لاچارگی
حفیظ اللہ گیلانی کے سرائیکی افسانہ ’’زیبو‘‘ کا اردو ترجمہ، عنایت عادل کی قلم سے۔۔۔

رابیل کی پیدائش کے بعد ویسے تو زیبو کافی صحتمند ہو گئی تھی لیکن رابیل کے بعد اس کا ایک اور بچہ پیدا ہواتو گاؤں میں صحت کی سہولیات، خاص طور پر زچہ بچہ کے حوالے سے کسی قسم کی سہولت کی عدم دستیابی کی وجہ سے ، ایک طرف جہاں زیبو کا یہ بچہ ایک ہفتہ سے زیادہ تک زندہ نہ رہ سکا وہیں زیبو بھی شدید بیمار ہو گئی۔مجبوری، ثقافت اور عقائد کی بدولت رائج مختلف طریقوں کو آزماتے ہوئے تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے، حکیموں طبیبوں کی پھکیاں اور نہ جانے کس قسم کے ترلے کئے گئے لیکن جب اس کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو اسے روایت کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔لیکن وہاں بھی زیبو کی طبیعت دن بدن بگڑتی ہی چلی گئی۔
ویسے تو ان لوگوں کو ہسپتال میں داخل ہوئے ایک ہفتہ سے بھی زیادہ ہو چکا تھا لیکن آج ڈاکٹر حسن نے پنل کو ایک طرف لے جا کر بتایا کہ آپ لوگوں کے سابقہ بقایا اور آئندہ دنوں کے علاج کی خاطر کم از کم ساٹھ ستر روپے کی ضرورت پڑے گی۔۔اور اگر یہ رقم برابر نہ ہو سکی تو پھر زیبو کے لئے انجکشنوں اور دیگر دوائیوں کے جاری نہ رکھ سکنے کی وجہ سے علاج بہت مشکل ہو پائے گا۔
پنل نے تو پہلے ہی اپنی تمام جمع پونجی زیبو کے علاج پر خرچ کر دی تھی۔اس نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے ڈاکٹر کی جانب دیکھا اور پھر وہ اپنی بیوی کی چارپائی کے سرہانے بیٹھ گیا۔زیبو عمر کے لحاظ سے گو کہ اتنی پختہ نہ تھی لیکن دیہات کی ان پڑھ لڑکیاں بھی شعور اور معاملہ شناسی کے لحاظ سے بھی کافی سمجھدار سمجھی جاتی ہیں۔زیبو نے پنل کا اترا ہوا چہرہ دیکھا تو معاملے کوبھانپتے ہوئے بولی۔۔’’اب کیا ہو گا پنل۔۔؟ میں تمہیں کہتی بھی تھی کہ مجھے شہروں اوور بازاروں کے ہسپتالوں میں ذلیل مت کرو۔۔ہم غریبوں کے پاس اتنا سرمایہ کہاں ہوتا ہے جو ان ڈاکٹروں کے خرچے برداشت کر سکیں۔۔ ہمارے لئے وہی حکیم خدا بخش کی پڑیاں اور پیروں فقیروں کے دم درود کافی ہوتے ہیں۔۔اگر بچ گئے تو واہ واہ اور ااگر مر گئے تو۔۔۔۔۔‘‘۔ اچانک زیبو کے پہلو میں درد اٹھا اور اس نے ’’وائی‘‘ کی آواز کے ساتھ دونوں ہاتھ اپنی پسلی پر رکھ لئے۔پنل نے لپک کر اس کے پہلو کو سہلانا شروع کر دیا اور پوچھا۔۔’’
’’ کیا ہو گیا۔۔۔؟؟؟‘‘
