“حسین لوگ”حسین احساس”اورانتہائی “حسین یادوں”کاشہربہاولپور

230

تحریر: دانش رحمان دانش-

کچھ چیزیں انسانی زندگی پہ گہرااثرچھوڑتی ہیں اورانسان ساری زندگی ان سےلاتعلق نہیں ہوسکتا. ایسےہی کچھ شہرانسان کےلئیےبہت اہم ہوتےہیں اورہماری زندگی کےمختلف ادوار(ماضی,حال,مستقبل)کوکسی نہ کسی طرح سےمنسلک رکھتےہیں.میری ذات سےوابسطہ ایک ایساہی شہر”بہاولپور”ہے,نہ تومیں اس شہرکاباسی ہوں اورنہ میراجنم اس جیسےحسین شہرمیں ہوا. بچپن سےلیکرآج تک اس شہرنےمجھےایک مُسافریامہمان کی حیثیت سےدیکھااورہمیشہ ہی انتہائی پُرخلوص اندازسےمیزبانی کی جسکامیں تہہ دل سےشُکرگُزاررہوں گااورساتھ ہی یہ افسوس بھی دل میں رہےگاکہ میں اس شہرکواپنانہیں کہہ سکتا.
“مریم نیاز”صاحبہ سےہماری کافی اچھی دوستی ہےاورہماراتعلق بھی ایک ہی شہرسےہےیہ بھی حسین اتفاق ہےکہ انہیں بھی کسی وجہ سےبہاولپورکافی پسندہےوہ الگ بات کہ انہوں نےکسی نہ کسی طرح اسےاپنابنالیالیکن ہمارےلئیےشایدیہ خواہش ہی رہےگی.مجھےتوبہاولپورآنےکاکوئی بھی بہانہ چاہئیے, یہاں کوئی بہانہ مِلانہیں اورمیں دوڑکےپہنچ گیابہاولپور, خیراس بارتوبہاولپورآمدکی بظاہروجہ مریم صاحبہ سےمُلاقات تھی,, دراصل ارادہ توہمارا فیصل آبادمیں منعقدمحفل میں آنےتک کاتھالیکن فیصل آبادسےبہاولپورکاسفرہی کتناہےدوچاربارآنکھیں بندکرکےکھولیں اورآگیابہاولپور کم ازکم ہماراتواتناہی سفرتھا. خیرہم تقریباًشام آٹھ بجےمریم صاحبہ کےگھرپہنچےاورتقریباًڈیڑھ گھنٹہ انکےمہمان رہےجس دوران چائےسےلطف اندوزہونےکےساتھ ساتھ ان کااندازسخن ہمارےدل کولُبھاتارہا.مریم صاحبہ اردوادب سےبےپناہ محبت رکھنےکےساتھ ساتھ ہماری طرح”معراج فیض آبادی”کی فریفتہ ہیں اوراسی لئیےمعراج صاحب کی شاعری سےشمعِ محفل کافرض نبھاتی رہی, کافی دیرردیف وقافیہ میں اُلجھےرہنےکےبعدہم نےاُن سےاجازت چاہی حالانکہ ہمارےقیام کابندوبست تووہ کرچُکی تھیں لیکن بہاولپورمیں ہمارےکُچھ اورچاہنےوالےیاپھریوں کہہ لیں “جنہیں ہم چاہیں” یعنی ہماری چاہتیں بھی بہت ہیں جہاں قیام کافیصلہ ہم پہلےہی کرچُکےتھے, مریم صاحبہ نےہمیں منزل تک پہنچانےکاانتظام کرناچاہاتوہم نےمنع کرتےہوئےاجازت طلب کی اوراپنی مددآپ کےتحت وہاں سےچل پڑےاپنی اگلی منزل کی جانب.
اب وہاں سےنکلےتوہم یہ سوچ کرتھےکہ سیدھااپنی مُمانی کےیہاں جائیں گےجہاں کہ ہمیں ٹہرناتھالیکن معلوم ہواکہ وہ کسی کام کےسلسلےمیں گھرسےباہرہیں اب گھربندہونےکی وجہ سےگھرتوجانہیں سکتےتھےتوہم آوارہ مسافروں کیطرح ایک انجان گلی سےدوسری میں ٹہلنےلگےاتنےمیں مجھے”سرائیکی چوک”کاخیال آیاجب بھی بہاولپورآناہوتااس چوک سےگُزرہوتاتھالہذااپنےموبائل فون سےنقشہ نکالااورچل دیا”سرائکی چوک”کیجانب,تھوڑی دیرمیں سرائکی چوک دکھائی دینےلگی اورمیں ماڈل ٹاؤن کی خاموش وتاریک گلیوں سےایک دم انتہائی روشن اورقدرےبھیڑبھاڑوالےعلاقے میں آگیا, “قدرے”اس لئےکہ اس سےپہلےمیری زیادہ ترشامیں راولپنڈی کےراجہ بازار,بنی چوک فوڈسٹریٹ, فیصل آبادکےگھنٹہ گھر, اورلاھورکےایک مشہورمقام(….) میں گُزری ہیں جہاں سردردکردینےوالاشوررہتاہے جبکہ بہاولپورمیں اتناشورغل اوررش مجھےنظرنہیں آیااوربھیڑبھاڑوالےعلاقوں جیسےکہ بس سٹاپ, ریلوےاسٹیشن, اورچندمرکزی شاہراؤں پربھی کافی سکون محسوس ہوتاہے. بہرحال سرائکی چوک پہنچتےہی ہم نےایک گہری سانس لی اورآس پاس نظردوڑائی توایک مشہوربیکری کودیکھااورغالباًہمارےماموں ان کی مٹھائی کی بہت تعریف کرتےتھےتوہم نےبھی ان کایقین کرتےہوئےیہاں تک آجانےکاحق اداکرنامناسب سمجھا.


