میانوالی کی لو ، اندھاری اور گُڑ دا حلوہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہریش چند نکڑہ کا وچھڑا وطن ( چھٹی قسط )

’’لُو اور ’’اندھاری‘‘
میانوالی کا موسم سرما(سیالا)شدید سرد اور خشک تھا۔درجہ حرارت دو یا تین سینٹی گریڈ تک گر جاتا تھا۔بعض اوقات صبح کے وقت پانی کے اوپر برف کی تہہ نظر آتی اور کھلے میدانوں میں دھند بھی چھائی ہوتی۔موسم گرما بہت گرم اور لمبا تھا جو مارچ میں شروع ہوکراکتوبر میں ختم ہوتا۔ درجہ حرارت اڑتالین(48) سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا اور کئی مہینے چالیس سے زیادہ ہی رہتا۔موسم کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوجا تاجب گرم ہوایں(لُو) چلا کرتیں اور ان کے علاوہ بہت شدید گردیلے طوفان(اندھاری یا جکھڑ) بھی آتے ۔جن میں کبھی کبھی بگولے(واجھولنا) بھی شامل ہوجاتے۔یہ بگولے اتنے طاقت ور ہوتے کہ کپڑے،بستروں کی چادریں،گدے اور کبھی کبھی چارپائیاں بھی کئی کئی گز دور جا گرتے مجھے آج بھی وہ مشہور کہاوت یاد ہے جو میانوالی کی تین مشہور چیزوں کو ظاہر کرتی ہے۔
’’میانوالی دی اندھاری،کھاندی کراڑی تے دھاری شاہ پساری۔‘‘اندھاری تو وہ جس کا میں اورٍ کر کرچکا ہوں۔دھاری شاہ ایک مشہور ایورویدک ڈاکٹر(وید یا حکیم)تھا جو پورے ضلع میں اپنی یونانی اور ایورویدک دوائیوں کیلئے مشہور تھا۔اور سب سے آخری ایک ہندو عورت تھی جس کا نام کھاندی کراڑی تھا۔یہ ایک جھگڑالو عورت تھی جو ہر وقت غصے اور لڑاکا مزاج کیلئے مشہورتھی۔کسی بھی طبقے یا رتبے کے کسی شخص میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس کے پا س سے گزرتا یا اس سے بحث کرتا۔
گرمی کا توڑ
گرمی دانوں کیلئے چکنی مٹی
میانوالی ایک صحرائی علاقہ تھا۔جس کی وجہ سے صبح کا وقت نسبتاً خوشگوار ہوتا۔لیکن دوپہر کو ناقابل برداشت حد تک گرمی ہوجاتی۔زیادہ تر لوگ ہاتھ والے پنکھے کے ذریعے ہوا حاصل کرکے تسکین حاصل کرتے۔ان دستی پنکھوں کو کھجور کے پتوں سے بنایا جاتا تھا اور یہ مختلف سائز اور ڈیزائن میں ملتے تھے۔بعض گھروں میں چھت والے پنکھے بھی تھے۔چارچھ فٹ لمبا لکڑی کا ایک تختہ افقی طور پر چھت کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیاجاتا جس کے نیچے دو یا تین فٹ چوڑی پٹ سن کے کپڑے کی جھالر لگی ہوتی۔جب اس تختے کوجھولے کی طرح ہلایا جاتاتوجھالر کی وجہ سے پورے کمرے میں ہوا چل پڑتی۔غریب لو گ ان پنکھوں کو خود ہی ہلاتے جبکہ صاحب حیثیت لوگوں نے اس کام کیلئے ملازم رکھے ہوتے تھے۔