’’ کچھ نہیں۔۔ بس درد رلا دیا کرتے ہیں۔۔پنل۔۔ میں کہہ رہی تھی کہ بچ گئے تو واہ واہ اور اگر مر گئے تو پھر بس گھر گئے۔ دو گز کفن کا خرچہ، مگر تم میری بات بھلا مانتے ہی کب ہو۔۔‘‘ زیبو درد کی وجہ سے کبھی کراہنے لگ جاتی مگر پھر اپنی بات جاری رکھتی۔۔’’جو چار پیسے میں نے رابیل کے جھمکوں کے لئے سنبھال رکھے تھے وہ تو تم نے میرے علاج پر ضائع کر دئیے۔اوپر سے قرض کا بوجھ بھی الٹا سر پر آ پڑا ہے۔اللہ بھلا کرے فضلو جت کا کہ اس نے میری حالت کو دیکھتے ہوئے کرایہ بھی نہیں لیا۔۔ نازو دکاندار کا پہلا ادھار جو تھا سو تھا، پھر اس سے مذید ادھار لینے کی کیا ضرورت تھی۔۔اب جب واپس گاؤں جائیں گے تو یہ سب قرض دار سر آ جائیں گے۔بھاڑ میں جائے ایسا علاج اور ایسے ڈاکٹر۔۔‘‘
پنل اسکی ساریں باتیں اطمینان کے ساتھ سنتا رہا۔۔لیکن وہ دل میں پختہ ارادہ کئے بیٹھاتھا کہ چاہے گھر کا تمام ترکہ نیلام ہی کیوں نہ کرنا پڑ جائے، زیبو کا علاج تو ہر صورت کروائے گا۔وہ زیبو کی پیشانی پر ہولے سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔’’دیکھ زیبو۔۔۔ رابیل کا وجود تم سے اور میرا وجود تم دونوں سے ہے۔اگر ہم تینوں میں سے کوئی ایک روح بھی ادھر ادھر ہوئی تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔۔میں اب گاؤں جا کر رابیل کو بھی دیکھ آتا ہوں اور۔۔۔۔‘‘
پنل بات کرتے کرتے خاموش ہو گیا تو زیبو نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ پنل کا ہاتھ اپنی پیشانی سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پنل کی جانب دیکھے بغیر کہنے لگی۔۔ ہم تین نہیں، چار زندگیاں ہیں، تم، میں ، رابیل اور ہماری بھوری گائے۔۔مجھے پتہ ہے آگے تم کیا کہنا چاہتے ہو۔۔اس لئے اب ذرا میری بات بھی سن لو۔۔بھوری گائے بیچ کر اگر تم نے میرا علاج کروانے کی کوشش کی تو میں کسی صورت بھی نہیں بچ پاؤں گی۔مجھے جس طرح رابیل کی یاد آتی ہے کہ کیا پتہ اس نے روٹی کھائی ہو گی، میرے لئے وہ روتی ہو گی،ضد کرتی ہو گی۔۔ اسے میرے بغیر نیند بھی آتی ہو گی یا کہ نہیں، اسی طرح مجھے اپنی بھوری گائے کی بھی فکر لاحق رہتی ہے کہ نہ جانے اس کے چارے پانی کا بندوبست کون کرتا ہوگا۔۔‘‘
زیبوکی آنکھوں سے جیسے آنسوؤں کی آبشار سی پھوٹ پڑی اور وہ ہچکیاں لے لے کر رونا شروع ہو گئی۔دکھ سے اس کا سینہ جیسے پھٹنے کو آچکا تھا۔اپنی بات ادھوری چھوڑ کر وہ جیسے ہچکیوں اور آنسوؤں کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی۔
پنل کی جان گویا زیبو کے جسم میں تھی۔۔اس نے جلدی سے زیبو کا سر اپنے بازو پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے آنسو پونچھنے لگا۔’’ دیکھ زیبو۔۔ اگر تم اس طرح روؤ گی تو پھر میں بھی دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دوں گا۔۔ کچھ ہمت کرزیبو۔۔‘‘پنل کی آنکھوں میں بھی آنسو آنا شروع ہو گئے تھے۔