اب دوبارہ نقشہ کھولااورآگےکاسوچتےہوئےآس پاس کی سڑکوں کےنام پڑھنےلگا, مجھےریلوےروڈپرچلتےہوئےریلوےاسٹیشن پہنچنازیادہ مناسب لگاچونکہ ماموں کاگھربھی وہاں سےنزدیک پڑتاتھا اورویسےبھی میرےمطابق ریلوےاسٹیشن کسی بھی شہرمیں فراغت کےلمحےگُزارنےکےلئےایک بہترین مقام ہوسکتاہے, تھوڑی دیرمیں رکشےکےذریعےریلوےاسٹیشن پہنچااور ریلوےاسٹیشن کےاحاطےمیں مرکزی لان کےگردرکھےمیزوں میں سےایک پربیٹھ گیااورسگریٹ سُلگھاتےہوئےویٹرکوچائےکاکہااوراپنےگردنگاہ دوڑاتےہوئےماحول کاجائزہ لیاتومیں نےتقریباًمعاشرےکےہرطبقےکی نمائندگی کومحسوس کیا. جہاں مختلف مسافراوران کےساتھ آئےلوگ چائےخانوں کی زینت بنےتھےتوکہیں دن بھرکی محنت مشقت سےتھکےمزدورتاش کےپتوں میں سکون ڈھونڈرہےتھے, وہیں ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور ریلوےاسٹیشن سےنکلنےوالےمسافروں کےمنتظرتھےتوقُلی حضرات کی نظریں سامان اُٹھائےافرادکوتلاش رہی تھیں. میری بائیں جانب کی میزپربیٹھےچندغیرتعلیم یاپھرکم تعلیم یافتہ افرادانتہائی اچھاتبصرہ کررہےتھے, اب آپ کچھ بھی کہیں وہ تبصرہ کسی بھی نیوزچینل کےٹاک شومیں ہونےوالے دانشوروں کےتبصرےسے اورکسی لکھاری کےکالم سےتوبہت ہی اچھاتھا کیونکہ نہ توانہیں اس کامعاوضہ ملناتھااورنہ ہی انکےسر پرکسی “شوکاز” کی تلوارلٹک رہی تھی اس لئےان کی باتوں میں کافی حقائق تھے.
اب جہاں اتناکچھ دیکھاوہاں خواب دیکھنےپرپابندی تھوڑی نہ ہے؟ ہم سب خواب دیکھتےہیں اپنی ضروریات, خواہشات, اورترجیہات کےمطابق, ایسےہی دو ادھیڑعمرکےافرادمیری دائیں جانب کی میزپربیٹھےپرائزبانڈ کانمبرلگنےاورپھراس کےبعدتمام مسائل کےحل ہوجانےکےحسین خواب دیکھنےمیں مصروف تھے اورتمام وقت اسی بحث میں مصروف رہے.
