اکسویں صدی کاپاکستان
کالاباغ شہر کا محنت کش اپنے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہونے سے بچانے کے لئے سائیکل رکشہ جیسے غیر انسانی وسیلہ روزگار سے وابستہ ہے ۔
رپورٹ ۔انوار حسین حقی
__________________________________________
دریائے سندھ کے شمالی کنارے اور سلاگر پہاڑ کی ڈھلوان پر آباد سینکڑوں سال پرانے شہر کالاباغ کامحنت کش اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بھرنے کے لئے ’’ سائیکل رکشہ‘‘ کے ذریعے جانوروں کی طرح انسان کا بوجھ کھینچنے پر مجبور ہے۔عظیم مسلمان فاتح سلطان محمود غزنوی کے دور میںآباد ہونے والے اور سابق گورنر مغربی پاکستان ’’ نواب امیر محمد خان آف کالاباغ کی وجہ سے ملک گیر شہرت حاصل کرنے والے اس شہر میں سائیکل رکشہ کی مزدوری کم و بیش ڈیڑھ صدی سے رائج ہے۔کالاباغ شہر کے ڈیڑھ سو سے زائد خاندان اس غیر انسانی وسیلہ روزگار سے وابستہ ہیں۔ایک وقت میں سائیکل رکشہ والا چار آدمیوں کا بوجھ کھینچتا ہے۔سائیکل رکشہ چلانے والے اس غیر انسانی پیشے کی وجہ سے ٹی بی ،جوڑوں اور پیٹ کی بیماریوں سمیت کئی خطر ناک بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔سائیکل رکشہ چلانے والوں کا کہنا ہے۔ غربت بے روزگاری اور کسمپرسی کی وجہ سے وہ جانوروں کی طرح انسان کا بوجھ کھینچنے پر مجبور ہیں۔ دو عشرے قبل تک پاکستان کے دو شہروں ڈیرہ اسماعیل خاں اور بہاولپور میں بھی سائیکل رکشہ کی مزدوری رائج تھی۔ حکومت نے ان علاقوں میں اس غیر انسانی مزدور ی پر پابندی عائد کر تے ہوئے انہیں متبادل روزگار فراہم کردیا تھا۔ لیکن کالاباغ کا غریب محنت کش اکیسویں صدی کے اس دور میں بھی ارباب اختیار اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا نعرہ لگانے والی تنظیموں کی نظرِ التفات کا منتظر ہے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں جب جانورروں سے بھی بار برداری کا کام لینا وحشیانہ تصور کیا جاتا ہے کالا باغ شہر کا محنت کش اپنے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہونے سے بچانے کے لئے سائیکل رکشہ جیسے غیر انسانی وسیلہ روزگار سے وابستہ ہے ۔کیا حکومت اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیمیں کبھی اس جانب کوئی توجہ دیں گی ۔یا یہ محنت کش یونہی تلخی ایام کا ایندھن بنتے رہیں گے۔

حصہ