’’اچھا چلو میں تمہاری ہر بات ماننے کو تیار ہوں۔۔ میں اب اپنے دکھ پر روؤں گی بھی نہیں۔۔ لیکن تم بھی مجھ سے ایک وعدہ کرو۔۔ تم بھوری گائے کو نہیں بیچو گے۔۔تم اگرحوصلے کی بات کرتے ہو تو میری بات بھی حوصلے کے ساتھ سنو۔۔ میں اب نہیں بچ سکتی۔۔میرے مرنے کے بعد میرے حصے کا پیار بھی تم نے رابیل کو دینا ہو گا۔۔ میری بالیاں بیچ کر تم رابیل کو ان کے بدلے جھمکے بنوا دینا۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے زیبو اپنے کانوں کی بالیوں کو ٹٹولنے لگی۔۔ آنسوؤں کی دھار ایک مرتبہ پھر اس کے گالوں پر بہنے لگی۔۔
’’ مجھے بہت چاہ تھی پنل۔۔ کہ میں اپنی رابیل کو جھمکے پہنے، بھاگتا دوڑتا اور ان جھمکوں کو جھٹکتادیکھوں۔۔ اسکو خوشی سے کھیلتا کودتا دیکھ کر اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کروں۔۔مگر قسمت پر کس کا زور ہے۔۔پنل۔۔ مجھے آج رابیل اس قدر کیوں یاد آ رہی ہے۔۔ کہیں آج میری زندگی کا آخری دن تو نہیں۔۔۔؟؟‘‘
پنل نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا لیااور موٹے موٹے آنسو اس کی آنکھو ں سے ٹپکنا شروع ہو ئے تو ان میں سے کچھ زیبو کے رخسار پر جا پڑے۔ زیبو یہ دیکھ کر ہنس دی اور پنل کے ہاتھوں کو چومنا شروع کر دیا۔
’’ مرد رویا نہیں کرتے پنل۔۔۔۔تم تو شیر جوان کہلاتے ہو۔۔ اگر تم بھی حوصلہ ہار بیٹھے تو رابیل بھلا کیسے جی پائے گی۔۔۔؟میں تو تم دونوں کی زندگی کا صدقہ ہوں۔۔ مجھ عاجز اور بیمار کی بس یہی دعا ہو گی کہ خدا تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کوئی دکھ تا قیامت تمہارے قریب نہ آسکے۔‘‘۔۔ اس نے پنل کے گلے میں باہیں ڈال کر ضبط کے سارے بندکچھ ایسے توڑے کہ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔
’’ خدا ہم غریبوں کی دعا سنتا تو نہیں، لیکن پھر بھی مجھ عاجز کی بس یہی دعا ہے کہ مرنے لگوں تو میری باہیں ایسے ہی تمہارے گلے میں ہوں۔۔۔میں یہاں ڈیرہ میں کونج کی مانند کرلاتی ہوئی مر جاؤں گی۔۔ رابیل کہیرے میں در بدر ہو جائے گی اور میرے ماں باپ اور بھائی۔۔ جھوک نورے والی میں مجھے روتے رہ جائیں گے۔۔۔خالہ گانہور سچ ہی کہتی تھی کہ ہمارے نصیب کونج کی طرح کے ہوتے ہیں، جدائی کی ماری کونج کی طرح۔۔‘‘
پنل ۔۔ جو پہلے ہی غم سے بھرا کھڑا تھا، زیبو کی یہ باتیں برداشت نہ کر سکا اور کسی بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔سورج پیار اور دکھ کے ملے جلے اس منظر کو دیر تک دیکھتا رہا لیکن اپنے ضبط پر مذید قابو نہ رکھنے کے خوف نے اسے کوہ سلمان کی چوٹیوں کے پیچھے چھپ جانے پر مجبور کر دیا۔ہسپتال کے برآمدے میں پڑے زیبو کے آس پاس موجود مریض اور ان کے لواحقین ان دونوں کو اس طرح روتا دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ایک عورت اٹھ کر ان کے قریب آئی اور تسلی دینے لگی تو پنل کی جیسے دھاڑ نکل گئی۔ کہنے لگا۔۔
