخت پانے والا یہ علاقہ کسی ایک زمانے یا تہذیب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کی تاریخ میں کئی زمانے اور تاریخیں ’’ دفن ‘‘ ہیں ۔ پروفیسر ملک محمد اسلم گھنجیرہ مرحوم کا دعویٰ تھا کہ اس علاقے میں مسلمان بلوچستان اور سندھ کی فتح سے بھی پہلے پہنچے ۔ یہ علاقہ44 ہجری تا 665/666 عیسویں کی اُن اسلامی فتوحات میں شامل ہے جن میں صحابہ کرام نے بھی حصہ لیا تھا ۔ ۔ سترہ اکتوبر1901 ء کو انگریز سرکارکے نوٹیفیکیشن نمبر995 کے تحت میانوالی تحصیل کو ضلع بنوں سے علیحدہ کرکے الگ ضلع کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس علاقہ کے باب الاسلام ہونے کے بارے میں اکثر و بیشتر دعویٰ بھی سامنے آتا ہے ۔ لیکن اس علاقے کی معاشرت علم و فن کے اثرات کو قبول کرکے ترقی نہ کر سکی ۔اس پسماندگی کی بنیادی وجہ یہاں کا نیم قبائلی سماج رہا ہے2001 تک اس علاقے میں قدیم بابلی تہذیب سے مستعار لی گئی ’’ونی ‘‘ کی فرسودہ اور مکروہ رسم ایک معاشرتی رواج یا روایت کے طور پر رائج رہی جس کی وجہ سے سینکڑوں دوشیزائیں اپنے خاندان کے مردوں کے جرائم کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ صحافیوں کی جدو جہد کے نتیجے میں اگرچہ ونی کی گھناونی رسم کو غیر قانونی اور قابل گرفت قرار دے دیا گیا ہے لیکن چوری چھُپے یہ غیر انسانی رسم اب بھی سانس لے رہی ہے ۔لیکن ایک صد سولہ سالہ پرانے اس ضلع میں اب شعور کی شمع فروزاں ہوتی نظر آتی ہے ۔ سرگودھا یونیورسٹی کا سب کیمپس جو2012 ء میں گورنمنٹ کالج فار بوائز کیمپس کے چند کمروں میں شروع ہوا تھا اب اپنی عمارت کا مالک بن چُکا ہے۔ یہ یونیورسٹی اس علاقے کے سماج میں تبدیلی کی بنیاد بن رہی ہے ۔ ضلع میانوالی کی ایک سو سولہ سالہ تاریخ میں میانوالی کے کریڈٹ پر بڑے بڑے نام ہیں ان میں سے بہت سے نام اور خاندان سیاسی حوالوں سے کافی نمایاں ہیں۔ اس علاقے کے سیاستدانوں کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ یہ ہمیشہ اقتدار کی منڈیروں پر چہچہانے کے عاد ی ہیں ماضی میں مجاہدِ ملت مولانا عبد الستار خان نیازی ؒ اور اب عمران خان کے علاوہ یہاں کے سیاست دان اپوزیشن کی سیاست سے الرجک نظر آئے ۔ اقتدار کی راہداریوں اور غلام گردوشوں تک رسائی کے باجود کسی نے بھی یہاں تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف توجہ نہیں دی ۔ ماضی قریب کے دور تک ضلع میانوالی کی سیاست کا مرکز و محور محکمہ تعلیم رہا ہے لیکن صرف سیاسی مقاصد کے لیئے تبادلوں اور تقرریوں کی حد تک ۔ گذشتہ دو تین سالوں سے سرگودھا یونیورسٹی کے ثمرات نے میانوالی کی فضا کو علم و دانش کی شمع سے فروزاں کرنا شروع کیا تو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت سرگودھا یونیورسٹی کے قیام کے کریڈٹ کے حوالے سے میانوالی کے سیاستدانوں کو محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اس کیمپس کے قیام کے حوالے سے سابق ایم اپی اے علی حیدر نور خان نیازی کے کردار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا ۔ میانوالی کے سیاستدانوں کے کریڈٹ پر تعلیمی اداروں کا قیام خال خال ہی نظر آتا ہے ۔ علی حید ر نور خان نیازی کے سیاسی نظریے سے اختلاف رکھنے والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پانچ سالہ عرصہ میں میانوالی شہر کو یونیورسٹی کے سب کیمپس سمیت موسیٰ خیل اور واں بھچراں میں ہائر سکینڈری سکولوں اور گرلز کالجز کے تحفے دیئے ہیں ۔ تعلیمی ادارے معاشروں میں بنیادی تبدیلیوں کی بنیاد اور جواز بنتے ہیں اس لیئے ماضی کے روایتی سیاستدانوں نے اس میدان میں ترقی سے گریز کیا ۔’’ نیلاب نیوز نیٹ ورک‘‘ کو یونیورسٹی آف سرگودھا کے حوالے سے ملنے والی دستاویزی معلومات سے یہ حقیقت سامنے آئی کی اس سب کیمپس کے قیام کا بنیادی اور کلیدی کریڈٹ سابق ایم پی اے علی حیدر نور خان نیازی کو جا تا ہے ۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق’’ چودہ مئی 2012 ء کو لاہور میں میانوالی کے حلقہ پی پی45 سے رکن پنجاب اسمبلی علی حیدر نور خان نیازی کی وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے میانوالی میں یونیورسٹی آف سرگودھا کے سب کیمپس کے قیام کا مطالبہ کیا ۔ اس ملاقات کے دو دن بعد ندیم حسن آصف پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ پنجاب نے چیف منسٹر ڈاریکٹیو جاری کیا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے علی حیدر نور خان نیازی کے متذکرہ با لا مطالبے کی منظور ی کے حکم سے کمشنر سر گودھا ڈویژن ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا اور ڈی سی او میانوالی کو آگاہ کیا گیا ۔13617493_1125274664210558_2060931162_n
31 مئی 2012 ء کو ذوالفقار احمد ڈی سی او میانوالی نے اپنی چٹھی نمبر ی 1212/DCO/Hc کے ذریعے وایس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا کو وزیر اعلیٰ کے احکامات کے مطابق میانوالی میں سب کیمپس کے قیام کے لیئے جلد مناسب اور فوری اقدامات کے لیئے کہا ۔ اس چٹھی کی نقول علی حیدر نور خان نیازی ایم پی اے ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سمیت تمام متعلقہ اتھارٹیز کو ارسال کی گئیں ۔ اس کے بعد تیرہ جون 2012 ء کو ذولفقار احمد ڈی سی او میانوالی کی صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا اجلاس کے شرکاء کو ڈی سی او میانوالی کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے بغیر کوئی وقت ضائع کیئے بغیر یونیورسٹی کے سب کیمپس کے قیام کے احکامات ہیں ۔ اجلاس کے شرکاء نے وزیر اعلیٰ کے احکامات کی فوری تعمیل کو یقینی بنانے کے لیئے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج میانوالی کے ایک بلاک اور بعض اضافی کمروں میں سب کیمپس کے قیام کی منظوری دی ۔ اس اجلاس کی کارروائی ڈی سی او میانوالی کی جانب سے چٹھی نمبری 1154/DCO/Hcg مورخہ21.06.2012 کے ذریعے وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری ، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ،ایم پی اے علی حیدر نور خان نیازی ، کمشنر یونیورسٹی آف سرگودھا ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا ، رجسٹرار یونیورسٹی آف سرگودھا اور گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج میانوالی کو ارسال کی گئی۔ ان بنیادی اقدامات وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی اور علی حیدر نور خان نیازی کی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں میانوالی میں سب کیمپس کی صورت میں یونیورسٹی کی بنیاد رکھ دی گئی ۔
13595782_1125276470877044_1833402041_n
علی حید ر نور خان نیازی کی کاوشوں سے یونیورسٹی کے لیئے 25 کروڑ روپئے کی گرانٹ کا ڈائریکٹیو بھی جاری ہوا ۔جو نجم سیٹھی کی نگران حکومت کی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ بعد ازان پنجاب حکومت کی جانب سے 80 کنال اراضی بھی فراہم کی گئی ۔ جس پر یونیورسٹی کے اپنے وسائل سے عمارت تعمیر کی اور اس یونیورسٹی کی ترقی کا سفر جاری ہے ۔
اس میانوالی کیمپس میں بارہ مختلف شعبہ جات میں 3300 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ضلع میانوالی میں جہاں خواتین کے لئے تعلیم کے مواقع انتہائی کم ہیں اور یہاں کے لوگوں کی معاشی حالت سے بڑھ کر سماجی روایات کی وجہ سے طالبات دوسرے علاقوں میں نہیں جا سکتیں آج میانوالی کیمپس میں 2200 کے قریب طالبات زیر تعلیم ہیں اگر اس کیمپس کا وجود نہ ہوتا تو ان میں سے بمشکل ایک سو طالبات دوسرے شہروں میں حصولِ علم کے لئے جا سکتی تھیں اور باقی بچیوں نے گھر بیٹھ جانا تھا ۔13595989_1125275257543832_91367312_n
بابائے قوم حضرت قائد اعظم ؒ نے لاہور میں اپنی 350 ایکڑ ذاتی ا راضی پنجاب یونیورسٹی کے حوالے کر دی تھی ،میانوالی میں صاحبِ ثروت افراد کی کمی نہیں ۔ اس اُمید کا دیا روشن ہے کہ علی حیدر نور خان نیازی جیسے جواں جذبوں کے علمبردار سیاستدان کے ایک اچھے عمل کی تقلید کی جائے گی اور میانوالی کے سماج کو علم کی روشنی سے منور کیا جائے گا ۔5479_786135978197632_8961264341237189008_n

حصہ