“کچھ چاہئیےصاحب ؟”تقریباًتیس سال کاموٹاتازہ شخص سوالاً مجھ سےمخاطب ہواتومیں نےحیرت سےاسکی طرف دیکھااورپھروضع قطع سےاندازہ لگالیا, “وقت کم ہےمیاں! ورنہ کیوں نہیں” میں نےمسکراتےہوئےاُسےجواب دیا اورساتھ ہی لان میں بیٹھ کرریڈیوسنتےاردگردکی دُنیاسےلاتعلق شخص کودیکھنےلگاجسےاپنےاردگردسےکچھ سروکارنہ تھااوراپنی ہی دُھن میں مگن تھا, ہرچیزسےبےخبر ہرشخص سےلاتعلق, ایک انسان کوایساہی ہوناچاہئیے خوش رہنےکےلئے, سکون کےلئے, لیکن میری بات الگ ہےمیں ایک لکھاری ہوں اورمیرےلئےمشاہدہ ہی سب کچھ ہے…بس میری نظریں توایک سےدوسرےاورپھرتیسرےشخص پرمُنتقل ہوتی ہی رہیں گی. اتنےمیں محسوس ہواجیسےکوئی مجھے گھوررہاہے,چارپانچھ افرادایک میزپربیٹھےمسلسل بڑےنامناسب اندازمیں مجھےگھورےجارہےتھےجیسےمیں کسی اورسیارےسےآیاہوں, آپ سب کوزندگی میں کم ازکم ایک بارتواسطرح گھورےجانےکااتفاق ہواہی ہوگا, خیرمجھےتواس کی عادت ہےلیکن میرامشورہ ہےاگراس معاشرےمیں رہناہےتوپھرآپ کوبھی اس کی عادت ڈال لینی چاہئیےکیونکہ ایسےلوگ آپکوتقریباًہرمحفل اور ہردفتر غرض ہرمقام پہ ہی مل جائیں گے.
اب شہرکاحُسن اپنی جگہ لیکن حسینائیں تواپنی الگ ہی اہمیت رکھتی ہیں کسی کی ذندگی میں بھی اورکسی کےدِل میں بھی, ایسی ہی ایک حسینہ کودیکھنےکااتفاق بھی ریلوےاسٹیشن پرہوگیا, مجھےعورت سےپیارکرناتوآتاہےلیکن عورت کےخدوخال بیان کرناتھوڑامشکل ہے…. مختصریہ کہ ہرلحاظ سےوہ اتنی توحسین تھی کہ ایک اہل قلم کادل اس پہ فداہوسکتا, میں نےاُٹھ کراس کےپاس جانےکافیصلہ کیااورابھی سوچ ہی رہاتھاکہ موبائل فون کی گھنٹی بجی اورہمیں معلوم ہواکہ ہمیں لینےہمارےمیزبان ریلوےاسٹیشن پہنچ چُکےہیں اوراتنےمیں وہ دلفریب حسینہ ہماری آنکھوں سےاوجھل ہوچُکی تھی اورہم اپنےماموں جان کےگھرکےلئےروانہ………

ایک شعرکسی کی نذر

تیراہونےسےہی, اس شہرکواعزازملےسب
یہ تیراشہرنہ ہوتا,تومیں اک لفظ نہ لکھتا

حصہ