’’خالہ۔۔ تم ہی اسے سمجھاؤ۔۔ یہ بار بار اپنے مرنے کی باتیں کر کے مجھے کیوں ایسے رلا رہی ہے۔۔مجھے ڈاکٹر صاحب نے بتایا ہے کہ اس کے لئے لاہور سے ٹیکے منگوا لیں تو یہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔۔ مجھے چاہے سولی پر لٹکنا پڑ گیا تو بے خوف لٹک جاؤں گا لیکن اس کا علاج ہر حال میں کرواؤں گا۔۔‘‘
زیبو ایک بار پھر ہنس دی اور اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔۔’’او پگلے۔۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں تمہاری خاطر عزرائیل ؑ کو بھی واپس موڑ دیتی۔۔اچھا اب شام ہو رہی ہے، اس وقت رونا دھونا نیک شگون نہیں ہوتا۔۔تم جاؤ اور بازار سے کھانا لے کر کھا لو۔۔ میرے لئے کچھ مت لانا۔۔ میرے لئے یہ دو کیلے کافی ہیں۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے سرہانے پڑے کیلے اٹھا لئے۔پھر کہنے لگی۔۔
’’یہ دیکھو۔۔ دو نہیں ۔۔ یہ تو چار کیلے پڑے ہیں۔۔یہ لو ، دو تم کھا لو۔۔ میرے حلق سے تو کچھ اتر ہی نہیں رہا۔۔ میرے لئے بس دو ہی بہت ہیں۔۔‘‘
’’ نہیں ۔۔ میں نہیں کھاتا، یہ سیب کیلے تو بیماروں کے لئے ہوتے ہیں۔یہ میں تمہارے لئے لایا تھا۔تم خود یہ کھاؤ اور کچھ دیر کے لئے آرام کر لو۔میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔۔‘‘۔
پنل ہسپتال سے نکل آایا اور بجائے کسی ہوٹل کو جانے کے ، وہ تیز تیزقدموں کے ساتھ چلتا ہوا شہر کی شمالی سڑک پر جا پہنچا۔مغرب کے بعد شہر کی نواحی سڑکوں پر مشکل سے کوئی ایک آدھ آدمی ہی نظر آتا تھا۔وہ کچی سڑک پر چلتاہوا مریالی کے پاس شیشم کے درختوں کے نیچے سے گزراتواندھیرا اس وقت کافی پھیل چکا تھا۔چاند کے طلوع ہونے میں ابھی کچھ دیرباقی تھی۔
اس نے دل ہی دل میں حساب لگایا کہ آج چاند کی اور نہیں تو اٹھارہ یا انیس تاریخ تو ضرور ہو گی۔پھر وہ یہ حساب کتاب کرتے خود کلامی کرنے لگا۔۔’’بدھ سے بدھ تک آٹھ۔۔ جمعرات نو۔۔جمعہ دس۔۔یعنی آج زیبو کو ہسپتال میں داخل ہوئے دس دن ہو چکے ہیں۔جس رات ہم اسے ہسپتال لائے تھے تو اس وقت فضلو جت نے بتایا تھا کہ آج چاند کی نویں تاریخ ہے۔۔ اس لحاظ سے آج چاند کی انیس اور یا پھر بیس تاریخ ہونی چاہئے۔۔‘‘
وہ تیز تیز چلتااور خود سے باتیں کرتا ہوا بہت دور نکل آیا تھا۔آس پاس کھڑے کیکر، بیری اور ببول کے درختوں کے ہیولے نہایت خوفناک منظر پیش کر رہے تھے۔ بیساکھ کا مہینہ چل رہا تھا۔سڑک کنارے کہیں گندم کی فصل یا کھیت کا کنارہ نظر آجاتا تو وہ سمجھ جاتا کہ یہ کسی کا سیراب رقبہ ہے۔لوگ ان دنوں فاصلوں کا اندازہ انہی کھیت کھلیانوں، درختوں، زرخیز رقبوں اور یا پھر سڑک کنارے آباد بستیوں ہی سے لگاتے تھے۔