گرمی اتنی شدید ہوتی کہ اکثر لوگوں کو پورے جسم پر گرمی دانے(پِت) نکل آتے۔بہت سے لوگ متاثرہ حصوں پر ایک خاص قسم کی مٹی جسے ’’چکنی مٹی‘‘ یا ملتانی مٹی کہتے تھے۔کالیپ لگاتے تاکہ جلن ختم ہوسکے۔ کئی لوگوں کوہیٹ سٹروک ہوجاتا۔لوگ دھوپ میں نکلتے ہوئے اپنے سر اور چہرے گیلے کپڑ ے سے ڈھانپ لیتے تاکہ گرمی اور پسینے سے محفوظ رہیں۔
ہیٹ سٹروک سے بچنے کے کئی نسخے تھے مثلاً کچے پیاز کھانا اور کچی لسی پینا۔باداموں، خشخاش،الائچی اور چینی کو پیس کر ان کاملیدہ تیار کرکے برف والے پانی میں حل کرکے لیا جاتا۔اس خاص مشروب کو سردائی کہتے تھے۔جو کہ امیر لوگوں کا پسندیدہ تھا۔ یہ بہت ہی تازگی بخش ٹھنڈک افزاء اور قوت پہنچانے والا مشروب تھا۔
سردی کا مقابلہ گڑ دا حلوہ
سردیوں کے آتے ہی گرم کپڑے جیسے جرسیاں مفلر اور اونی ٹوپیاں ہمارے گھروں کے صندوقوں سے نکال لئے جاتے۔ایک طرف تو گرمیوں میں ہمیں بستر پر سوتے وقت ایک پتلی سی چادر بھی اوڑھنے کی ضرورت نہ پڑتی اور دوسری طرف سردیوں میں موٹی رضائیوں کا استعمال ضروری ہوجاتا۔یہاں تک کہ دن میں بھی کئی لوگ کمبل،کھیس حتیٰ کہ رضائیاں تک بھی لپیٹ کر گھومتے نظر آتے
شدید سردی کے مہینے،دسمبر اور جنوری جن میں درجہ حرارت انتہائی کم ہوجاتا۔اس میں اکثر لوگ بخار،کھانسی،زکام اور ناک بہنے جیسی بیماریوں کا شکار ہوجاتے۔ان بیماریوں کا ایک مفید پہلو یہ تھا کہ ان کے علاج کیلئے جو نسخے استعمال ہوتے تھے ان میں بڑے مزے کی کھانے کی چیزیں شامل تھیں۔مثلاً بیسن دی روٹی،اور گڑ دا حلوہ۔پانی اور گڑیا چینی کے ساتھ بیسن کاآٹا گوندھ لیا جاتا۔اس آٹے کو چھوٹی کڑاہی میں تلا جاتا جس میں وافر مقدار میں دیسی گھی یا مکھن ڈالا جاتا۔’’گڑ دا حلوہ‘‘گڑ کی بنی توانائی بخش،گھی میں تر ،ایک اور مزیدار ڈش تھی۔
اللّٰہ اللّٰہ مینہ وسا
میانوالی میں بارش بہت کم ہوتی۔کسانوں کے علاوہ بھی تمام لوگ نہایت بے چینی سے اس کا انتظار کرتے اور اسے خدا کی مہربانی تصورکیا جاتاگرمیوں میں لوگ یوں دُعاکرتے۔
’’اللہ مینہ وسا۔ساڈی جھولی وچ دانڑے پا‘‘
’’اے اللہ ہمیں بارش دے جس سے ہمیں اناج حاصل ہو۔‘‘
مجھے آج بھی وہ میٹھی خوشبویاد ہے جو تپتے ہوئے فرش پر بارش کیپہلے قطرے پڑنے کے بعد پیداہوتی تھی۔
میانوالی میں صرف دو موسم تھے۔ سردی اور گرمی ۔گرمی کی تپش کبھی کبھی بارش سے کم پڑ جاتی۔جہاں تک بہار ،اس کے سبزے اور مہکتے پھولوں کا تعلق ہے تو ہو ہم صرف کتابوں میں پڑھتے تھے۔میانوالی میں موسم بہار نہیں آتا تھا۔ اور نہ ہی ہمیں خزاں یا سوکھے،زرد گرتے ہوئے پتوں کی پت جھڑ کا علم تھا۔

حصہ