گو کہ ہندو اپنے رقبے، بستیاں اور گاؤں چھوڑ چھاڑ کر سرحد پار چلے گئے تھے لیکن یہ تمام مقامات ابھی بھی انہی ہندوؤں کے نام سے موسوم تھے۔چاہ روچی رام، چاہ جیسے والا، چاہ کھتری والا ، وغیرہ وغیرہ۔۔سڑک کے دونوں کناروں پر جتنے بھی چاہ تھے ان سب کی اپنی ایک معاشی اور معاشرتی حیثیت بہر حال تھی۔اس کچی سڑک پر کوئی ایک آدھ گاڑی ہی چلا کرتی تھی۔زیادہ تر لوگ اس وقت اونٹوں، خچروں، بیل گاڑیوں اور یا پھر گھوڑوں پر سفر کیا کرتے تھے۔سردیوں کی ٹھٹھرتی طویل راتیں ہوتیں یا کہ گرمیوں کے سلگتے ہوئے لمبے دن، برسات کے گرجتے چمکتے برستے بادل ہوتے یا کہ اس کے بعد روح کو قبض کرتا حبس کا عالم، بار بردار اونٹوں کا سفر ہمیشہ سے رات ہی کے اوقات میں کیا جاتا تھا۔۔البتہ بیساکھ کے دنوں میں لوگوں کی اکثریت فصلوں کی کٹائی میں مصروف ہو جاتی تھی۔کسان گندم کی ڈھیریوں کو سیٹھوں کے گوداموں تک پہنچانے میں جت جاتے تو سیٹھ لوگ فصل کی وصولی میں مصروف رہتے۔۔ اس لئے اس موسم میں سڑکوں پر اونٹوں کی قطاریں ناپید ہو جاتی تھیں۔
چاند اب کافی چڑھ آیا تھا۔۔ پنل اس وقت بی بی والا کے علاقے کے پاس سے گزر رہا تھا ۔۔ دور کہیں سے کسی اونٹنی کے گلے میں بندھی گھنٹی کی آواز ہیبت ناک خاموشی اور سناٹے کو شکست دیتی سنائی دے رہی تھی۔اسی گھنٹی کی آواز کے ساتھ ساتھ اونٹنی کا سوار اپنا دل بھی بہلاتا سنائی دے رہا تھا۔۔
’’ڈٖاچی والیا موڑ مہار وے
تیڈٖی ڈٖاچی دے گٖل وچ ٹلیاں
وے میں پیر مناونْ چلی آں
جیندے نال ہے بٖیڑا پار وے
وے ڈٖاچی والیا موڑ مُہار وے
اونٹنیوں کے سوار یہ مسافر بھی بہت عجیب ہوا کرتے ہیں۔۔چاہے وہ تنہا محو سفر ہوں یا کہ ان کا سفر قافلے کی شکل میں ہو،مسافتیں دن کی ہوں یا کہ وہ رات کے راہی ہوں۔۔جب یہ لوگ اونٹنی کی کوہان پر سوار ہوتے ہیں تو ان کا اندر کا فنکار انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگتا ہے ،جو اپنی فنکارانہ خصلت سے مجبور ہو کر وقت اور ماحول کی مناسبت سے اپنے اندر کا درد ہونٹوں پر لانے میں دیر نہیں لگاتا۔نا ہی عمر کی کوئی قید اور نا ہی کسی سر تال کی کوئی ضرورت۔۔بس اونٹنی کے کوہان پر بیٹھنے والے کی یہ فطرت سمجھی جاتی ہے کہ دوران سفر آنے والا ہر ہچکولا، اس فنکار کے اندر کے نغموں کو باہر اچھالتا جاتا ہے۔اس لئے دکھ درد سے بھرا سینہ ہو کہ عشق میں مبتلا کوئی دل۔جوانی کی مستی میں ڈوبا کوئی گبرو ہو کہ زندگی کی تلخیو ں سے نا آشنا کھلنڈری عمر کا کوئی کم سن۔۔اونٹنی کی کوہان اسے گلوکار ضرور بنا دیتی ہے۔
میڈٖی ڈٖاچی دے گٖل وچ ڈھولنْاں
کوڑے سجٖنْاں دے نال نئیں بٖولنْاں
پار وَسیّ اُروار وے
وے ڈٖاچی والیا موڑ مہار وے
ایسی ہی گلوکاری کرتا اونٹنی سوار اب پنل کے قریب پہنچ چکا تھا۔۔ چاند کی چاندنی میں اس نے پنل کو دیکھا تو وہیں سے آواز لگائی۔۔’’کون ہے بھائی۔۔؟‘‘
’’میں۔۔۔ پنل ہوں۔۔‘‘
’’خیریت تو ہے۔؟ آدھی رات کو پیدل گھوم رہے ہو۔۔؟؟
سوار اونٹنی روک کر نیچے اتر آیا۔۔
’’ ہاں ہاں۔۔ خیر ہی ہے۔۔‘‘
پنل نے جواب دیا اور پھر دونوں نے ایک دوسرے علیک سلیک کی۔
’’ میری گھر والی ہسپتال داخل ہے، کچھ خرچے پیسے کا بندوبست کرنے گاؤں جا رہا تھا۔۔‘‘
’’ اللہ خیر کرے گا میرے دوست۔۔کہاں کے ہو خیر سے ۔۔؟؟‘‘
اونٹنی والے نے لکڑیوں کے گٹھے سے بندھی پانی کی مشک کھولتے ہوئے پوچھا۔۔
’’کہیرے سے ہوں۔۔‘‘
’’واہ بھئی واہ۔۔ کہیں تم وہ میلے میں جوہر دکھانے والے پنل تو نہیں ہو۔۔؟؟آج تو تم پہچانے ہی نہیں جا رہے۔۔ یہ لو پانی پیو۔۔میرا نام عطاء محمد ہے۔۔ میں یہاں لنڈا شریف سے لکڑیاں لے کر آرہا ہوں۔۔‘‘ عطاء محمد پنجو ں کے بل کھڑا ہو کر اونٹنی کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لکڑیوں کے گٹھے میں سے کوئی چیز نکالنے کی وشش کرنے لگا۔اونٹنی نے بے چین ہو کر گردن گھمائی اور اپنے منہ سے عطاء محمد کی پیٹھ سہلانے لگی۔۔۔
عطاء محمد نے ایک کپڑے میں بندھا ڈھوڈا نکال لیا تھا۔اس نے اسی کپڑے کے دوسرے پلو سے بندھا گڑ نکال کر کچھ ڈھوڈا او ر گڑ کی ایک ڈلی پنل کی جانب بڑھا دی۔
’’ یہ لو میرے دوست۔۔ اسے کھاتے جاؤ، سفر اچھا گزر جائے گا۔۔‘‘
’’ نہیں نہیں میرے دوست۔۔ راستے میں تمہیں بھی تو بھوک لگے گی۔۔‘‘
’’او نہیں یار۔۔ تم لو۔۔ میں تو ابھی بس تھوڑی دیر میں شہر پہنچ جاؤں گا۔۔‘‘
عطاء محمد نے باقی ماندہ ڈھوڈا اور گڑ پھر سے کپڑے میں باند ھ کر لکڑیوں کے گٹھے پر اچھال دیااور اونٹنی کی گردن کا سہارا لیتے ہوئے پھر سے سوار ہو گیا۔
’’ اچھا سائیں۔۔ اللہ تمہاری خیر کرے۔‘‘
’’شکریہ یار۔۔ا للہ تمہیں کسی کا محتاج نہ کرے۔۔‘‘
سورج نے افق سے ابھی جھانکنا شروع ہی کیا تھا کہ پنل اپنی جھوک پہنچ گیا۔اس کا پالتو کتا گھر کے دروازے پر سورہا تھا۔پنل کے پاؤں کی آہٹ سن کر وہ دوڑ کر اس کے پاؤں میں لوٹنے لگا۔وہ پنل کے آنے کی خوشی میں ادھر ادھر بھاگتا اورپھر بار بار قریب آکر اس کے پاؤں چاٹنے لگتا ۔۔اسکی اٹھکیلیوں سے تنگ آکر پنل نے اسے لات سے مار بھگایااور گھر کے صحن میں آگیا۔اسے دیکھتے ہی سب گھر والے اس کے گرد جمع ہو گئے اورزیبو کی طبیعت کا پوچھنے لگے۔بہن اپنے بھائی کی بلائیں لینے لگی۔رابیل سوئی ہوئی تھی۔پنل نے اسے اپنی باہوں میں لیا تو وہ جاگ گئی اور رونے لگی۔رابیل حال احوال پوچھنے کے قابل تو نہ تھی لیکن اس کی سوال کرتی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی ہو۔۔پنل اسے گود میں لے کر دیر تک پیار کرتا رہا۔پھر اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا۔مگر جب رابیل اماں اماں پکارتے ہوئے پنل کے گلے میں باہیں ڈال کر رونے لگتی تو پنل کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا۔۔ وہ رابیل کے ننھے ننھے ہاتھوں کو دعا کے انداز میں آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے کہنے لگتا۔۔
’’میرے اللہ۔۔گناہوں سے پاک اس معصوم کی ہی فریاد سن لے۔۔۔‘‘
پھر وہ رابیل سے کہتا۔۔’’میری بیٹی۔۔ میرا تو بس نہیں چلتا۔۔ تم ہی اللہ سے دعا مانگو۔۔ کیا معلوم وہ تیری دعا قبول کر لے۔۔‘‘
بھوری گائے ۔۔ باڑے میں بندھی کھڑی تھی۔۔پنل کچھ دیر اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے پیار کرتا رہا۔۔’’تم بھی مجھے اپنی اولاد ہی کی طرح عزیز ہو۔۔ لیکن کیا کروں۔۔ میں مجبور ہوں۔ تمہیں بھی داؤ پر لگا دیتا ہوں کہ شاید میری زیبو کو اللہ نئی زندگی دے دے۔۔‘‘
پنل گائے کی رسی تھامے نکل کھڑا ہوا۔۔رابیل اماں اماں پکارتی اپنی پھوپھی کی گود میں روتی رہ گئی اور ان کا پالتو کتا پنل کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔عصر تک بھوری گائے بِک چکی تھی۔کتے کو پنل نے پتھر مارتے ہوئے گھر کی جانب بھگا دیا تھا۔ظہر کے بعد سڑک ویران ہی رہتی تھی۔۔ کسی گاڑی کی آمدو رفت کا امکان نہیں تھا۔پنل اللہ کا نام لے کر تیزی سے چلتا ہوا جنوب کی جانب نکل کھڑا ہوا۔اسکی جیب میں پچاس روپے موجود تھے لیکن اس کے چہرے پر کسی قسم کی خوشی کا شائبہ تک نہ تھا۔۔۔ماڑہ، پروآ، ببر۔۔ ایک ایک گاؤں کو عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کے قریب ہوتا چلا جا رہا تھا۔اندھیرے نے سب منظر اپنی سیاہ چادر میں چھپا رکھے تھے۔چاند نکلنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا۔
جلدی چلنے کی کوشش میں اسے ایک دم سے ٹھوکر لگی ۔۔ لیکن اس نے خود کو سنبھال لیااور سفر جاری رکھا۔سوچ کی گہری کھائی میں وہ اپنی زیبو کوتلاش کرنے لگا۔۔اسے ایک بارپھر ٹھوکر لگی۔۔تھکاوٹ اور مسلسل جاگنے کی وجہ سے پنل کی ٹانگیں تقریباََ سن ہو چکی تھیں۔اس لئے اس کے قدم۔۔ بہک کر ادھر ادھر پڑھ رہے تھے۔پھر بھی اسکی کوشش تھی کہ وہ اڑ کر اپنی زیبو کے پاس پہنچ جائے۔لیکن تیسری ٹھوکر لگتے ہی اسے مائی وسائی یاد آگئی۔۔
’’ کالی زبان ہے کم بخت کی۔۔ ہمیشہ پیچھے سے آواز دے گی۔۔‘‘
پنل کو یقین ہو گیا تھاکہ بار بار لگتی ٹھوکریں کوئی نیک شگون نہیں۔۔ اور اسکی ذمہ دار مائی وسائی کی کالی زبان ہی ہے۔۔’’کتنی دفع اس کمینی کو منع کیا ہے کہ پیچھے سے آواز مت دیا کرو۔۔‘‘
پنل رات کے اندھیرے میں خود کلامی کرتا اور ماسی وسائی کو گالیاں دیتا۔۔ چلتا رہا۔لیکن مائی وسائی اب اس کے ذہن پر کچھ اس طرح سوار ہو چکی تھی کہ اس کی آواز اب اس کے کانوں میں صاف پڑتی محسوس ہو رہی تھی۔۔اسے گھٹاٹوپ اندھیرے میں بھی مائی وسائی کے الفاظ چلتے پھرتے ، اسکے لئے ٹھوکریں پیدا کرتے دکھائی دے رہے تھے۔۔
’’او پنل۔۔۔ٹھہرو تو سہی۔۔۔مجھے بھی تو بتاتے جاؤ کہ اب زیبو کا کیا حال ہے۔۔؟تم رک کیوں نہیں رہے۔۔؟ اس کی حالت بہت زیادہ خراب تو نہیں۔۔؟
اچھا جاؤ جاؤ، جلدی جاؤ۔۔ اس بے چاری کو موت تو کم از کم تمہاری باہوں میں نصیب ہو۔۔نہیں تو وہ بے چاری وہاں لاوارث موت مر جائے گی اور تم یہاں ٹھوکریں کھاتے رہ جاؤ گے۔۔‘‘
پنل اس وقت تو اسکی بات سنی ان سنی کر کے چل پڑا تھا لیکن۔۔۔اب مائی وسائی کے الفاظ زیادہ واضح ہو کر اس کی سماعتوں کو پریشان کر رہے تھے۔۔چل چل کر پنل کے پاؤں اب سوجھ کر غبارے کی طرح پھول چکے تھے اور اس کے بازو اب اسے منوں کا وزن محسوس ہو رہے تھے۔چاند تو نکل آیا تھا لیکن اب اس سے قدم نہیں اٹھائے جا رہے تھے۔آخر وہ تھک ہار کر سڑک سے کچھ دور ایک مٹی کے ٹیلے پر سر کے نیچے پگڑی رکھ کر لیٹ گیا۔چاند کی ہلکی ہلکی چاندنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔دور سے کہیں گیدڑوں کی چیخ چہاڑ بھی آتی سنائی دے رہی تھی۔جیب میں پچاس روپے کی موجودگی اسے چوروں ڈاکوؤں کے خطرے کا بھی شدت سے احساس دلا رہی تھی۔لیکن، جھینگروں کی تیز آوازوں اور مچھروں کی بھنبناہٹ کے با وجود نہ جانے کیسے اسے نیند نے آلیا۔دو راتوں تک مسلسل جاگنے اور پھر بنا کسی آرام کے مسلسل پیدل چلنے کی تھکاوٹ ۔۔ زیبو تک پہنچنے کی اس کی تمام تر کوششوں پر حاوی ہو گئی اور وہ بے سدھ ہو کر سو گیا۔۔
پنل کی اس وقت آنکھ کھلی جب دن کافی چڑھ چکا تھا۔اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔
’’ برا ہو اس شیطان مردود کا۔۔اتنی دیر ہو گئی ، اللہ کرے زیبو خیریت سے ہو۔‘‘
پنل نے جلدی جلدی پگڑی سر پر رکھی اور سڑک کی جانب دوڑا۔۔ لیکن اب کی بار اسے ایسی ٹھوکر لگی کہ یہ منہ کے بل زمین پر آ رہا اور اسکی پگڑی دور جا گری۔
’’ لعنت ہو مائی وسائی کے سب خاندان پر۔۔‘‘پنل نے مائی وسائی کے خاندان کو کئی گالیوں سے نوازا اور پگڑی کو سر پر لپیٹتے ہوئے ایک بار پھر چل پڑا۔
’’کمینی ۔۔کالی زبان والی۔۔ کبھی بھی اچھی بات منہ سے نہیں نکالے گی‘‘۔۔سڑک تک پہنچنے سے پہلے اسے ہلکی سی ایک اور ٹھوکر لگی تو ایک مرتبہ پھر مائی وسائی کی شامت آ گئی۔شہر ابھی بھی کافی دور تھا۔اسی دوری پر موجود ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری ہسپتال کے برآمدے میں پڑی چارپائی پر ایک عورت پر سفید رنگ کی چادر ڈال دی گئی تھی۔ چارپائی کے سرہانے کی جانب زمین پر دو کیلے گرے پڑے تھے اور ایک نرس۔۔زیبو کے کانوں سے بالیاں اتار کر لوگوں سے اس کے وارث کا پوچھ رہی تھی۔۔۔
***************

حصہ